’مشرف لیگ‘ کی رابطہ مہم

جنرل مشرف فائل فوٹو
وقت اشاعت

پاکستان کے سابق آرمی چیف اور صدر جنرل ریٹائرڈ پرویز مشرف کی جماعت آل پاکستان مسلم لیگ نے عوامی رابطہ مہم کا آغاز کردیا ہے جس کی ابتدا ملک کے سب سے بڑے شہر کراچی سے کی گئی ہے۔

آل پاکستان مسلم لیگ کے بنیادی رہنما اور جنرل پرویز مشرف کے ترجمان میجر جنرل ریٹائرڈ راشد قریشی اور تنظیم کے آرگنائزر بیرسٹر محمد علی سیف ان دنوں کراچی میں ہیں جہاں وہ سیاست دانوں اور سابق اراکین اسمبلی سے رابطے کر رہے ہیں۔

کراچی پریس کلب میں منگل کو راشد قریشی اور تنظیم کے آرگنائزر بیرسٹر محمد علی سیف کی پریس کانفرنس کے دوران صحافیوں نے جنرل مشرف پر بلوچ رہنما نواب اکبر بگٹی اور بینظیر بھٹو کی ہلاکت، لال مسجد آپریشن، بارہ مئی واقعے اور آئین توڑنے کے الزام کے حوالے سے سوالوں کی بھر مار کی۔

<link type="page"><caption> ایف بی مسلم لیگ</caption><url href="http://www.bbc.co.uk/blogs/urdu/2010/06/post_632.html" platform="highweb"/></link>

بیرسٹر سیف کا کہنا تھا کہ جنرل مشرف انتخابات کا اعلان ہوتے ہی وطن واپس آجائیں گے چاہے یہ انتخابات دو سال بعد ہوں یا دو ماہ بعد۔

بیرسٹر سیف کا کہنا تھا کہ ان سوالوں کا وقت آنے پر دستاویز کے ساتھ جواب دیا جائے گا۔ ’ہمیں اندازہ ہے کہ عوام کے سامنے جاتے ہیں تو یہ سوال اٹھتے ہیں۔ ہم اس عوامی رابطہ مہم اور سیاسی سفر میں جو سیمینار، مذاکروں، جلسوں اور مظاہروں سمیت جو سرگرمیاں کریں گے ان میں باقاعدہ تفصیل اور وضاحت کے ساتھ ان ایشوز پر بات کریں گے۔‘

ان کا کہنا تھا کہ ان الزامات میں سیاسی عناصر بہت ہیں اور حقائق ایسے نہیں ہیں جس طرح قوم کے سامنے پیش کیےگئے ہیں۔

میجر جنرل ریٹائرڈ راشد قریشی نے واضح کیا کہ دو ہزار نو میں اگر کسی نے کہا تھا کہ جنرل مشرف واپس آئیں گے تو کسی نے یہ غلط کہا تھا۔ ان کے خیال میں جنرل مشرف نے نہ تاریخ اور نہ ہی مہینے کی بات کی تھی۔ ’لیکن آئیں گے ضرور۔ مگر جتنا لوگ سمجھ رہے ہیں اس سے قبل آئیں گے۔‘

یاد رہے کہ اگست دو ہزار آٹھ میں صدارتی منصب سے مستعفی ہونے کے بعد نومبر میں پرویز مشرف ایک ہفتے کے دورے پر لندن گئے تھے جہاں سے ابھی تک واپس نہیں لوٹے۔

ایک سوال کے جواب میں بیرسٹر سیف نے کہا کہ جب سپریم کورٹ جنرل مشرف کو واپس لانے کا حکم جاری کرے گی پارٹی کا موقف بیان کیا جائے گا۔

سندھ میں ماضی میں ارباب غلام رحیم، لیاقت جتوئی اور غوث بخش مہر، علی محمد مہر سابق صدر کے قریب رہے ہیں۔ راشد قریشی کا کہنا تھا کہ وہ کسی کا نام نہیں لیں گے مگر ان سمیت کئی سیاست دانوں نے جنرل مشرف سے رابطہ کرکے حمایت کی یقین دہانی کرائی ہے۔

انہوں نے بتایا کہ تنظیمی طور پر صوبہ سندھ اور بلوچستان کو دو دو حصوں میں، پنجاب اور صوبہ سرحد کو تین تین حصوں میں تقسیم کیا گیا ہے۔ کراچی کے بعد وہ بلوچستان اور صوبہ سرحد کا دورہ کریں گے۔

ماضی میں جنرل پرویز مشرف کی اتحادی اور حمایتی جماعت متحدہ قومی موومنٹ سے رابطے کے بارے میں بیرسٹر سیف کا کہنا تھا کہ متحدہ کے لوگ ان کے بھائی ہیں اور انہیں امید ہے کہ متحدہ کا ان کو تعاون حاصل ہوگا۔

فیس بک کا حوالہ دیتے ہوئے بیرسٹر سیف نے کہا کہ جنرل مشرف ان چند لوگوں میں سے ہیں جن کے سب سے زیادہ پرستار ہیں اور ان کو پارٹی میں لانے اور منظم کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔