صحافی: پاکستان خطرناک ترین ملک

پاکستان میں دوران فرائض ہلاک ہونے والے صحافی
،تصویر کا کیپشنپاکستان میں دوران فرائض ہلاک ہونے والے صحافی
وقت اشاعت

پاکستان میں جنوبی ایشیائی ممالک سے تعلق رکھنے والے صحافیوں کی تنظیم سیفما کی طرف سے اپنے قیام کے دس سال پورے ہونے پر قبائلی علاقوں اور خیبر پختون خوا میں دہشت گردی کے خلاف جاری مبینہ جنگ کے دوران ہلاک ہونے والے صحافیوں کو خراج تحسین پیش کرنے کےلیے ایک تقریب کا اہتمام کیا گیا جس میں اخبار نوسیوں کو درپیش خطرات اور ان کے مسائل پر تفصیل سے بحث کی گئی۔

تقریب ’سیفما پشاور چیپٹر‘ کی جانب سے پشاور پریس کلب میں منعقد کی گئی جس میں فاٹا، خیبر پختون خوا اور اسلام آباد کے صحافیوں نے شرکت کی۔

تقریب سے خطاب کرتے ہوئے صوبہ خیبر پختون خوا حکومت کے ترجمان میاں افتخار حسین نے کہا کہ ایسے حالات میں جب صحافیوں کو ہر طرف مشکلات کا سامنا ہے اور ان پر حملے بھی ہو رہے ہیں، وہ پھر بھی اس پیشے میں رہ کر ملک و قوم کی خدمت کر رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ آج کل صحافی جن خطرات سے دوچار ہیں ایسے ہی حالات کا سامنا سیاسی کارکنوں کو بھی ہے اور انھیں بھی نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ سکیورٹی فورسز کی موثر کارروائیوں کے نتیجے میں صوبہ خیبر پختون خوا میں دہشت گردوں کے نیٹ ورک اور کمانڈ اینڈ کنٹرول سسٹم ختم ہو چکا ہے اور جیسے پہلے ہم اپنی بقاہ کی جنگ لڑ رہے تھے اب شدت پسند اپنی بقا کی لڑائی لڑ رہے ہیں۔

سینئر صحافی اور سیفما کے صوبائی صدر رحیم اللہ یوسف زئی نے کہا کہ پاکستان پوری دنیا میں صحافیوں کےلیے سب سے خطرناک ملک ہے لیکن اس کے باوجود یہاں صحافی کام کر رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ تقریب منعقد کرانے کا مقصد ان صحافیوں کو خراج تحسین پیش کرنا ہے جنھوں نے فرائص کے دوران اپنی زندگیاں قربان کر کے اس پیشے کی لاج رکھی۔

قبائلی صحافیوں کی تنظیم ٹی یو جے کے صدر ابرہیم شنواری نے کہا کہ پشاور اور اسلام آباد کے صحافی تو تنخواہوں میں اضافے اور ویج ایوارڈ پر عمل درآمد کی بات کرتے ہیں لیکن فاٹا میں پچاس سے ساٹھ فیصد صحافیوں کو کوئی تنخواہ نہیں مل رہی، بلکہ وہ مفت میں کام کر رہے ہیں۔

پشاور پریس کلب کے صدر شمیم شاہد نے کہا کہ سب سے پہلے پشاور پریس کلب کے ہال سے دہشت گردوں کے خلاف آواز اٹھائی گئی اور یہی وجہ ہے کہ اس عمارت کو خود کش حملے کا نشانہ بنایا گیا۔

نجی ٹیلی ویژن آج ٹی وی کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر طلعت حسین نےکہا کہ صحافیوں کو اپنے مسائل حل کرانے کےلیے ایک بہتر نیٹ ورکنگ کی ضروت ہے تاکہ کراچی سے لے کر فاٹا تک اخبار نویسوں کا آپس میں ایک مضبوط رابطہ ہو اور وہ ایک دوسرے کی مشکلات سے باخبر رہیں۔

تقریب سے خطاب میں سینئر قبائلی صحافی سیلاب محسود نے کہا کہ قبائلی علاقوں سے زیادہ تر صحافی نقل مکانی کرنے دوسرے علاقوں میں منتقل ہو چکے ہیں اور جو وہاں مقیم ہیں وہ ایسے حالات میں وہاں کام کر رہے ہیں کہ اوپر ڈرون کا خوف ہے اور نیچے زمین پر خنجر کا ڈر ہے۔

خیال رہے کہ دو ہزار پانچ سے لیکر اب تک فاٹا اور خیبر پختون خوا میں گیارہ کے قریب صحافی ڈیوٹی کے دوران ہلاک ہوچکے ہیں ان میں اللہ نور وزیر، امیر نواب، حیات اللہ، ڈاکٹر نور حکیم، محمد ابراہیم، موسی خان خیل، نصیر آفریدی، کامل مشہدی، عظمت بنگش، صدیق باچا اور ایک افغان صحافی جان اللہ ہاشم زادہ شامل ہیں۔