بی بی سی بلیٹن کی بندش، رپورٹ طلب
پاکستان الیکٹرانک میڈیا ریگولیٹری اتھارٹی (پیمرا) کے کہنے پر بی بی سی کے تمام پارٹنر چینلز نے تحریری اجازت کے لیے تمام ضروری کاغذات پچھلے سال اکتوبر میں پیمرا کے دفتر جمع کرا دیے تھے صدر آصف علی زرداری نے حکومت کی جانب سے پاکستان میں اکثر نجی ایف ایم سٹیشنز سے بی بی سی اردو سروس کی خبریں بند کرنے پر رپورٹ طلب کر لی ہے۔
<link type="page"><caption> بی بی سی کے بلیٹن پر پابندی</caption><url href="http://www.bbc.co.uk/urdu/pakistan/2010/04/100427_bbc_fm_restrictions.shtml" platform="highweb"/></link>
بی بی سی گوبل نیوز کے ڈائریکٹر پیٹر ہوروکس نے گزشتہ دنوں صدر کے علاوہ وزیر اعظم، وزیر اطلاعات سمیت چند دیگر اہم حکومتی اہلکاروں کو ایف ایم کی بندش سے متعلق ایک مکتوب میں ان کی توجہ اس جانب مبذول کروائی گئی ہے۔
خط میں کہا گیا ہے کہ ریگولیٹری اتھارٹی پمرا کو ان کے نجی پارٹنرز نے تمام ضروری دستاویزات گزشتہ برس اکتوبر میں مہیا کر دی تھیں لیکن ابھی تک گیارہ میں سے محض دو ایف ایم ساتھیوں کو اجازت نامے جاری کئے جاسکے ہیں۔
صدارتی اہلکاروں نے بی بی سی کو بعد میں بتایا کہ صدر کے حکم پر گزشتہ بدھ اس معاملے پر رپورٹ طلب کی گئی ہے اور تین چار روز میں اس کا فیصلہ کر دیا جائے گا لیکن ابھی تک کسی پیش رفت کی اطلاع نہیں ملی ہے۔
اس سے قبل بی بی سی کی عالمی سروس نے پاکستان میں اس کے چونتیس میں سے چوبیس پارٹنر سٹیشنز کو اردو سروس کے نیوز بلیٹن نشر کرنے سے روکنے پر مایوسی کا اظہار کیا تھا۔ ایک بیان میں بی بی سی نے کہا ہے کہ اسے یقین ہے کہ جن چوبیس پارٹنر سٹیشنز کو اردو سروس کے نیوز بلیٹن نشر کرنے سے روکا گیا ہے انھوں نے گزشتہ سال اکتوبر میں پیمرا کو درکار تمام ضروری کاغذی کارروائی مکمل کی تھی۔
بی بی سی نے پاکستانی حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ پارٹنر سٹیشنز کو اردو کے نیوز بلیٹن نشر کرنے کی اجازت دے تاکہ پاکستان میں سامعین کو بی بی سی کی غیر جانبدار اور ادارتی اعتبار سے آزادانہ خبروں تک رسائی حاصل ہو سکے۔
بی بی سی نے تشویش ظاہر کی ہے کہ پیمرا کے فیصلے سے پاکستان میں وہ لاکھوں سامعین سب سے زیادہ متاثر ہوں گے جو غیر جانبدار خبروں اور اطلاعات کے لیے بی بی بی سی کا رخ کرتے ہیں۔
گزشتہ روز پاکستان کے وزیرِاطلاعات قمر زمان کائرہ نے بی بی سی اردو سروس کے چونتیس میں سے چوبیس ایف ایم پارٹنر چینلز کو اردو سروس کے پانچ منٹ دورانیے کے نیوز بلیٹن نشر کرنے کی تحریری اجازت دینے سے انکار کر دیا تھا۔ ان پارٹنر سٹیشنز کو پچھلے مہینے کی ستائیس تاریخ کو یہ کہہ کر بی بی سی کی خبریں نشر کرنے سے روکا گیا تھا کہ کاغذی کارروائی کے مکمل ہونے تک وہ بی بی سی کی خبریں نشرکرنا بند کر دیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
تاہم کئی روز تک وزیر اطلاعات کی مصروفیت کو وجہ بنا کر بی بی سی کے نمائندے کو ٹالا جاتا رہا۔
جب پیمرا سے رابطہ کیا گیا تو بی بی سی کو بتایا گیا کہ اب تحریری اجازت کے بغیر کسی ایف ایم چینل کو بی بی سی کی خبریں نہیں چلانے دی جائیں گی۔ لیکن اس کے ساتھ ہی یہ بھی کہا گیا کہ جیسے ہی وفاقی وزیر برائے اطلاعات کو وقت ملے گا وہ اس معاملے میں کوئی فیصلہ کریں گے۔
یاد رہے کہ بی بی سی اس سے قبل سندھ ہائی کورٹ میں اس قسم کی پابندی کے خلاف عدالتی کیس جیت چکی ہے۔



















