نیٹو ٹرالز پر حملے کے خلاف احتجاج

وقت اشاعت

پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد میں نیٹو کے سپلائی ٹرالرز پر حملے اور سات افراد کی ہلاکت پر ٹینکرز مالکان نے بدھ کو یوم سوگ منایا اور کوئی بھی ٹرالر یا ٹینکر کراچی سے رسد لیکر افغانستان نہیں گیا۔

فائل فوٹو، نیٹو سپلائی آئل ٹینکر
،تصویر کا کیپشناسلام آباد کے نواحی علاقے سنگ جانی میں مسلح شدت پسندوں کے نیٹو سپلائی ٹرمینل پر حملے میں سات افراد ہلاک اور سات زخمی ہو گئے تھے

کراچی کی بندرگاہ سے افغانستان میں موجود امریکہ اور اس کی اتحادی افواج کو عسکری ساز و سامان کے علاوہ تیل کی فراہمی کی جاتی ہے۔

ایک اندازہ کے مطابق روزانہ دو سو سے اڑھائی سو ٹینکر اور ٹرالر روزانہ یہ سامان لیکر چمن اور طورخم خیبر پاس سے افغانستان میں داخل ہوتے ہیں۔

فراہمی کے اس سلسلے کی ابتدا سنہ دو ہزار سات سے ہوئی جس پر پاکستان میں کوئی بھی روڈ ٹیکس نہیں لگایا جاتا ہے۔

ٹینکرز ایسوسی ایشن کے سربراہ یوسف شاہوانی نے بی بی سی بات کرتے ہوئے بتایا کہ اسلام آباد کے واقعے پر وہ یوم سوگ منا رہے ہیں، حکومت کوئی تحفظ فراہم نہیں کر رہی ہے، ڈرائیور یہاں سے خدا کے سہارے جاتے ہیں۔’ چمن سرحد پر ایف سی اور لیویز کے سامنے طالب بچے پتھراؤ کر کے گاڑیوں کے شیشے توڑ دیتے ہیں مگر انہیں وہ روکتے بھی نہیں ہیں۔‘

شاہوانی کا کہنا ہے کہ اب تک ان کے تقریباً ستر کے قریب ڈرائیور مارے گئے ہیں اور ایک سو کے قریب ٹینکر جلائے گئے ہیں، جن کا معاوضہ بھی بہت کم ملتا ہے۔ ان کے مطابق ٹھیکیدار ڈالروں میں رقم لیتے ہیں اور انہیں مقامی روپوں میں پیسے دیے جاتے ہیں سب پیسے ٹھیکیداورں کو مل رہے ہیں جو اپنے مال کا نقصان دکھا کر خوب مال کما رہے ہیں۔

اسلام آباد سے پہلے پشاور، جعفرآباد، کراچی اور دیگر علاقوں میں بھی نیٹو کو سپلائی کرنے والے ٹینکروں پر حملے ہوچکے ہیں۔

کراچی سے ہمارے نامہ نگار ریاض سہیل کے مطابق یوسف شاہوانی کا کہنا تھا کہ پاکستان سٹیٹ آئل کے ٹینکروں کا ایک مخصوص رنگ ہے مگر نجی ٹینکروں کا کوئی مخصوص رنگ نہیں ہوتا اس لیے ان کا اندازہ ہوجاتا ہے۔

ان ٹرانسپورٹروں کو پولیس اور دیگر اداروں سے بھی شکایت ہے، یوسف شاہوانی نے الزام لگایا کہ’ ان کے لیے ٹریفک پولیس، ایکسائز پولیس، نیشنل ہائی وے اتھارٹی اور ایف سی بھی طالبان بن گئی ہے جو فی ٹرک ایک ہزار سے پانچ سو روپے وصول کر رہے ہیں۔‘

کراچی گڈز کیریئر ایسوسی ایشن کے جنرل سیکریٹری ندیم اختر آرائیں کا کہنا ہے کہ ٹرانسپورٹروں کو تحفظ فراہم کرنا حکومت کی ذمہ داری ہے، انہوں نے حکام کو کہا ہے کہ اگر آپ کراچی کی بندرگاہ سے افغانستان رسد فراہم کرنا چاہتے ہیں تو سکیورٹی دینا آپ کی ذمہ داری ہے ۔

ان کے مطابق جب کوئی ایسا واقعہ ہوجاتا ہے تو کچھ روز کے لیے ایک دو پولیس موبائل آجاتی ہیں بعد میں پرانی پریکٹس شروع کردیتے ہیں۔

یاد رہے کہ پچھلے ایک سال میں نیٹو کو سپلائی کرنے والے ٹرکوں پر چار سے زائد حملے ہوچکے ہیں ٹرانسپورٹروں کا کہنا ہے کہ ان کے باوجود انہیں سکیورٹی فراہم نہیں کی جا رہی جبکہ پولیس حکام کا یہ موقف رہا ہے کہ ان ٹرانسپورٹروں نے خود نجی گارڈ رکھنے پر اتفاق کیا تھا جس بات سے وہ منحرف ہوگئے ہیں۔