’ٹارگٹ کلنگ‘: سوات، ہنگو میں تین ہلاک

وقت اشاعت

پاکستان کے صوبہ خیبر پختونخوا کے وادی سوات اور ضلع ہنگو میں حکام کا کہنا ہے کہ ’ٹارگٹ کلنگ‘ کے دو الگ الگ واقعات میں مسلح افراد نے طالبان مخالف امن کمیٹی کے دو ممبران اور جماعت اسلامی کے ایک ضلعی سربراہ کو فائرنگ کرکے ہلاک کردیا ہے۔

سوات پولیس کے سربراہ غلام فاروق نے بی بی سی کو بتایا کہ منگل کی شام چار باغ کے علاقہ منگلتان میں توغا کنڈاؤ کے ایک پہاڑی مقام پر مسلح افراد نے امن کمیٹی کے ایک رکن کے مکان میں داخل ہوکر وہاں موجود افراد پر اندھا دھند فائرنگ کردی جس سے دو افراد موقع ہی پر ہلاک ہوگئے۔

انہوں نے کہا کہ ہلاک ہونے والے دونوں افراد علاقے میں حکومتی حامی گاؤں امن کمیٹی کے ارکان تھے۔

پولیس سربراہ نے مزید بتایا کہ اس واقعہ کے بعد سکیورٹی فورسز نے سارے علاقے کو گھیرے میں لے کر آپریشن شروع کردیا اور اس دوران پانچ حملہ آوروں کو ہلاک کردیا گیا۔ ان کے مطابق مارے جانے والے شدت پسند ٹارگٹ کلنگ کے واقعات میں ملوث تھے۔

مقامی لوگوں کا کہنا کہ حملہ آوروں کی لاشیں سارا دن چارباغ کے علاقے میں پڑی رہیں اور لوگ اسے دیکھنے کےلیے دور دراز علاقوں سے آرہے تھے۔

خیال رہے کہ سوات میں گزشتہ چند ماہ سے حکومتی حامی امن کمیٹیوں اور طالبان مخالف لشکروں کے ممبران پر حملوں میں اضافہ ہوا ہے۔ اس دوران کئی افراد نشانہ بنائے گئے ہیں۔ ایک ماہ قبل تحریک انصاف کے ایک رہنما شیر خان کو بھی فائرنگ کرکے ہلاک کیا گیا تھا۔

ادھر خیبر پختونخوا کے ایک اور ضلع ہنگو میں بھی مسلح افراد نے جماعت اسلامی کے ضلعی سربراہ کو فائرنگ کرکے ہلاک کردیا ہے۔

ہنگو کے ضلعی پولیس سربراہ رشید خان کے مطابق جماعت اسلامی کے ضلعی امیر فدا سعدی ایک گاڑی میں سفر کر رہے تھے کہ کوٹکی کے علاقے میں گاڑی میں سوار افراد نے پستول نکال کر ان پر فائرنگ کردی جس سے وہ موقع ہی پر ہلاک ہوگئے جبکہ ان کے ایک اور ساتھی زخمی ہوئے۔

ابھی تک اس واقعہ کی ذمہ داری کسی نے قبول نہیں کی ہے۔ تاہم مقامی لوگوں نے اسے واقعہ کو ’ٹارگٹ کلنگ’ قرار دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ مرحوم رہنما نے چند ماہ قبل ہنگو میں شیعہ سنی امن معاہدے کرانے میں اہم کردار ادا کیا تھا۔