برطانیہ پاک سٹریٹیجک ڈائیلاگ کا فیصلہ

برطانیہ کے وزیر خارجہ ولیم ہیگ نے کہا ہے کہ برطانیہ اور پاکستان نے مختلف شعبوں میں تعاون کو مزید بہتر بنانے کے لیے سٹریٹیجک ڈائیلاگ شروع کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔
انہوں نے اپنے تین روزہ دورے کے پہلے روز بدھ کو پاکستان میں اپنے ہم منصب شاہ محمود قریشی سے ملاقات کی اور دو طرفہ امور پر تبادلہِ خیال کیا۔
برطانوں وزیرِخارجہ نے بعد میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ برطانیہ کہ نئی حکومت پاکستان کے ساتھ طویل المدت اور پر خلوص تعلقات کے لیے پر عزم ہے اور برطانیہ تعلقات کو مزید بہتر کرنا چاہتا ہے۔
انہوں نے کہا ’ہمیں فخر ہے کہ دس لاکھ پاکستانی نژاد برطانوی ملک کی خدمت کر رہے ہیں جن میں سات رکنِ پارلیمنٹ اور ایک ہماری پارٹی کی چیئرپرسن ہے۔‘
ولیم ہیگ کے مطابق برطانیہ پاکستان کے ساتھ اسٹریٹیجک مذاکرات کو بڑھانے میں دلچسپی لے رہا ہے اور اس سلسلے میں پاکستانی حکام سے بات بھی کر لی گئی ہے۔
انہوں نے بتایا کہ دونوں ممالک نے مختلف شعبوں میں تعاون کو مزید بہتر کرنے کے لیے سٹریٹیجک مذاکرات شروع کرنے کا فیصلہ کیا ہے اور ان مذاکرات میں دونوں ممالک کے درمیان معاملات مثلاً پاکستانیوں کے لیے ویزا کے مسئلے پر بھی بات ہوگی۔
ان کے مطابق برطانیہ نے پاکستان کے لیے اگلے چار سالوں میں ترقیاتی امداد بڑھا کر چھیاسٹھ کروڑ پچاس لاکھ پاؤنڈ دینے کا فیصلہ کیا جس میں پچیس کروڑ پائونڈ تعلیم جبکہ پانچ کروڑ دہشت گردی سے متاثرہ علاقوں کی ترقی کے لیے ہونگے۔
افغانستان کے صورتحال پر بات کرتے ہوئے برطانوی وزیرِخارجہ ولیم ہیگ نے کہا کہ ان کی حکومت افغانستان کی سکیورٹی کی صورتحال کو بہتر بنانے کے لیے پاکستان کے ساتھ مل کر کام کرنا چاہتی ہے اور اس بارے میں پاکستانی حکومت بھی دلچسپی لے رہی ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
انہوں نے کہا کہ افغانستان کے مسئلے کا حل اس بات میں ہے کہ ایک ایسا سیاسی سیٹ اپ ہو جس میں افغانی عوام کے تمام طبقوں کی نمائندگی ہو۔
پاکستان اور برطانیہ کے درمیان تجارت پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان ہر سال لاکھوں پاؤنڈ کا کاوربار ہوتا ہے اور اس کو مزید بڑھانے پر غور ہو رہا ہے۔
برطانوی وزیرخارجہ ولیم ہیگ جمعرات کو کراچی جائیں گے جہاں وہ تجارتی نمائندوں سے ملاقات کریں گے۔



















