نیٹو سپلائی کی بندش کی دھمکی
- مصنف, ایوب ترین
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کوئٹہ
- وقت اشاعت
گزشتہ ماہ بعض نامعلو م افراد نے چھتہر کے علاقے میں دس سے زیادہ ٹاوروں کو تخریب کاری کانشانہ بنایا تھا۔ بلوچستان کے زمینداروں نے کہا ہے کہ جب تک صوبے کے دیہی علاقوں میں بارہ سے پندرہ گھنٹے تک بجلی فراہم نہیں کی جائے گی اس وقت تک بلوچستان کے راستے افغانستان میں نیٹو افواج کے لیے سازوسامان کی سپلائی بند رہے گی۔
دوسری جانب واپڈا حکام نے زمینداروں کو یقین دہانی کرائی ہے کہ گدو سے بلوچستان کے لیے بجلی کی سپلائی کے مین لائن کی مرمت کا کام جاری ہے اور امکان ہے کہ ایک ہفتے تک صوبے میں بجلی کی صورتحال بہترہوجائے گی۔
زمیندار ایکشن کمیٹی کے سربراہ سید تاج محمد آغا نے کہا ہے کہ جب تک واپڈا کی جانب سے بلوچستان کے زرعی صارفین کو بارہ سے پندرہ گھنٹے تک کی بجلی کی سپلائی بحال نہیں ہوگی اس وقت تک کراچی سے بلوچستان کے راستے افغانستان میں نیٹو افواج کے لیے فوجی ساوسامان ،تیل اور اشیاء خورد نوش لیے جانے والے کنٹنروں اور آئل ٹینکروں کے لیے خضدار سے چمن تک قومی شاہراہ بند رہے گی۔
سنیچر کو کوئٹہ میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتےہو ئے انہوں نے کہا کہ گزشتہ ایک ماہ سے بلوچستان کے زرعی صارفین کو دن میں صرف چھ گھنٹے بجلی دی جارہی ہے جس کے باعث انکے فصلات اور باغات مکمل طور پر تبا ہ ہوگئے ہیں جس سے تنگ آکر زمینداروں نے گزشتہ تین دنوں سے خضدار، سوراب، منگوچر کڈکوچہ اور یارو کے مقامات نیٹو کے سینکڑوں کنٹینرز اور آئل ٹینکرز روک رکھے ہیں۔
اس سے قبل زمینداروں کے ایک وفد سے ملاقات کے بعد میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے پیپکو کے منیجنگ ڈائریکٹر طاہر بشارت چیمہ نے کہا کہ سندھ سے ملعقہ بلوچستان کے علاقے چھتہر کے مقام پر تخریب سے متاثرہ ٹاوروں کی مرمت کا کام تیزی سے جاری ہے اور امکان ہے کہ ایک ہفتے کے اندر بلوچستان کے ضلعی صارفین کو دس گھنٹے سے زیادہ بجلی کے فراہمی بحال ہوسکے۔
خیال رہے کہ گزشتہ ماہ کی سترہ تاریخ کو بعض نامعلو م افراد نے چھتہر کے علاقے میں دس سے زیادہ ٹاوروں کو تخریب کاری کانشانہ بناکربجلی کے تار بھی ساتھ لیے گئے تھے۔















