شرحِ نمو میں تین فیصد کا اضافہ

وقت اشاعت

حکومتِ پاکستان کا کہنا ہے کہ دہشتگردی کے خلاف جاری جنگ اور عالمی معاشی بحران کے باوجود پاکستان کی مجموعی پیداوار کی عبوری شرح نمو میں قریباً تین فیصد کا اضافہ ہوا ہے۔

اس بات کا اعلان وزیراعظم کے مشیرِ خزانہ سینیٹر عبدالحفیظ شیخ نے جمعہ کو اسلام آباد میں سالانہ اقتصادی سروے رپورٹ پیش کرتے ہوئے کیا۔

مشیرِ خزانہ نے بتایا کہ رواں مالی سال میں شرحِ نمو چار اعشاریہ ایک فیصد رہی جبکہ گزشتہ برس یہ شرح ایک اعشاریہ دو فیصد تھی۔ انہوں نے بتایا کہ رواں مالی سال میں ملک کی فی کس آمدنی ستاسی ہزار آٹھ سو دس روپے رہی۔

اقتصادی سروے میں کہا گیا ہے کہ ملک میں شعبۂ زراعت کی شرح نمو دو فیصد رہی، اسی تناظر میں صنعت کی مجموعی شرح نمو چار اعشاریہ نو فیصد جبکہ خدمات کی شرح نمو چار اعشاریہ چھ فیصد رہی۔

بی بی سی اردو کے ارمان صابر کے مطابق حکومت کے مثبت اعداد و شمار کے باوجود تاہم معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ معیشت کے بارے میں حکومت کی جانب سے جاری کیے جانے والے اعدادوشمار مبہم ہوتے ہیں اور حقائق کو چھپانے کی کوشش کی جاتی ہے۔ ان کے بقول حکومت شرح نمو اور مہنگائی کی شرح کے بارے میں اصل حقائق عوام کے سامنے نہیں لانا چاہتی۔

عبدالحفیظ شیخ کا کہنا تھا کہ گذشتہ مالی برس یعنی سنہ 09-08 پاکستان کی معاشی تاریخ میں بہت مشکل برس تھا جس میں عالمی مالی بحران آیا اور وہ ملکی معیشت پر بھی اثر انداز ہوا۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ مالی سال کے دوران صنعت کے شعبے میں اعدادوشمار نے منفی رجحان پیش کیا تھا، تاہم رواں برس اس میں بہتری کے آثار نمایاں ہیں۔

انہوں نے کہا کہ حکومت نے ایسے فیصلے کیے جو سیاسی حکومتوں کے لیے مشکل فیصلے ہوتے ہیں تاہم اس کے مثبت اثرات سامنے آنا شروع ہوگئے ہیں۔ ان کے بقول 09-08 میں مہنگائی کی شرح پچیس فیصد تک پہنچ گئی تھی وہ اب کافی نیچے آچکی ہے۔

اسی طرح مجموعی پیداورا کی شرح نمو جو معیشت میں ہر چیز کا پیمانہ ہوتا ہے اب بڑھ کر چار فیصد ہو چکی ہے۔

ڈاکٹر حفیظ شیخ نے کہا کہ جتنے مشکل فیصلے کیے گئے اس سے یقینا بہتری آرہی ہے لیکن معیشت کے کئی شعبوں کی کارکردگی اب بھی کمزور ہے لہذٰا اگلا مالی سال ملک کی معیشت کے لیے بہت اہمیت رکھتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگلے مالی سال کے بجٹ کے لیے اب ترجیح یہ ہی ہوگی کہ جو بہتری کے آثار نمایاں ہورہے ہیں ان کو کس طرح سے مزید بہتر بنایا جائے اور شعبۂ زراعت میں معاشی طور سے جو کمزوریاں ہیں انہیں کس طرح قابو کیا جائے۔

ان کے بقول دوسری جانب صنعتی شعبے میں ٹیکسوں اور بجٹ کے حوالے جو غیر یقینی کا رجحان ہے اس کو ختم کرنا ہوگا تاکہ لوگ اکنامک مینیجمنٹ کے کام میں الجھ کر نہ رہ جائیں۔ انہوں نے کہا کہ حکومت ان تمام مسائل کے حل اور اس نظام کو سہل بنانے کے لیے لوگوں کی توقعات پر پورا اترنے کی کوشش کرے گی۔

اُدھر پاکستان کے حقوق انسانی کمیشن نے ملک میں گورننس کے گِرتے ہوئے معیار کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا ہے اور سٹیٹ بینک کے گورنر کی جانب سے استعفے پر کہا ہے کہ یہ حکومت کے دباؤ کے سامنے جھکنے سے انکار کرنے کی ایک اور مثال ہے۔

جمعے کے روز جاری کیے جانے والے بیان میں کہا گیا ہے کہ کمیشن ملک میں گورننس کی صورتحال پر کڑی نظر رکھے ہوئے ہے۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ یہ حقیقت ہے کہ وفاقی اور صوبائی حکومتیں کئی چیلینجوں کا سامنا کر رہی ہیں جو انہیں گذشتہ حکومت سے ورثے میں ملے ہیں تاہم یہ افسوسناک امر ہے کہ حکومت کی ترجیحات میں اقرباپروری، کرپشن، اور مفاد پرستی سرفہرست ہیں۔