کارساز بم حملہ، ایک مشتبہ شخص گرفتار
کراچی پولیس نے بینظیر بھٹو پر کارساز کے مقام پر بم حملے میں ملوث ایک مشتبہ شخص کو گرفتار کرنے کا دعویٰ کیا ہے اور اسے ایک اہم پیشرفت قرار دیا ہے۔

کراچی پولیس کے سربراہ وسیم احمد نے عظمت اللہ کی گرفتاری کی تصدیق کی اور بتایا کہ انہیں سی آئی ڈی کی ٹیم نے گزشتہ روز گرفتار کیا گیا ہے، تاہم انہوں نے اس بارے میں مزید تفصیلات بتانے سے گریز کیا اور کہا کہ معاملہ حساس نوعیت کا ہے اس لیے اس بارے میں کچھ بتانا قبل از وقت ہوگا۔
یاد رہے کہ اٹھارہ اکتوبر دو ہزار سات کو جب پاکستان پیپلز پارٹی کی چیئرپرسن بینطیر بھٹو خود ساختہ جلاوطنی کے بعد وطن پہنچی تھیں تو ان کے استقبالیہ جلوس میں کارساز کے مقام پر بم حملہ کیا گیا تھا، جس میں ڈیڑھ سو سے زائد افراد ہلاک ہوگئے تھے، اس حملے کا مقدمہ نامعلوم افراد کے خلاف دائر کیا گیا تھا۔
کراچی سے بی بی سی کے نامہ نگار ریاض سہیل کے مطابق اٹھارہ اکتوبر واقعے کے ایک تفتیشی افسر نے بی بی سی کو بتایا کہ دوران تفتیش بھی کوئی نام سامنے نہیں آیا ، مشترکہ تفتیشی ٹیم اس مشتبہ شخص سے پوچھ گچھ کرے گی جس کے بعد اصل صورتحال سامنے آئیگی۔
آج بینطیر بھٹو کے سالگرہ کے روز پولیس نے اس حملے کے ملزم کی گرفتاری کا دعویٰ کیا ہے۔
دوسری جانب کراچی سٹی کورٹس میں وکلا نے عدم تحفظ کے خلاف عدالتی کارروائی کا بائیکاٹ کیا ہے، کراچی پولیس کے سربراہ نے وکلا کو یقین دہانی کرائی کہ عدالت کے انتظامات فول پروف بنائے جائیں گے۔
دوپہر کو کراچی پولیس کے سربراہ وسیم احمد بار روم پہنچے اور وکلا رہنماؤں سے ملاقات کی، جس کے بعد سٹی کورٹس میں پولیس کی نفری میں مزید پچاس اہلکار وں کا اضافہ کرنے کا اعلان اور فیصلہ کیا گیا کوئی بھی وکیل یا پولیس اہلکار بغیر وردی عدالت کے احاطے میں داخل نہیں ہوگا۔ تمام داخلی راستوں کی خفیہ کیمروں سے نگرانی کی جائیگی۔
پولیس کے یقین دہانی کے بعد وکلا نے اپنا احتجاج پندرہ روز تک ملتوی کردیا ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
یاد رہے کہ سنیچر کو سٹی کورٹس میں نامعلوم مسلح افراد نے حملہ کرکے عاشورہ بم دھماکے میں ملوث چار ملزمان کو چھڑوالیا تھا اس دوران عدالتی احاطے میں دستی بم پھینکے گئے اور ہوائی فائرنگ ہوئی جس کے خلاف وکلا نے احتجاج کا اعلان کیا تھا۔



















