فیس بُک پابندی: امریکہ کی تنقید

امریکہ نے پاکستان کی جانب سے سماجی رابطے کی ویب سائٹ فیس بک پر پابندی لگانے پر تنقید کی ہے اور کہا ہے کہ کسی بھی معاملے کا بہترین حل گفتگو میں ہی ہے۔
امریکی محکمہ خارجہ کے نائب ترجمان گورڈن ڈوگڈ نے رات گئے جاری ہونے والے ایک بیان میں کہا ہے کہ امریکہ کو فیس بک کے اس اشتعال انگیز صفحے اور اس سے متعلق میڈیا میں آنے والی خبروں کا ادراک ہے جس کی وجہ سے یہ پابندی عائد ہوئی ہے۔
پاکستان میں لاہور ہائی کورٹ نے بدھ کے روز حکم دیا تھا کہ فیس بک پر ملک میں پابندی عائد کی جائے۔ جسٹس اعجاز احمد چودھری نے یہ حکم ’اسلام لائیرز فورم موومنٹ‘ نامی ایک تنظیم کی اس درخواست پر دیا تھا جس میں کہا گیا تھا کہ فیس بک پر پیغمبر اسلام کے بارے میں خاکے بنانے کا ایک مقابلہ ہو رہا ہے اس لیے اس ویب سائیٹ پر پابندی لگائی جائے۔
جسٹس اعجاز نے محکمۂ مواصلات کو ہدایت کی کہ وہ پاکستان میں فیس بک کے استعمال پر پابندی عائد کر دے اور آئندہ تاریخ سماعت یعنی اکتیس مئی کو فیس بک کے بارے میں تحریری جواب پیش کریں۔
امریکی ترجمان کے مطابق امریکہ آزادی اظہار کے حق کی پورے طور پر حمایت کرتا ہے اور ’یہ ایک ایسا عالمگیر حق ہے جس کے توسط سے پوری دنیا کے انسان، انٹرنیٹ سمیت کسی بھی میڈیم کے ذریعے ایک دوسرے کے ساتھ جڑ سکتے ہیں اور تمام معاملات پر گفتگو اور بحث میں شامل ہوسکتے ہیں۔‘
ترجمان کے مطابق امریکہ مذہبی آزادی اور مذاہب کے درمیان بحث کی بھی بھرپور حمایت کرتا ہے۔ ترجمان نے کہا کہ امریکہ کو (فیس بک کے استعمال کرنے والے بعض افراد کے) اشتعال انگیز اظہار پر تشویش ہے تاہم ان کے مطابق اس طرح کے اظہار سے نمٹنے کا بہتر حل اس پر گفتگو اور کھلی بحث میں ہے نہ کہ پابندیوں میں جو کہ انسانوں کے بنیادی حقوق کو صلب کر سکتی ہیں۔

ترجمان گورڈن ڈوگ کے مطابق امریکہ تمام مذاہب کے لوگوں کو ایک دوسرے سے باہمی احترام کے ساتھ پیش آنے کی حوصلہ افزائی کرتا ہے۔
’ہم نہیں سمجھتے کہ پابندیاں عائد کرنا باہمی احترام اور برداشت کو جنم دیں گی، امریکی ترجمان نے کہا، ’جیسا کہ صدر اوباما نے قاہرہ میں کہا تھا کہ خیالات کو دبانے سے وہ غائب نہیں ہوجاتے۔‘
لاہور ہائی کورٹ میں متعلقہ حکام نے بتایا کہ فیس بک کے ان حصوں کو بند کردیا گیا ہے جن پر توہین رسالت پر مبنی خاکے بنانے کا مقابلہ ہورہا ہے تاہم درخواست گزار تنظیم کے وکیل نے یہ اعتراض اٹھایا کہ ویب سائیٹ کے کسی حصہ کو اس وقت تک بند نہیں کیا جاسکتا جب تک اس کو مکمل طور پر بلاک نہ کر دیا جائے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
لیکن پاکستان سے ملنے والی اطلاعات کے مطابق پاکستان میں فیس بک کے استعمال کنندگان کی خاصی تعداد سرکاری دعووں کے برعکس پراکسی اور دیگر تیکنیکی طریقوں سے فیس بک استعمال کرتے رہی۔
کیلیفورنیا میں قائم فیس بک کے ایک اہلکار نے بتایا کہ پاکستان میں لاکھوں لوگ فیس بک ساتعمال کرتے ہیں اور ان کے استعمال میں کوئی خاطر خواہ کمی محسوس نہیں کی گئی۔
ایک اندازے کے مطابق فیس بک کے اس صفحے پر دنیا بھر سے استعمال کنندگان کی ٹریفک میں اضافہ ہوگیا ہے جس نے پیغمبر اسلام کے خاکے بنانے کے لیے بیس جون کا دن متعین کیا تھا۔
اس صفحے کو جاری کرنے والوں نے دعویٰ کیا تھا کہ وہ اس مہم کے ذریعے آزادی اظہار کے حق کی حمایت ظاہر کرنا چاہتے ہیں۔ ان کے بقول جب عیسائیوں، یہودیوں اور باقی تمام مذاہب کے بانیوں کے خاکے شایع کیے جاسکتے ہیں تو پھر اسلام کے پیغمبر کے کیوں نہیں کیے جاسکتے؟
انہوں نے اس مہم کا آغاز ایک معروف امریکی ٹی وی شو ساؤتھ پارک میں باقی تمام مذاہب کے بانیوں سمیت پیغمبر اسلام کا خاکہ دکھانے کے بعد، شو کے پیشکاروں کو جان سے مارنے کی ملنے والی دھمکیوں کے بعد کیا۔
خاکوں کے شائع کرنے کے مخالف مسلمانوں کا کہنا ہے کہ اسلام میں اس کی گنجائش نہیں اور یہ توہین کے زمرے میں آتا ہے۔
اس ویب پیج کے جواب میں دنیا بھر سے مسلمانوں کے بعض گروپوں نے فیس بک کا بیس جون کو بائکاٹ کرنے کی اپیل کی ہے۔
پیغمر اسلام کے خاکوں کے حوالے سے یہ پہلا موقع نہیں جب تنازعہ پیدا ہوا ہو۔ اس سے قبل دوہزار پانچ میں ڈینمارک اور سوئیڈن کے اخبارات میں متنازعہ خاکوں کی اشاعت کے بعد، کئی مسلمان ممالک سمیت بعض مغربی ممالک میں بھی مسلمانوں کی طرف سے شدید احتجاج ہوا تھا۔



















