ہنزہ متاثرین کے لیے امدادی پیکیج

وزیراعظم یوسف رضا گیلانی نے ہنزہ متاثرین کے لیے امدادی پیکیج کا اعلان کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ رقم تقریباً پانچ سو متاثرہ خاندانوں میں تقسیم کی جائے گی۔
انہوں نے اسلام آباد میں ایک پریس کانفرنس میں عطاء آباد جھیل کے متاثرہ خاندانوں کے لیے امدادی پیکیج کی تفصیلات بتائیں۔
وزیراعظم نے بتایا کہ ہنزہ میں جن لوگوں کی زمینیں پہاڑی تودوں کی زد میں آ گئیں ہیں اس کے لیے ہر ایک خاندان کو دو لاکھ روپے دیے جائیں گے جبکہ چار لاکھ اس فی کس خاندان کو ملیں گے جن کے گھر مکمل طور پر تباہ ہو گئے ہیں۔
ان کے مطابق پانی سے متاثرہ فی خاندان کو ایک لاکھ جبکہ اس سے زخمی ہونے والوں کو ایک لاکھ ساٹھ ہزار روپے ادا کیے جائیں گے۔
یوسف رضا گیلانی کی طرف سے دیے گئے اس امدادی پیکیج میں فی کس خاندان کو پانچ ہزار روپے گزارہ الاؤنس ملے گا جبلکہ تین مہینوں کے لیے مفت خوراک بھی دی جائے گی۔
انہوں نے صحافیوں کو بتایا کہ حکومت پہلے ہی پہاڑی تودوں سے ہلاک اور زخمی ہونے والوں کو ایک کروڑ سات لاکھ روپے ادا کر چکی ہے جبکہ امدادی کاموں کے لیے گلگت بلتستان کی حکومت کو دس کروڑ روپے ادا کیے گئے ہیں۔
ان نے یہ بھی بتایا کہ حکومت نے متاثرہ خاندانوں کو خوراک کے فراہمی کے لیے پانچ کروڑ روپے ادا کیے ہیں جبکہ اضافی طور پر خوراک کے لیے پانچ کروڑ پانچ لاکھ روپے پائپ لائن میں ہیں۔
وزیراعظم نے بتایا کہ ہنزہ متاثرین کے امدادی پیکیج کے عمل درآمد کو یقینی بنانے کے لیے گلگت بلتستان کی حکومت اور اعلی حکام کو ہدایت کر دی گئی ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
ایک سوال کے جواب میں وزیراعظم نے کہا کہ جب انہوں نے متاثرہ علاقوں کا دورہ کیا تھا تو اس وقت کسی نے بھی حکومت کے خلاف ہنگامہ نہیں کیا تھا اور جب وہ وہاں سے چلے گئے تو بعد میں کچھ لوگوں نے احتجاج کیا اور ڈرامہ رچایا۔
انہوں نے کہا کہ اس وقت انہوں نے امدادی پیکیج کا اعلان اس لیے نہیں کیا تھا کہ اس وقت تباہی اور لوگوں کی تکالیف کا اندازہ نہیں تھا اور تخمینہ لگانے کے بعد پیکیج کا اعلان کیا ہے۔
پاکستان میں قدرتی آفات سے نمٹنے والے وفاقی ادارے نیشنل ڈزاسٹر منیجمنٹ اتھارٹی (این ڈی ایم اے) کے سربراہ لیفٹیننٹ جنرل ریٹائرڈ ندیم احمد نے اس موقع پر صحافیوں کو بتایا کہ وادی ہنزہ میں پہاڑی تودہ گرنے سے بننے والی مصنوعی جھیل اٹھائیس مئی کو لبریز ہو جائے گی اور اس کا پانی سپل وے سے بہنا شروع ہو جائےگا۔



















