’پانی کا اخراج، مدت کا تعین ممکن نہیں‘

    • مصنف, رضا ہمدانی
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام ، ہنزہ
  • وقت اشاعت

اب لوگوں کی منتقلی ہیلی کاپلاروں کے بغیر ممکن نہیں رہی۔ پاکستان میں آفات سے نمٹنے کے قومی ادارے کے سربراہ کا کہنا ہے کہ ہنزہ کی حادثاتی جھیل سے پانی کے اخراج کی مدت کا تعین ممکن نہیں ہے اور سپل وے میں پانی آنے کے بعد اگلے چوبیس گھنٹے اہم ہوں گے۔

ادھر عطا آباد جھیل کی سطح مزید دو فٹ چھ انچ بلند ہوگئی ہے۔

جمعرات کو ہیلی کاپٹرز نے تیرہ اڑانیں بھریں اور جھیل کے اپ سٹریم دیہاتوں میں پھنسے لوگوں کو ہنزہ پہنچایا۔ دیہاتوں کے لوگ جو ہنزہ میں تھے ان کو منتقل کیا گیا۔ اس کے علاوہ امدادی سامان بھی گلمت، حسینی، پھسو پہنچایا گیا۔

بیت المال کی طرف سے آئینہ باد اور ششکٹ میں زیر آب آنے والے گھروں کے مالکان کے لیے فی خاندان پچاس ہزار روپے امداد کا اعلان کیا گیا۔

دوسری طرف نیشنل ڈیزاسٹر مینیجمینٹ اتھارٹی کا کہنا ہے کہ گلگت میں ساڑھے نو ہزار افراد کو محفوظ مقامات پر منتقل کی جا رہا ہے۔ تفصیلات بتاتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ان میں سات ہزار آٹھ سو افراد کو گیارہ کیمپوں میں منتقل کردیا گیا ہے جب کہ تقریباً ساڑھے سولہ سو افراد کی منتقلی کا عمل جمعرات کو مکمل ہو جائے گا۔

بند کے بارے میں بی بی سی سے بات کرتے ہوئے لیفٹیننٹ جنرل (ر) ندیم احمد کا کہنا تھا کہ کیونکہ یہ بند قدرتی طور پر بنا ہے اس لیے حتمی طور پر نہیں کہا جا سکتا کہ پانی کس رفتار سے نکلے گا یا کتنی مدت میں پانی کا اخراج مکمل ہوگا۔

انہوں نے کہا کہ آئندہ پانچ دن میں پانی کی سپل وے میں آمد کے واضح امکانات ہیں اور سپل وے میں پانی آنے کے بعد اگلے چوبیس گھنٹے انتہائی اہم ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جھیل کے پانی کی مکمل نکاسی ضروری ہے اور اگر ایسا نہ ہوا تو علاقے میں شاہراہِ قراقرم سمیت مواصلاتی ذرائع کی بحالی میں بہت وقت لگ سکتا ہے۔

دریائے ہنزہ میں بننے والی جھیل کے اوپر کی جانب واقع دیہات سے ہیلی کاپٹر کی مدد سے آبادی کے انخلاء اور متاثرین کو امداد کی فراہمی کا سلسلہ جاری ہے۔ ہیلی کاپٹروں کے ذریعے شکشت، گلمت، حسینی اور پھسو نامی دیہات کے متاثرین کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا جا رہا ہے۔

متاثرین کی منتقلی کا سلسلہ بدھ کی صبح شروع ہوا اور انہیں ہیلی کاپٹروں کے ذریعے ان علاقوں میں بلندی پر منتقل ہو جانے والے افراد کو اشیائے ضرورت بھی فراہم کی جا رہی ہیں۔ مقامی حکام کے مطابق اب تک ہنزہ نگر کے بارہ دیہات کے چار ہزار چار سو پینتالیس لوگوں پر مشتمل چار سو سینتالیس خاندانوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا جا چکا ہے۔

آفات سے نمٹنے کے قومی ادارے کے کرنل عامر نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ ہنزہ کی جھیل سے پانی کے اخراج کے بعد ممکنہ سیلاب سے گلگت کے اٹھارہ دیہات کے نو ہزار پانچ سو ساٹھ افراد کو خطرہ ہے۔ انھوں نے بتایا کہ ان دیہات سے سات ہزار آٹھ سو انہتر افراد کو گیارہ مختلف عارضی کیمپوں میں منتقل کر دیا گیا ہے۔

کرنل عامر کے بقول بقایا ایک ہزار چھ سو اکیانوے افراد کو جمعرات تک محفوط مقامات پر منتقل کر دیا جائے گا۔

ادھر پانی کے اخراج کے آغاز پر اس کی راہ میں آنے والے پہلے ممکنہ گاؤں گنش کے عوام نے امدادی اشیاء کی عدم فراہمی پر احتجاج کیا ہے۔ گنش کے عوام نے بدھ کو مظاہرے کے دوران چند گھنٹوں کے لیے شاہراِ قراقرم بھی بند کیے رکھی۔گنش کی آبادی چھ ہزار کے لگ بھگ ہے اور مظاہرین کا کہنا تھا کہ انہیں محفوظ مقام پر منتقل کیا جائے، آئی ڈی پی کا درجہ دیا جائے اور ان کے علاقے کو آفت زدہ قرار دیا جائے۔

پاکستان کے سرکاری نشریاتی ادارے پاکستان براڈ کاسٹنگ کارپوریشن نے وادی ہنزہ میں پہاڑی تودہ گرنے سے وجود میں آنے والی حادثاتی جھیل کی وجہ خطرے سے دوچار آبادی کے لیے ہاٹ لائن قائم کردی ہے تاکہ علاقے کے لوگوں کو درست اور تازہ ترین معلومات فراہم کی جاسکیں۔

سرکاری خبر رساں ادارے اے پی پی کے مطابق ریڈیو پاکستان کی جانب سے علاقے سے براہ راست نشریات کے لیے ہنگامی بنیادوں پر ایک ٹرانسمیٹر نصب کیا جارہا ہے اور عارضی سٹوڈیو بھی بنایا جارہا ہے جبکہ ریڈیو پاکستان گلگت کے ٹرانسمیٹر کی نشریاتی حدود بھی بڑھادی گئی ہیں تاکہ اس کی نشریات زیادہ سے زیادہ علاقے میں سنی جاسکیں۔

اے پی پی کے مطابق پی بی سی کا کنٹرول روم علاقے میں امدادی کاموں میں مصروف سول اور فوجی حکام کے ساتھ مل کر کام کرے گا اور آفت زدہ علاقے کے لوگوں کی کالیں موصول کر کے انہیں درپیش مشکلات کے بارے میں معلومات حاصل کرے گا۔