ذمہ داروں کو ایوان انصاف تک لایا جائے
بدھ کو پارلیمان کے دونوں ایوانوں میں بعض ارکان نے سپریم کورٹ پر زور دیا ہے کہ وہ بارہ مئی دو ہزار سات میں کراچی میں ہونے والی ہلاکتوں کا نوٹس لے اور ذمہ داران کو انصاف کے کٹہرے میں لایا جائے۔

ایوان بالا سینیٹ میں عوامی نیشنل پارٹی کے سنیٹر حاجی عدیل نے کہا کہ آئے روز سپریم کورٹ کسی نہ کسی معاملے کا از خود نوٹس لیتی ہے لیکن بارہ مئی کے واقعہ کا تاحال نوٹ نہیں لیا، کیا عدالت کو یہ یاد کرانا پڑے گا کہ یہ بھی اہم مسئلہ ہے۔؟
جماعت اسلامی کے سنیٹر پروفیسر خورشید نے بارہ مئی کے ملزمان کو سزا دینے کے حاجی عدیل کے مطالبے کی حمایت کی لیکن انہوں نے کہا کہ ذمہ داروں کا تعین کرنے کے لیے عدالتی کمیشن بنایا جائے جوکہ حکومت کا کام ہے۔
سنیٹر پرویز رشید نے اس تناظر میں سابق فوجی صدر پرویز مشرف پر کڑی تنقید کی اور کہا کہ انہوں نے اپنے اقتدار کو طول دینے کے لیے قتل عام کروایا اور انہیں سزا ملنی چاہیے۔
ایوان زیریں قومی اسمبلی میں نکتہ اعتراضٰ پر عوامی نیشنل پارٹی کی رکن بشریٰ گوہر نے کہا کہ تین سال ہوچکے ہیں لیکن بارہ مئی کے سانحہ کی تحقیقات نہیں ہوئی۔
بدھ کو پارلیمان کے دونوں ایوانوں میں صدر کے مشترکہ اجلاس سے خطاب پر اظہار تشکر کی حکومتی قرارداد پر بحث ہوتی رہی۔ قومی اسمبلی میں بحث کے دوران مسلم لیگ (ن) کے ایاز امیر نے کہا کہ اٹھارویں ترمیم کی منظوری کے بعد بہتر حکمرانی اور عوامی مسائل کے حل کے بارے میں کوئی پیش رفت نہیں ہوئی۔
ایاز امیر نے کہا کہ لاپتہ افراد کا معاملہ ہو یا کوئی اور حکومت وہ مسائل حل نہیں کرتی تو پھر عدلیہ اپنے اختیارات سے تجاوز کرتی ہے۔ تاہم انہوں نے کہا کہ عدلیہ کو ’ایگزیکیٹو اتھارٹی‘ نہیں بننا چاہیے۔ انہوں نے صحافی شکیل ترابی کے چار ماہ سے لاپتہ بیٹے کو رہا کرانے کا مطالبہ بھی کیا۔
پیپلز پارٹی کے عبدالقادر پٹیل نے صدر آصف علی زرداری کا بھرپور دفاع کرتے ہوئے مسلم لیگ (ن) کے اراکین کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ انہیں پیپلز پارٹی کی قیادت سے تکلیف ہے۔ ان کے مطابق جب ذوالفقار علی بھٹو اور بینظیر بھٹو زندہ تھے تو انہیں یہ خراب کہتے رہے اور جب وہ دنیا میں نہیں ہیں تو کہتے ہیں کہ وہ بہت اعلیٰ لیڈر تھے۔
پیپلز پارٹی کے رکن نے چوہدری نثار علی خان کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ انہیں ان کی یہ بات سن کر حیرانی ہوتی ہے کہ آئین کی تشریح کا حق عدلیہ کو حاصل ہے۔ انہوں نے کہا کہ دنیا میں کہیں اس بات کی مثال نہیں ملتی کہ کسی مصننف کو اپنی تحریر کی تشریح کا اختیار نہ دیا جائے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
انھوں نے کہا ’مرزا غالب سے کہیں کہ کلام تم لکھو تشریح ہم کریں گے۔۔۔آئین کی مصننف پارلیمان ہے اور ان سے زیادہ بہتر آئین کی تشریح کوئی اور نہیں کرسکتا‘۔



















