ویب سائٹ سرکاری، نام گورنر کا
سلمان تاثیر واحدگورنر ہیں جہنوں نے اپنے نام سے اپنی سرکاری ویب سائٹ بنائی ہے پاکستان کے صوبہ پنجاب کےگورنرسلمان تاثیر نے عوام سے بہتر رابطے کے لیے سرکاری طور پر اپنی ایک ویب سائٹ تیار کی ہے۔
سلمان تاثیر کے آن لائن ہونے کا اعلان گُزشتہ دنوں اخباری اشتہارات کے ذریعے کیا گیا۔
تاہم اس سے یہ تاثر ملتا ہے کہ اب آن لائن لوگ گورنر سے براہ راست بات کر سکیں گے لیکن ویب سائٹ پر اُن تک رسائی کا فی الوقت ذریعہ ای میل ہی ہے۔
ویب سائٹ پرگورنر سے متعلق تو تمام معلومات دستیاب ہیں لیکن گورنر ہاؤس سے متعلق صفحہ ابھی تیاری کے مرحلے میں ہے۔بعض لوگوں کے مطابق اس کی وجہ گورنر کی جلد آن لائن ہونے کی خواہش ہوسکتی ہے۔
پاکستان میں مختلف اعلی عہدیداروں کے بارے میں اُن کا تعاوف اُن کے اداروں کی ویب سائٹس پر دستیاب ہے تاہم سلمان تاثیر کی ویب سائٹ کی خصوصیت یہ ہے کہ یہ اُن کے اپنے نام سے تیار کی گئی ہے۔ بعض افراد کو شکایت ہے کہ اگر یہ ویب سائٹ گورنر پنجاب ڈاٹ کام کے نام سے تیار کی جاتی تو مستقبل میں دیگر گورنروں کے لیے بھی قابل استعمال ہوتی۔
بی بی سی اردو کے نامہ نگار عبادالحق کے مطابق پاکستان کے چاروں صوبوں کےگورنروں میں سلمان تاثیر واحدگورنر ہیں جہنوں نے اپنے نام سے اپنی سرکاری ویب سائٹ بنائی ہے۔
گورنر سلمان تاثیر کی سرکاری ویب سائٹ پر اُن کےحالاتِ زندگی، واقعات، تصاویر، ویڈیوز اور انٹرویوز دستیاب ہیں۔
سلمان تاثیر کے ٹوئٹر پر اُن کی جانب سے دیے جانے والی مختصر رائے بھی باآسانی پڑھی جاسکتی ہے۔ تیس مئی کوایک ٹوئیٹ میں سلمان تاثیر کا کہنا تھا کہ لاہور کی فضاء رومانوی ہے تاہم اِس کے برعکس لاہور میں کئی ٹی وی چینل احمدیوں پر حملے کے بعد سے لاہور کی فضا کو سوگوار بتا رہے تھے۔
گورنر پنجاب کی سرکاری ویب سائٹ پر حکمران جماعت پیپلز پارٹی کی سائٹ کا لنک بھی دیا گیا ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
گورنر پنجاب نے اپنی ذاتی زندگی کے بارے میں ویب سائٹ پر لکھا ہے کہ انہوں نے دو شادیاں کی ہیں اور اُن کے چھ بچے ہیں۔ انہوں نے اپنے بارے میں لکھا ہے کہ وہ اپنے بچوں میں دلچسپی لیتے ہیں۔ سلمان تاثیر نے ویب سائٹ پر ایک خصوصی صفحہ اپنی سیاسی اسیری سے متعلق بھی رکھا ہے۔ اُن کا کہنا ہے کہ وہ سولہ مرتبہ گرفتار ہوئے اور لاہور قلعے میں بھی انتہائی مشکل وقت گزارا۔
اگرچہ گورنر پنجاب نے یہ ویب سائٹ عام لوگوں کی اُن تک رسائی کو بہتر بنانے کے لیے بنائی ہے لیکن بعض افراد کے خیال میں اِس صوبے کے غریب عوام کی اکثریت کو انٹرنٹ تک رسائی نہ ہونے کی وجہ سے انہیں اس کا کوئی خاص فائدہ نہیں ہوگا۔
اُن افراد کا یہ بھی کہنا ہے کہ اِس قسم کا یکطرفہ رابطہ تو وہ فیکس اور ڈاک کے ذریعے پہلے بھی کرسکتے تھے لیکن اصل مسئلہ ان کی شنوائی تھی جو نہ پہلے مناسب انداز میں ہوسکی اور نہ اب شاید ہوسکے۔



















