صحافی کے خلاف قتل کے مقدمے کی دھمکی
- مصنف, اعجاز مہر
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد
- وقت اشاعت
خالد خواجہ کو تیس اپریل کو جاسوسی کے الزام میں قتل کر دیا گیا تھا ایشین ٹائیگر نامی شدت پسند گروپ کے ہاتھوں مبینہ طور پر مارے جانے والے آئی ایس آئی کے سابق اہلکار خالد خواجہ کے صاحبزادے اسامہ خالد نے کہا ہے کہ وہ اپنے والد کے قتل کا مقدمہ صحافی حامد میر کے خلاف درج کرا رہے ہیں۔
انہوں نے نامعلوم مقام سے بی بی سی کے ساتھ فون پر بات کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ حامد میر کی جس شخص سے بات چیت کا ٹیپ سامنے آیا ہے ان کا اصل نام عثمان پنجابی ہے اور وہ مختلف صحافیوں سے محمد عمر بن کر بات کرتے رہے ہیں۔
<link type="page"><caption> ڈیلی ٹائمز کے مدیر متنازع ٹیپ شائع کرنے کا دفاع کرتے ہیں</caption><url href="http://www.bbc.co.uk/urdu/multimedia/2010/05/100519_rashid_rahman_as.shtml" platform="highweb"/></link>
ان کے مطابق جب ان کے والد خالد خواجہ وزیرستان گئے تو عثمان پنجابی ان کے گائیڈ یا رہنما بنے اور ان کے ساتھ ان کی اکثر بات چیت ہوتی رہی اس لیے وہ ان کی آواز پہچانتے ہیں۔
لیکن مقامی ٹی وی کے اینکر صحافی حامد میر کا کہنا ہے کہ انہوں نے خالد خواجہ کے بارے میں کسی شدت پسند سے کوئی بات نہیں کی۔ انہوں نے الزام لگایا کہ حکومت نے جدید مشینری کی مدد سے جعلسازی کے ساتھ ان کی گفتگو کا ٹیپ تیار کیا ہے۔
جبکہ مقتول خالد خواجہ کے صاحبزادے اسامہ خالد حامد میر کے موقف کو مسترد کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ ٹیپ اصل ہے اور وہ اس کو عدالت میں درست ثابت کریں گے۔ ’آپ حامد میر کا دو مئی کو شائع ہونے والا مضمون پڑھ لیں۔ تھوڑی بہت باتیں آگے پیچھے ہیں باقی وہی باتیں ہیں جو ٹیپ میں ہیں۔ انہوں نے شدت پسندوں کو میرے والد کو قتل کرنے کے لیے اکسایا ہے اور ہم وکیلوں سے مشاورت کر رہے ہیں اور جلد ٹھوس شواہد کے ساتھ مقدمہ درج کروائیں گے‘۔
حامد میر کی مبینہ گفتگو کے ٹیپ کا متن ڈیلی ٹائمز نامی اخبار نے نمایاں طور پر شائع کیا اور اس اخبار کے ٹی وی چینل بزنس پلس نے یہ ٹیپ نشر بھی کیا۔ جس پر صحافی حامد میر نے متعلقہ اخبار اور ٹی وی چینل کی انتظامیہ کو پچیس کروڑ روپے کے ہرجانے کا نوٹس جاری کیا۔
ڈیلی ٹائمز کے مدیر راشد رحمان نے متنازع کہانی شائع کرنے کے اپنے فیصلے کا دفاع کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’کہانی انہوں نے خود نہیں بنائی اور وہ اپنے موقف پر قائم ہیں۔‘
انہوں نے کہا کہ ’ہم نے موقف اختیار کیا ہے کہ کم از کم اس پر تحقیقات ہونی چاہیئں اور اگر اس میں کوئی سچ ہے تو تحقیقات ہونی چاہیئں اور قانون کے تقاضے پورے ہونے چاہیئں۔‘
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
ادھر صحافی حامد میر کے آجر جنگ گروپ نے بھی ان کے بارے میں تحقیقات شروع کرنے کا اعلان کیا ہے۔ جیو ٹی وی کے سینئر اہلکار اور تحقیقاتی کمیٹی کے رکن نے بی بی سی کو بتایا کہ کمیٹی نے حامد میر کا بیان ریکارڈ کیا ہے جس میں انہوں نے متعلقہ ٹیپ کو جعلی قرار دیا ہے۔ جیو کے اعلیٰ اہلکار نے بتایا کہ وہ اس بارے میں تفصیلی تحقیقات کر رہے ہیں۔
واضح رہے کہ مقتول خالد خواجہ پاکستان ائر فورس کی ملازمت کے دوران خفیہ ادارے آئی ایس آئی میں کام کرتے رہے اور ریٹائرمنٹ کے بعد انہوں نے انسانی حقوق کی تنظیم بنائی۔ اس تنظیم کی زیادہ تر توجہ مذہبی شدت پسندی کے شبہے میں لاپتہ ہونے والے افراد کی بازیابی پر رہا۔
رواں سال مارچ میں ایک سابق کرنل مسٹر امام اور ایک پاکستانی نژاد برطانوی صحافی اسد قریشی کے ہمراہ وہ جنگ زدہ قبائلی علاقے وزیرستان گئے۔ جہاں انہیں ایشین ٹائگر کے نام سے پہلی بار سامنے آنے والے شدت پسندوں کے ایک گروپ نے یرغمال بنا لیا۔ متعلقہ گروہ نے تیس اپریل کو خالد خواجہ کو جاسوسی کے الزام میں قتل کر دیا۔ باقی دونوں یرغمالیوں کے متعلق یہ تو کہا جا رہا ہے کہ وہ زندہ ہیں لیکن انہیں تاحال رہا نہیں گیا۔



















