داتا کا لنگر بند پڑا ہے

- مصنف, عبادالحق
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، لاہور
- وقت اشاعت
لاہور میں داتا دربار پر ہونے والے خودکش حملوں کے بعد عقیدت مند تو پہلے کی طرح آنا شروع ہوگئے ہیں لیکن ابھی تک وہاں لنگر کی تقیسم کا آغاز نہیں ہوا۔
اس واقعے سے پہلے دربار میں یہ معمول تھا کہ چار سے پانچ ہزار تک دیگیں پکتیں اور بانٹی جاتی تھی۔
داتا دربار کے دونوں اطراف میں کئی ایسے دکانیں ہیں جہاں پر لنگر کے لیے پکی پکائی دیگیں ملتیں ہیں اور درگار پر حاضری دینے والے ان دیگوں کو خریدکر وہاں موجود مفلوک الحال افراد میں تقسیم کردیتے ہیں۔
داتا دربار پر حملے کے بعد تین دن گزر چکے ہیں لیکن ابھی تک لنگر کی تقسیم کی دوبارہ شروع نہیں ہوسکی۔
مزدوروں کی ایک بڑی تعداد دن بھر کام کرنے کے بعد یہں سے ملنے والے لنگر سے اپنا پیٹ بھرتی ہے جبکہ داتا دربار کے قریب رہنے والے ایسے افراد بھی یہاں سے اپنے گھر والوں کے لیے کھانا لے جاتے ہیں جن کو دن بھر کوئی روزگار نہیں ملتا ۔
دربار کے قریب لنگر کے لیے پکی پکائی دیگیں تیار کرنے والے محمد ندیم کا کہنا ہے کہ پہلی مرتبہ ایسا ہوا کہ دربار میں لنگر تقسیم نہیں کیا جارہا۔ ان کے بقول لنگر کی وجہ سے کئی غریب افراد پلتے ہیں اور مفلوک الحال لوگ یہاں قطار قطار در نظر آتے ہیں۔
دن ہو یا رات چوبیس گھنٹے دربار کے اردگرد لنگر تیار کرنے والی دکانیں چوبیس گھنٹے کھلی رہتی تھیں، لیکن اب تین دنوں سے یہ دکانیں بند پڑی ہیں ۔محمد ندیم کا کہنا ہے کہ لنگر بند ہونے کی وجہ سے مزدور اور غریب افراد دربدر پھر رہے ہیں ۔ ان کے بقول دن بھر کئی افراد ان سے پوچھتے ہیں کہ لنگر کب دوبارہ تقسیم ہونا شروع ہوگا۔
محمد ندیم کا یہ بھی کہنا ہے کہ ان کو یہ معلوم نہیں ہے کہ کب لنگر کی تقسیم کا کام دوبارہ شروع ہوگا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
داتا دربار پر آنے والے عقیدت مندوں کے چہروں میں دکھ اور ملال کی کیفیت بھی واضح نظر آتی ہے۔ ایک بوڑھی خاتون اپنے پینتیس سالہ بیٹے کو تلاش کرتی بھی نظر آئی۔ پولیس کے مطابق یہاں ہلاک ہونے والے میں چار افراد ایسے ہیں جن کی ابھی شناخت نہیں ہوسکی۔



















