’مال بردار ٹرینوں پر توجہ دی جائے گی‘
پاکستان ریلویز کے حکام کا کہنا ہے کہ ملک بھر میں دو سو ساٹھ ریل گاڑیاں چلائی جا رہی ہیں جن میں سے صرف چالیس ٹرینیں ایسی ہیں جن سے اسّی فیصد منافع ہو رہا ہے۔

پاکستان میں ریلوے انتظامیہ نے اپنے خسارے کو کم کرنے کے لیے جن ریل گاڑیوں کو بند کرنے کا فیصلہ کیا ہے ان میں وہ چار ریل گاڑیاں بھی شامل ہیں جوتین دہایوں سے چل رہی تھیں اور ریلوے کی مشہور اور اہم ریل گاڑیوں تصور ہوتی ہیں۔
ان ریل گاڑیوں میں شالیمار، تیز رو، چلتن اور شاہ رکن عالم شامل ہیں لیکن بقول ریلوے انتظامیہ اب یہ ٹرینین منافع بخش نہیں ہیں۔
پاکستان ریلویز کے جنرل مینجر آپریشن اشفاق خٹک نے بی بی سی کو بتایا کہ ریلوے نے ایک سو بیس ایسی ریل گاڑیوں کی نشاندہی کی ہے جن کے اخراجات زیادہ اور آمدن کم ہے۔ ان کے بقول یہ وہ ٹرینیں ہیں جو ریلوے کا خون نکال رہی ہیں اور ان ریل گاڑیوں کو چلانے کے لیے حکومت کو اپنی جیب سے پیسے دینے پڑ رہے ہیں۔
اشفاق خٹک کے مطابق شالیمار ٹرین ملک کے دو بڑے شہروں کراچی اور لاہور کے درمیان چلائی گئی تھی لیکن اب یہ ٹرین اپنا مقصد کھو بیٹھی ہے اور بروقت اپنی منزل تک نہیں پہنچ رہی۔انہوں نے کہا کہ تیزرو کے اخراجات زیادہ ہیں اور آمدن کم ہے اس لیے خسارے کی وجہ بن رہی ہے۔
ریلوے کے ترجمان شاہد اسلم نے بتایا کہ حکومتِ پاکستان کو اکیاون ٹرینیں بند کرنے کی تجویز دی گئی ہے لیکن ابھی صرف آٹھ ٹرینیں بند ہوئی ہیں جبکہ مزید چار ٹرینیں بند کی جا رہی ہیں اور ان میں شالیمار، تیز رو، چلتن اور شاہ رکن عالم شامل ہیں۔
ان کا کہنا ہے کہ اگر حکومت ریلوے انتظامیہ کی تجویز کو قبول کرلیتی ہے تو اس صورت میں دو سال کے عرصے میں اکیاون ایسی ٹرینیں بند کردی جائیں گی جو ریلوے کے لیے خسارے کا باعث ہیں۔
لاہور سے نامہ نگار عبادالحق نے بتایا کہ پاکستان ریلویز ملک بھر میں دو سو ساٹھ ریل گاڑیاں چلا رہا ہے اور ریلوے حکام کے مطابق ریلویز کو اس وقت نو ارب کے خسارے کا سامنا ہے جو مالی سال کے اختتام پر یعنی اس سال تیس جون تک گیارہ ارب کے قریب پہنچ جائے گا۔
ریلوے کے ترجمان نے بتایا کہ ایک سو بیس کے قریب ایسی ٹرینیں ہیں جن سے صرف پانچ فیصد آمدنی ہوتی ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
ان کے بقول جن آٹھ ریل گاڑیوں کو بند کیا گیا ہے ان کے بند ہونے سے کوئی عوامی ردعمل سامنے نہیں آیا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ عوامی ردعمل اس لیے سامنے نہیں آیا کیونکہ جن ریل گاڑیوں کو بند کیا گیا ہے اس پر بہت کم لوگ سفر کرتے تھے اور ان ریل گاڑیوں کو چلانے سے ریلوے کو خسارہ ہی خسارہ ہورہا تھا۔
شاہد اسلم کے بقول اس وقت دو سو ساٹھ ٹرینوں میں سے صرف چالیس ٹرینیں ایسی ہیں جن سے اسّی فیصد آمدن ہو رہی ہے۔
ریلوے حکام کا کہنا ہے کہ صرف ان ٹرینیوں کو چلایا جائے جو منافع بخش ہیں اور مسافر ٹرین سے ہٹ کر مال گاڑی پر توجہ دی جائے اور اس مقصد کے لیے بند کی جانے والی ریل گاڑیوں کے انجن کو مال گاڑیوں کے لیے استعمال میں لایا جائے۔
ریلوے حکام کے مطابق جو ٹرینیں بند کی جائیں گی اس سے ملازمین بے روز گار نہیں ہوں گے بلکہ ان ملازمین کا تقرر ان اسامیوں پر کردیا جائےگا جو پہلے سے ریلوے میں خالی ہیں۔



















