کوئٹہ میں تاجروں کی ہڑتال، احتجاج

    • مصنف, ایوب ترین
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کوئٹہ
  • وقت اشاعت

جمعرات کو بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ میں تاجروں کی تنظیم کی اپیل پر بجلی کی لوڈشیڈنگ، کسٹم حکام کے رویے اور ٹارگٹ کلنگ کے واقعات کے خلاف مکمل شٹرڈاؤن ہڑتال کی گئی۔

کوئٹہ ہڑتال
،تصویر کا کیپشنکوئٹہ شہر میں مکمل سٹر ڈاؤن ہڑتال

اندرون بلوچستن میں بھی تاجروں اور زمینداروں نے مکمل پہیہ جام ہڑتال کی جس سے افغانستان میں نیٹو افواج کے لیے سامان لے جانے والے سینکروں کنٹینرز بھی کے رہے۔

جمعرات کو کوئٹہ شہر میں تمام دکانیں اور کاروباری مراکز بند رہے اور سڑکوں پر ٹریفک نہ ہونے کے برابر تھا۔ ہڑتال کی وجہ سے کئی سکول بھی بند رہے۔

اس موقع پر حکومت نے سخت حفاظتی انتظامات کیے تھے تاہم کوئی ناخوشگوار واقعہ پیش نہیں آیا۔ بعد میں تاجروں نے باچاخان چوک سے کسٹم کے عملے کے خلاف ایک احتجاجی ریلی نکالی اور ریلی کے شرک بلوچستان اسمبلی کے سامنے احتجاج کرنے کے لیے گریمر سکول کے قریب پہنچ گئے تو پولیس نے انہیں روک لیا جس کے بعد ریلی ایک مظاہرے میں تبدیل ہوگئی۔ مظاہرے سے خطاب کرتے ہو ئے انجمن تاجران بلوچستان کے صدر رحیم کاکڑ نےبلوچستان میں کسٹم کلکٹر کے رویے کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے مطالبہ کیا کہ حکومت کسٹم کلکٹر کا فوری طور پر بلوچستان سے تبادلہ کر دے۔

انہوں نے الزام لگایا کہ ’ایک شخص کی وجہ سے کوئٹہ میں امن و امان کا مسئلہ بنا ہوا ہے انہوں نے کہا کہ ایک طرف تو وہ افغانستان اور ایران کے لیے جاری سمگلنگ میں بڑھ چڑھ کر رشورت لے رہا ہے تو دوسری جانب وہ کوئٹہ کے مارکٹوں میں غیر قانوق چھاپے مار کر عام دکانداروں سے رشوت لے رہے ہیں۔‘

انہوں نے کسٹمز حکام پر یہ الزام بھی لگایا کہ کابلی گاڑیوں یعنی افغانستان سے سمگل ہونے والی گاڑیوں کے سلسلے میں تاجروں کے خلاف کارروائی کی جاتی ہے اور یوں وہ تنگ کرنے ے لیے کاغذات والی گاڑیوں کو انکوائری کے نام پر ایک ایک ماہ تک بند رکھتے ہیں۔ انہوں نے مزید یہ الزام لگایا کہ حکام دکاندار کے رشوت دینے پر اسکی گاڑی کو چھوڑ دیتے ہیں۔ رحیم کاکڑ نے دھمکی دی کہ جب تک کسٹم کلکٹر کے خلاف کارروائی نہیں ہو گی اس وقت تک تاجروں کا احتجاج جاری رہے گا۔

اس کے بعد صوبائی حکومت کے تین وزراء اسفند یار کاکڑ، مولانا عبدالباری اور طاہرمحمود نے مظاہرے میں آکر مظاہرین کو حکومت کی جانب سے تسلی دی کہ وہ تاجروں کے مطالبات کو پاکستان کی مرکزی حکومت تک پہنچا دیں گے۔

اس موقع پر اپنے خطاب میں صوبائی وزیر مولانا عبدالباری نے کہا کہ بلوچستان کے راستے بڑے پیمانے پر افغانستان اور ایران کو مال مویشی سمگل ہو رہے ہے لیکن اس کے خلاف کسٹم نے کوئی کارروائی نہیں کی ہے جس کے باعث پاکستان میں گوشت کی قیمتوں میں روز بروز اضافہ ہو رہا ہے۔ مولانا باری کے مطابق بلوچستان اسمبلی نے اس سلسلے میں ایک رپورٹ بھی طلب کرلی ہے تاکہ یہ معلوم ہو سکے کہ کون لوگ اس کاروبار میں ملوث ہیں۔ انہوں نے تاجروں کو یقین دھانی کرائی کہ بلوچستان میں کسی بھی رشوت خور افسر کو برداشت نہیں کیا جائے گا۔ صوبائی وزیر اسفند یار کاکڑ نے کہا کہ ’صوبائی حکومت جس بھی افسر کو اسلام آباد سے کوئٹہ لاتا ہے اس کا بنیادی مقصد یہ ہوتا ہے کہ ہمارے عوام کے مسائل حل ہوں اور اگر کوئی افسر ہمارے لوگوں کے لیے مسائل پیدا کرتا ہے تو انہیں برداشت نہیں کیا جائے گا۔‘

اس کے بعد انجمن تاجران نے حکومت سے مذاکرات کے لیے ایک کمیٹی بنا دی ہے اور اب اس سلسلے میں تاجروں اور حکومت کے درمیان مذاکرات ہونگے۔

تاجروں کے احتجاج کے تحت زمینداروں اور تاجروں نے لکپاس اور کولپور کے مقام قومی شاہرائیں بھی بند رکھی ہیں جس کے باعث نہ صرف کوئٹہ کا سڑک کے ذریعے ملک کے دوسرے صوبوں سے رابطہ منقطع رہا بلکہ بلوچستان کے راستے افغانستان میں نیٹو افواج کے لیےکنٹینروں کے ذریعے سپلائی بھی معطل رہی۔

یہاں دلچسپ امر یہ بھی ہے کہ کوئٹہ اور بلوچستان کے دیگر شہروں میں بڑے پیمانے پر غیر قانونی یعنی ’ کابلی گاڑیاں‘ چل رہی ہیںجن میں زیادہ تر گاڑیاں ان لوگوں کے زیر استعمال ہیں جو پاکستان کے مختلف خفیہ اداروں کے لیے جاسوسی کا کام کرتے ہیں لیکن ان گاڑئوں کو نہیں روکا جاتا لیکن عام شہریوں کو حراساں کیا جاتا ہے۔