’پمرا کا بیان پردہ پوشی کی کوشش‘

وقت اشاعت

بی بی سی پاکستان نے الیکٹرانک میڈیا ریگولیٹری اتھارٹی (پمرا) کے حالیہ بیان پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اتھارٹی حقائق کو توڑ مڑوڑ کر بی بی سی اردو کی نجی ایف ایم سٹیشن کے ذریعے نشریات کو غیرقانونی طور پر بند کرنے کے اپنے اقدام پر پردہ ڈالنے کی کوشش کر رہا ہے۔

بی بی سی اردو

پمرا کی جانب سے دس جون کو بی بی سی سے متعلق جاری ایک بیان میں یہ دعویٰ کیا گیا ہے کہ اس نے کبھی بھی بی بی سی بلیٹن پر پابندی عائد نہیں کی ہے۔ بیان میں پمرا کا کہنا ہے کہ مئی دو ہزار نو میں ایف ایم ریڈیوز کو بی بی سی بلیٹن نشر کرنے کی اجازت دی تھی۔ اس کا کہنا ہے کہ یہ ایک بین الاقوامی اصول ہے کہ غیرملکی میڈیا کو میزبان ملک سے اجازت لینی ہوتی ہے۔

اسی بیان میں پمرا حکام کا کہنا ہے کہ بعض ریڈیو سٹیشن اجازت حاصل کرنے میں ناکامی کے باوجود قانون کی خلاف ورزی کرتے رہے جس کی اجازت نہیں دی جاسکتی ہے۔ ان سٹیشنوں کے خلاف کارروائی قانون کے دائرے میں رہتے ہوئے کی گئی۔ تاہم ادارے نے واضح کیا کہ جن سٹیشن کو اجازت دی گئی تھی وہ دن میں تین بلٹین نشر کرسکتے ہیں۔

تاہم بی بی سی پاکستان کا موقف ہے کہ تین بلیٹن روزانہ نشر کرنے کی اجازت پمرا کی جانب سے اس سے قبل دی جانے والی اجازتوں کے خلاف ہے جس میں بلیٹن کی تعداد پر کوئی پابندی نہیں تھی۔

بی بی سی حکام کا کہنا ہے کہ اس پر واضح نہیں کہ پمرا کو اس قسم کا فیصلہ کرنے کی اجازت کون سا قانون یا قوائد دیتے ہیں۔ ’ہم ابھی تک پمرا کو اس قانون کی وضاحت کے درخواست کے جواب کے منتظر ہیں۔‘

بی بی سی پاکستان کا موقف ہے کہ اس نے اور اس کے ریڈیو پارٹنرز نے سندھ ہائی کورٹ کے بی بی سی کے حق میں فیصلے کی روشنی میں نیک نیتی سے سرکاری اجازت کے لیے تمام قوانین کی مکمل پاسداری کی ہے۔

’ان یکطرفہ فیصلوں سے ہمیں افسوس ہے کہ ہمارے پاکستان میں سامعین کو اعلیٰ معیار کی غیرجانبدار اور آزاد صحافت سے محروم ہو رہے ہیں۔‘

پمرا نے اپنے بیان میں دعویٰ کیا ہے کہ پاکستان میں میڈیا پر کوئی قدغن یا سنسرشپ نہیں ہے۔