اراکین اسمبلی کی جعلی ڈگریاں

    • مصنف, اعجاز مہر
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد
  • وقت اشاعت

الیکشن کمیشن آف پاکستان کے سابق وفاقی سیکریٹری کنور دلشاد نے کہا ہے کہ ایک سو چالیس ارکان ِِِاسمبلی کے پاس جعلی تعلیمی اسناد ہیں۔

پیر کو بی بی سی سے بات کرتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ سنہ دو ہزار آٹھ کے انتخابات کے بعد سے الیکشن کمیشن کو دو سو پینتیس اراکین کی نا اہلی کی درخواستیں موصول ہوئیں، جس میں ستر سے زیادہ جعلی ڈگریوں سے متعلق تھیں۔

انہوں نے کہا کہ کچھ درخواست گزار ایسے بھی ہیں جو الیکشن کمیشن سے بالا بالا خود ہی مختلف عدالتوں چلےگئے ۔ مجموعی طور پر جعلی ڈگریوں والے اراکین کی تعداد ایک سو چالیس سے پینتالیس تک ہے۔

کنور دلشاد نے بتایا کہ اس وقت ایک درجن کے قریب اراکین اسمبلی جعلی اسناد کی بنا پر نا اہل ہوچکے ہیں جبکہ اس سلسلے کے پچاس سے زیادہ مقدمات الیکشن ٹریبونلز میں زیر سماعت ہیں۔

ایک سوال کے جواب میں انہوں نے بتایا کہ ریٹرننگ افسران نے جب جعلی ڈگریوں کی بنیاد پر کچھ امیدواروں کے کاغذات نامزدگی مسترد کیے تھے تو متاثرین اپیل میں گئے اور اپیلٹ ٹریبونلز نے کہا کہ اسناد کی تصدیق کا طریقہ کار طویل ہے، لہٰذا وہ انتخاب میں حصہ لیں، بعد میں کیسیز آنے پراُن کا جائزہ لیا جائیگا۔

سابق سیکریٹری الیکشن کمیشن نے کہا کہ اراکین اسمبلی کی اہلیت اور نا اہلی کے بارے میں قوانین موجود ہیں لیکن ان پر عمل درآمد کا معاملہ غور طلب ہے۔ انہوں نے مثال دی کی عدلیہ کے خلاف انٹرویو دینے پر سابق صدر رفیق تارڑ کے کاغذات نامزدگی چیف الیکشن کمشنرنےمسترد کیے تھے تاہم بعد میں ہائی کورٹ نے انہیں الیکشن میں حصہ لینے کی اجازت دے دی تھی۔

انہوں نے ایک اور سوال کے جواب میں کہا کہ پہلے کسی امیدوار کے خلاف جب مقدمہ آتا تھا تو اسمبلی کی مدت پوری ہونے یا اسمبلی ٹوٹنے تک فیصلے نہیں ہو پاتے تھے۔ لیکن اب حالات بدل گئے ہیں، عدلیہ فوری فیصلے دے رہی ہے اور تاحال ایک درجن کے قریب اراکین قومی و صوبائی اسمبلی نا اہل ہوچکے ہیں۔