جنوبی وزیرستان:ڈرون حملے میں سات ہلاک

وقت اشاعت

ایک اندازے کے مطابق دوہزار آٹھ سے ابتک ایک سو سے زیادہ ڈرون حملوں میں 985 افراد ہلاک ہو چکے ہیں جنوبی وزیرستان کے صدر مقام وانا میں طالبان کے ایک مبینہ ٹھکانے پر ڈرون حملے میں سات شدت پسند ہلاک اور دو زخمی ہوگئے ہیں۔

مقامی لوگوں سے موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق جنوبی وزیرستان کے صدر مقام وانا سے دس کلومیٹر دور غواخوا گاؤں میں طالبان کے ایک ٹھکانے کو نشانہ بنایا گیا جس میں سات شدت پسند ہلاک ہوگئے ہیں۔ہلاک ہونے والوں میں چھ کا تعلق پنجاب سے اور ایک ملا نذیر گروپ کا مقامی جنگجو بتایا جاتا ہے۔اس ڈرون حملے میں دو افراد زخمی بھی ہوئے ہیں۔

جنوبی وزیرستان کے علاقہ محسود فوجی آپریشن کے بعد تقریباً مکمل طور پر خالی ہوچکا ہے البتہ افغان سرحد کے قریب وزیر قبائل کے علاقے میں مُلا نذیر گروپ کے ٹھکانوں پرگزشتہ ایک سال کے دوران یہ دوسرا ڈرون طیارے سے حملہ ہے۔

مقامی لوگوں کے مطابق منگل کی صُبح سے جنوبی وزیرستان کے مختلف علاقوں پر جاسوس طیاروں کی پروازیں جاری تھیں اور حملے کے دوران فضا میں دو جاسوس طیارے موجود تھے۔

ایک عینی شاہد نے بی بی سی کو بتایا کہ دھماکے کے بعد قریبی علاقے کے لوگ وہاں پہنچ گئے اور ملبے سے لاشوں کو نکال لیاگیا انہوں نے کہا کہ لاشیں مکمل طور پر جھلس گئی تھی اور کسی کی بھی شناخت نہیں ہورہی تھی۔ان کہ مطابق لاشوں کو کپڑوں میں بند کرکے مقامی طالبان ایک گاڑی میں نامعلوم مقام پر منتقل کردیا۔

امریکہ ایک پالیسی کے مطابق نہ تو ان ڈرون حملوں کی تصدیق کرتا ہے اور نہ ہی تردید۔ ڈرون حملے امریکہ کے خفیہ ادارے سی آئی اے کے احکامات کے تحت ہوتے ہیں۔

امریکہ الزام لگاتا رہا ہے کہ پاکستان کے قبائلی علاقے القاعدہ کا عالمی مرکز بن چکے ہیں جہاں سے القاعدہ دنیا میں دہشتگردی کی منصوبہ بندی کرتی ہے۔

جون میں القاعدہ کا سینئیر رہنماء مصطفیٰ ابو یزید ایک ڈرون حملے میں مارا گیا تھا۔ مصطفیٰ ابو یزید کے بارے میں کہا جاتا تھا کہ وہ القاعدہ تنظیم میں اسامہ بن لادن اور ایمن الظہوری کے بعد سب اہم رہنماء تھا جو القاعدہ کے مالی معاملات کے انچارج تھے۔

کچھ عرصے سے پنجابی طالبان نامی شدت پسندوں کی تنظیم قبائلی علاقوں میں سرگرم ہے۔ مبصرین کا خیال ہے کہ پنجابی طالبان در اصل وہ پنجابی شدت پسند ہیں جو پاکستان میں شیعہ مسلک سے تعلق رکھنے والے افراد کے خلاف کاررائیوں میں ملوث رہتے ہیں اور 2004 سے انہوں نے قبائلی علاقوں میں اپنے ٹھکانے قائم کر رکھے ہیں۔