فوج کو دھمکی سے اعلانِ لاتعلقی

وقت اشاعت

پاکستان کے قبائلی علاقے شمالی وزیرستان میں مقامی طالبان کے سربراہ حافظ گل بہادر نے ایسے کسی اعلان سے لاتعلقی کا اظہار کیا ہے جس میں سکیورٹی فورسز کو نقل و حرکت سے باز رہنے کی بات کی گئی تھی۔

میران شاہ سے جاری ایک تحریری اخباری بیان میں حافظ گل بہادر کے ترجمان احمد اللہ احمدی کا کہنا تھا ’ان کی شوری کی جانب سے ایسا کوئی پمفلٹ نہ تو تقسیم کیا گیا ہے اور نہ ہی ذرائع ابلاغ کو بھیجا گیا ہے‘۔

ترجمان کا کہنا تھا کہ میڈیا کو بھیجے گئے ای میل، پمفلٹ اور جوابی پمفلٹ کا اُن سے کوئی تعلق نہیں ہے اور نہ ہی اُس کی کوئی حیثیت ہے۔ ’ہم علاقے میں امن کو نقصان پہنچانے اور غلط حرکتیں کرنے والوں سے غافل نہیں۔ ایسی حرکتیں کرنے والے وزیرستان کے دشمن ہیں‘۔

یاد رہے کہ اپنے آپ کو طالبان قرار دینے والے ایک گروپ نے گزشتہ دنوں ای میل کے ذریعے ذرائع ابلاغ کو ’مقامی عمائدین اور مجاہدین‘ کی جانب سے ایک بیان روانہ کیا تھا جس میں اُن کا کہنا تھا کہ انہوں نے سکیورٹی فورسز کی مبینہ دھمکیوں کے بعد علاقے میں ان کی نقل حرکت پر پابندی عائد کر دی گئی ہے۔

بظاہر پنجابی طالبان کا یہ گروپ اِس سے قبل بھی مختلف بیانات میڈیا کو جاری کرتا رہا ہے۔

حافظ گل بہادر کے تازہ بیان سے ایسا محسوس ہوتا ہے کہ پنجابی طالبان کے اِس گروپ نے شاید اُن کے مشورے کے بغیر پابندی والا بیان جاری کیا ہے۔ اِس بیان سے طالبان کے درمیان رابطوں کی کمی بھی ظاہر ہوتی ہے۔

احمد اللہ احمدی نے اپنے وضاحتی بیان میں کہا کہ وہ اس طرح کے بیانات پھیلانے والوں سے غافل نہیں رہ سکتے جو علاقے کے امن کو تباہ کرنے اور عوام کی مشکلات میں اضافے کا سبب بن رہے ہیں۔ طالبان ترجمان نے بعض صحافیوں پر بھی زبردست تنقید کی اور کہا کہ مغربی میڈیا سے منسلک صحافی صحافت کو کم اور مغرب کی وفاداری کو زیادہ ترجیح دیتے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ’وہ شمالی وزیرستان کو بدنام اور علاقے کے امن کو تباہ کرنے کے لیے راستہ ہموار کر رہے ہیں۔ محب وطن اور اسلام دوست صحافیوں کو چاہیے کہ وہ ایسے صحافیوں کو سمجھا بجھا کر راہ راست پر لائیں تاکہ پاکستان اور اسلام اُن کے بھونڈے مقاصد سے محفوظ رہ سکیں۔‘