’انڈیا کی سنجیدگی کا اندازہ کیسے ہو گا‘

باسط
،تصویر کا کیپشن’بنیادی سوال یہ ہے کہ آیا بھارت کے موقف میں کوئی ٹھوس تبدیلی آئی ہے یا نہیں‘۔
وقت اشاعت

پاکستان کا کہنا ہے کہ جموں و کمشیر کے مسئلے کے حل میں بھارت کی سنجیدگی کا اندازہ سب سے پہلے وہاں نافذ سیاہ قوانین کے خاتمے سے ہوگا۔

وزارت خارجہ کے ترجمان عبدالباسط نے بی بی سی اردو سروس سے بات کرتے ہوئے بھارتی وزیر اعظم من موہن سنگھ کے حالیہ دورۂ کشمیر کے بارے میں کہا کہ حریت قیادت اس بات کا اعادہ کر چکی ہے کہ بھارت کی اس قضیے کے حل میں سنجیدگی اس بات سے ظاہر ہوگی کہ جب وہ آرمڈ فورسز سپیشل ایکٹ اور پبلک سیفٹی جیسے سیاہ قوانین کا خاتمہ کرے گا۔ اس کے علاوہ بھارت کے زیر انتظام کشمیر سے فوجی واپسی بھی اہم کردار ادا کرے گی۔

’بنیادی سوال یہ ہے کہ آیا بھارت کے موقف میں کوئی ٹھوس تبدیلی آئی ہے یا نہیں۔ کشمیریوں نے اپنے جد و جہد سے یہ واضح کر دیا ہے کہ وہ حق خودارادیت چاہتے ہیں۔ لہذا بنیادی نکتہ یہی ہے کہ بھارت جموں و کمشیر کا مسئلہ سنجیدگی سے حل کرنا چاہتا ہے یا پھر ان دوروں سے مصنوعی تبدیلی ظاہر کرنا چاہتا ہے‘۔

وزیر اعظم من موہن سنگھ نے اس سے قبل یہ بھی بیان دیا تھا کہ پاکستان کے ساتھ موثر مذاکرات کرنے میں سب سے بڑی روکاوٹ اعتماد کا فقدان ہے ۔اس حوالے سے عبدالباسط نے اعتراف کیا کہ اعتماد کی کمی دونوں جانب سے ہے اور تب ہی سے ہے جب سے پاکستان وجود میں آیا اور جموں و کشمیر کا مسئلہ شروع ہوا ہے ’ضروت اس امر کی ہے کہ جہاں وہ دہشت گردی کی بات کریں، جو پاکستان کا بھی بڑا مسئلہ ہے تو وہاں اس کے حل کے لیے ہمارا تعاون ایک دوسرے کے لیے بہت ضروری ہے۔ دونوں ملک مل بیٹھ کر سنجیدگی سے ان تمام مسائل کو حل کریں جو کئی دہائیوں سے ان دونوں ملکوں کے تعلقات بہتر نہیں ہونے دی رہے‘۔