پانچ مقامات پر تودے گرنے کا’خطرہ‘

    • مصنف, رضا ہمدانی
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، ہنزہ
  • وقت اشاعت

ہنزہ نگر میں عطا آباد کے مقام پر چار جنوری کو پہاڑی تودہ گرنے سے دریائے ہنزہ کا بہاؤ رکنے کے باعث جھیل معرض وجود میں آئی لیکن علاقے میں عطا آباد کے علاوہ کون سے ایسے مقامات ہیں جہاں تودے گرنے کا خطرہ ہے؟

فائل فوٹو
،تصویر کا کیپشننگر میں مزید تین ایسے مقامات ہیں جہاں لینڈ سلائیڈ کا خطرہ ہے: سلطان بیگ

غیر سرکاری تنظیم فوکس پاکستان کے ماہر ارضیات نیئر سلطان بیگ نے بی بی سی کو بتایا کہ دریائے ہنزہ کے نشیب میں پانچ ایسے مقامات ہیں جہاں لینڈ سلائیڈ کا خطرہ ہے۔

ان کے مطابق ہنزہ میں واقع مایون علاقے میں پہاڑی تودہ گرنے کا خدشہ ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اس کی بڑی وجہ یہ ہے کہ دریا کے پانی نے اس پہاڑی کی بنیادوں کو ہلا دیا ہے۔ تاہم انہوں نے کہا کہ یہ کہنا مشکل ہے کہ کب اس علاقے میں لینڈ سلائیڈ ہو سکتی ہے۔

نگر کے علاقے میں چار ایسے مقامات ہیں جہاں ممکنہ طور پر لینڈ سلائیڈ ہو سکتی ہے۔ ’نگر کے علاقے خان آباد میں مٹی کا تودہ سات فٹ نیچے کی جانب سرک گیا ہے۔ اگر یہ تودہ گرتا ہے تو یہ دریائے ہنزہ کے بہاؤ کو روک سکتا ہے۔‘

اس کے علاوہ نگر میں مزید تین ایسے مقامات ہیں جہاں لینڈ سلائیڈ کا خطرہ ہے۔ ان میں ہکوچر، مہاچر اور غمادس شامل ہیں۔

سلطان بیگ کا کہنا تھا کہ ہندو کش اور ہمالیہ میں دو طرح کی جھیلیں بنتی ہیں۔ ایک وہ جو لینڈ سلائیڈ کے نتیجے میں بنتی ہیں جیسے کہ عطا آباد کی جھیل ہے۔ اور دوسری طرح کی جھیل گلیشیئر کے پھٹنے سے بنتی ہے۔

’ہندو کش اور ہمالیہ کی تاریخ میں زیادہ تر جھیلوں کے بند پھٹے ہیں لیکن عطا آباد جھیل مختلف ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ اس کا بند ڈیڑھ کلومیٹر لمبا ہے اور ساڑھے چار سو میٹر چوڑا ہے۔ اس لیے پھٹنے کے امکانات کم ہیں۔‘

سلطان بیگ نے بتایا کہ ماضی میں ایک جھیل اٹھارہ سو اٹھاون میں بنی۔ یہ جھیل لینڈ سلائیڈ کے باعث بنی تھی۔ اس کے علاوہ انیس سو پانچ ، انیس سو چھ، انیس سو سات اور انیس سو چوہتر میں جھیل بنی تھیں اور یہ تمام جھیلیں گلیشیئر پھٹنے کے باعث بنیں۔

گلیشیئر کے بارے میں ان کا کہنا تھا کہ دریائے ہنزہ میں سات گلیشیئرز کا پانی آتا ہے۔ ان گلیشیئرز میں گلمت، حسینی، پھسو، ملوگتی، شمشال، خنجراب اور خردوپن شامل ہیں۔ ان میں سے گلمت، حسینی، پھسو، ملوگتی کا پانی دریائے ہنزہ میں اپریل کے مہینے میں آتا ہے۔ جبکہ شمشال، خنجراب اور خردوپن کا پانی دریا میں مئی کے مہینے میں آتا ہے۔

سلطان بیگ نے مزید کہا کہ عطا آباد جھیل سے مارچ میں پانی رسنا شروع ہوا تھا۔ ’یہ پانی پہلے گدلا تھا لیکن وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ صاف ہوتا گیا اور اب یہ پانی اتنا صاف ہے کہ لگتا ہے چشمے کا پانی ہے۔‘

جھیل کا بند ٹوٹے گا یا نہیں کے سوال پر انہوں نے کہا کہ لینڈ سلائیڈ کی وجہ سے دنیا میں سب سے بڑی جھیل تاجکستان میں انیس سو گیارہ میں بنی تھی۔ یہ جھیل ابھی بھی موجود ہے اور اس کی گہرائی چھ سو میٹر ہے۔