شواہد ہمیں بھی فراہم کریں: حکومت

وقت اشاعت

پاکستان پیپلز پارٹی کی حکومت نے اقوام متحدہ کےسیکریٹری جنرل بان کی مون کو خط لکھ کر یہ درخواست کی ہے کہ بے نظیر بھٹو کے قتل کی تحقیقات کرنے والے کمیشن نے جو شواہد جمع کیے تھے وہ اسے بھی فراہم کیے جائیں تاکہ ان کی بنیاد پر واقعے کے ملزمان کے خلاف حتمی چالان عدالت میں پیش کیا جاسکے۔

<link type="page"><caption> ’مناسب سکیورٹی ہوتی تو بینظیر بچ سکتی تھیں‘</caption><url href="http://www.bbc.co.uk/urdu/pakistan/2010/04/100415_benazir_un_report.shtml" platform="highweb"/></link>

پاکستان کے وزیر داخلہ رحمن ملک کے بقول یہ قدم اس وقت اٹھایا گیا ہے جب حکومت کو اس بات کا پتہ چل چکا ہے کہ بے نظیر بھٹو کے قتل کی منصوبہ بندی کب اور کہاں تیار کی گئی تھی۔

اقوام متحدہ کی تحقیقاتی رپورٹ کے مطابق تین رکنی کمیشن نے تحقیقات کے دوران 250 سے زیادہ افراد سے انٹرویوز کیے تھے جن میں پاکستانی حکام اور شہریوں کے علاوہ پاکستان کے واقعات کے بارے میں معلومات رکھنے والے غیرملکی شہریوں اور برطانوی میٹ پولیس (اسکاٹ لینڈ یارڈ) کی اس ٹیم سے بھی ملاقاتیں کی تھیں جس نے بے نظیر بھٹو کے قتل کے پہلوؤں کی تفتیش کی تھی۔

اسکے ساتھ ساتھ کمیشن نے ایسے سیکڑوں کاغذات ، ویڈیوز، تصویروں اور دوسرے دستاویزی مواد کا جائزہ لیا تھا جو پاکستان کی وفاقی اور صوبائی حکومتوں اور دوسرے ذرائع سے حاصل ہوئے تھے۔

سوال یہ ہے کہ اگر یہ شواہد پاکستان کو مل بھی جاتے ہیں تو کیا انہیں پاکستانی عدالت میں ملزمان کے خلاف بطور ثبوت پیش کیا جاسکتا ہے۔ بین الاقوامی قانون کے ماہر احمر بلال صوفی نے بی بی سی کے نامہ نگار احمد رضا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ یہ شواہد پاکستانی عدالتوں میں براہِراست استعمال نہیں ہوسکتے۔

’کیونکہ شواہد کو بطور ثبوت استعمال کرنے کے لیے یہ ضروری ہے کہ انہیں ملک کے مقامی قانون کے تحت باضابطہ طور پر اکٹھا کیا گیا ہو جبکہ کمیشن نے اس معاملے میں اگر کوئی شہادتیں جمع کی بھی ہیں تو وہ باضابطہ طور پر نہیں کی ہیں۔‘

تاہم احمر بلال صوفی کہتے ہیں کہ پاکستانی حکام ان شواہد کو تفتیش کے لیے استعمال کرسکتے ہیں۔

’وہ اسکا استعمال کرکے اپنی تفتیش کا دائرہ مزید آگے بڑھاسکتے ہیں اور اس تفتیشی عمل میں انہیں جو شہادتیں ملتی ہیں انہیں پھر وہ عدالت میں پیش کرسکتے ہیں۔‘

مبصرین کہتے ہیں کہ پیپلز پارٹی پچھلے دو سال سے زیادہ عرصے سے برسراقتدار ہے اور آصف علی زرداری ملک کے صدر ہیں۔ پھر کیا وجہ ہے کہ اسے اپنی قائد کے قاتلوں کو گرفت میں لینے کے لیے ثبوتوں کے لیے ملک سے باہر دیکھنا پڑ رہا ہے۔

سینئر صحافی اور تجزیہ کار ضیاء الدین کا کہنا ہے کہ ’یا تو اس حکومت کو یہ اندازہ ہوگیا ہے کہ وہ جن کو پکڑنا چاہ رہے ہیں انہیں پکڑ نہیں پائیں گے یعنی حکومت کی اتنی رسائی ہی نہیں ہے۔‘

ان کے بقول حکومت کے اس اقدام کا ممکنہ طور پر ایک اور محرک یہ بھی ہوسکتا ہے کہ اقوام متحدہ کے تحقیقاتی کمیشن کی رپورٹ سامنے آنے کے بعد پاکستان کے اندر جو تفتیش ہوئی ہے اس میں کمیشن کی تحقیقات کے نتائج کو مسترد کردیا گیا ہو۔

’مثلاً اس رپورٹ میں یہ لکھا ہے کہ (اس وقت کے راولپنڈی پولیس کے سربراہ) سعود مرزا پر جس طرح کے الزامات لگائے گئے ہیں اگر وہ صحیح ہیں تو انہیں اب تک قانون کے کٹہرے میں ہونا چاہیے تھا لیکن ایسا نہیں ہوسکا تو لگتا یہی ہے کہ پاکستانی اداروں نے جو تفتیش کی ہے انہوں نے اقوام متحدہ کے کمیشن کی تحقیقات کے نتائج کو مکمل طور پر رد کردیا ہو اور حکومت نے ان الزامات کو ثابت کرنے کے لیے اقوام متحدہ سے ثبوت مانگے ہوں۔‘