بلوچستان میں فوجی آپریشن کا الزام

سردار عطااللہ مینگل، پاکستان ورکرز پارٹی اور نیشنل سٹوڈنٹس فیڈریشن نے بلوچستان میں مبینہ ’فوجی کارروائی‘ کا الزام لگایا ہے۔
بائیں بازو کے نظریات کی حامل پاکستان ورکرز پارٹی اور نیشنل سٹوڈنٹس فیڈریشن نے بلوچستان میں مبینہ ’فوجی کارروائی‘ کے خلاف اسلام آباد میں دھرنا دیا۔
جب کہ بزرگ بلوچ رہنما سردار عطا اللہ مینگل نے بی بی سی کے نامہ نگار عزیز اللہ سے بات کرتے ہوئے کہا کہ صوبے میں ایک اور فوجی آپریشن کی تیاری ہو چکی ہے۔ کسی بھی وقت کچھ ہو سکتا ہے۔
لیکن بلوچستان میں فوج کے ترجمان کرنل خالد کسی بھی فوجی آپریشن کی سختی سے ترید کرتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ’بعض لوگ اپنے مذموم مقاصد کے لیے افواہیں پھیلا رہے ہیں‘۔
بلوچستان میں فرنٹئیر کور یا ایف سی کے ترجمان مرتضیٰ بیگ نے بھی کہا ہے کہ ’ایف سی کی طرف کوئی کارروائی نہیں ہو رہی ہے‘۔
اسلام آباد سے بی بی سی کے ذوالفقار علی کے مطابق دھرنے میں شریک ایس این ایس ایف پنچاب کی سکریڑی جنرل عالیہ امیر علی نے اس موقعے پر کہا کہ ’ہماری حکومتیں پاکستان کے عوام کو حقائق سے بے خبر رکھتی رہی ہیں اور اب بھی ایسا ہی کیا جا رہا ہے‘۔
یہ الزام ایک ایسے مرحلے پر لگایا گیا جب پاکستان کے وزیر اعظم سید یوسف رضا گیلانی اور فوج کے سربراہ اشفاق پرویز کیانی کوئٹہ کے دورے پر ہیں۔
اس موقع پر پنچاب میں پاکستان ورکرز پارٹی کے سکریڑی ظہور خان نے کہا کہ ’بلوچستان کی صورت حال کی ذمہ دار پاکستان کی اسٹبلیشمنٹ ہے اور ہم بلوچوں کو یہ پیغام دینا چاہتے ہیں کہ سارے پنجابی اسٹبلیشمنٹ کے ساتھ نہیں ہیں اور ہم ان کے حقوق کی حمایت کرتے ہیں‘۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
بی بی سی سے بات کرتے ہوئے سردار عطااللہ مینگل کا کہنا تھا کہ بلوچستان کے مسئلے کا حل یہ ہے کہ وفاق اپنے پاس صرف تین شعبے دفاع، کرنسی اور خارجہ امور رکھے باقی سب کچھ صوبوں کے حوالے کر دے۔ اس کے بعد صوبوں میں صاف ستھری حکومت قائم کی جائے جو ان مسائل کا حل خود تلاش کرے گی۔
بلوچستان کی صورتحال پر نظر رکھے ہوئے مقامی صحافی صدیق بلوچ نے بی بی سی کو بتایا کہ حکومت نے اعتماد سازی کے لیے ٹھوس اقدامات نہیں کیے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ بڑی تعداد میں لوگ لاپتہ ہیں۔ انہوں نے الزام لگایا کہ یہ لوگ حکومت کے پاس ہیں اور ان میں ڈاکٹر، انجینیئر اور سیاسی رہنما بھی شامل ہیں لیکن وعدوں کے باوجود حکومت انھیں منظر عام پر نہیں لا رہی۔



















