’اڑتیس شدت پسند اور آٹھ اہلکار ہلاک‘

پاکستان کے قبائلی علاقے باجوڑ ایجنسی میں سکیورٹی فورسز اور عسکریت پسندوں کے درمیان ہونے والی جھڑپوں میں کم سے کم اڑتیس شدت پسند اور آٹھ سکیورٹی اہلکار ہلاک ہوئے ہیں۔ سکیورٹی فورسز نے تئیس کے قریب مسلح شدت پسندوں کو گرفتار بھی کرلیا ہے۔
پولٹیکل انتظامیہ باجوڑ کے ایک اہلکار کے مطابق بدھ کو صدر مقام خار کے علاقوں غنڈئی اور سمسئی میں شدت پسندوں کی موجودگی پر قانون نافذ کرنے والے اداروں نے آپریشن شروع کردیا اور سارا دن علاقے میں شدید جھڑپوں کا سلسلہ جاری رہا۔
انہوں نے کہا کہ کہ گن شپ ہیلی کاپٹروں سے شدت پسندوں کے ٹھکانوں اور پناہ گاہوں پر بھرپور بمباری کی گئی جب کہ اس دوران سکیورٹی فورسز کو ٹینکوں اور بھاری توپ خانے کی مدد بھی حاصل رہی۔
اہلکار کے مطابق جھڑپوں میں کم سے کم اڑتیس شدت پسند مارے گئے جب کہ آٹھ سکیورٹی اہلکار بھی ہلاک اور چھ زخمی ہوئے۔ کارروائی میں تئیس کے قریب عسکریت پسندوں کو گرفتار بھی کرلیا گیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ آپریشن کے بعد علاقہ شدت پسندوں سے پاک کردیا گیا ہے۔ یہ بھی اطلاعات ہیں کہ جھڑپوں میں مقامی طالبان کے ایک اہم کمانڈر مولوی عبد اللہ بھی زخمی ہوئے ہیں تاہم طالبان ذرائع سے اس کی تصدیق نہیں ہوسکی۔ مولوی عبد اللہ باجوڑ میں طالبان کمانڈر مولوی فقیر کے بعد اہم ترین کمانڈر سمجھے جاتے ہیں۔
باجوڑ میں پچھلے سال ہونے والے فوجی آپریشن کے بعد یہ اپنی نوعیت کی بڑی کارروائی بتائی جاتی ہے۔ باجوڑ ایجنسی میں چند ماہ سے ٹارگٹ کلنگ اور حکومتی حامی سرداروں اور امن کمیٹیوں کے ارکان پر حملوں میں اضافہ ہو رہا ہے اور اس دوران طالبان مخالف کئی افراد اغوا یا مارے جاچکے ہیں۔
اس سے قبل باجوڑ میں حکومت کی جانب سے دو تین مرتبہ علاقے سے شدت پسندوں کو نکالنے کے دعوے کیے جا چکے ہیں تاہم حالیہ واقعات سے بظاہر لگتا ہے کہ شدت پسند اب بھی وہاں سرگرم عمل ہیں۔ تاہم مقامی لوگوں کے مطابق علاقے میں امن و امان کی صورتحال پہلے کے مقابلے میں کافی حد تک بہتر ہوئی ہے۔















