داتا دربار حملے اور بلیک واٹر کا نام

لاہور ہائی کورٹ کے چیف جسٹس خواجہ محمد شریف نے کہا ہے کہ داتا دربار خودکش حملوں میں بلیک واٹر نامی تنظیم کا نام بھی لیا جارہا ہےاس لیے پولیس یہ پہلو بھی مدنظر رکھے۔
یہ ریمارکس انہوں نے داتا دربار ہلاکتوں کے سلسلے میں ازخود نوٹس پر کی جانے والی سماعت کے دوران دیے۔
لاہور کے کیپٹل سٹی پولیس افیسر اسلم ترین نے لاہور ہائی کورٹ میں پیش ہوکر اس بات کا اعتراف کیا کہ داتا دربار کے سیکیورٹی کے انتظامات ناقص ہیں اور متعلقہ پولیس اہلکاروں کے خلاف محکمانہ کارروائی کی جارہی ہے۔
چیف جسٹس نے کہا کہ وہ سانحہ داتا دربار کی تفتیش کی خود نگرانی کریں گے انہوں نے پولیس کو ہدایت کی کہ سانحہ کی انکوائری رپورٹ عدالت میں پیش کی جائے۔
عدالت نے کارروائی نو جولائی تک ملتوی کردی۔
دریں اثناء لاہور میں بی بی سی کے نامہ نگار نے بتایا ہے کہ پنجاب پولیس نے متعلقہ ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ پولیس ،تھانے کے ایس ایچ او اور پولیس چوکی کے انچارج سمیت پانچ پولیس اہلکاروں کو معطل کردیا ہے۔
لاہور کے سنئرسپرنٹنڈنٹ پولیس چودھری شفیق کو پہلے ہی تبدیل کیا جاچکا ہے۔

ادھربیس سیاسی ومذہبی تنظیموں پر مشتمل سنی اتحاد کونسل نے صوبائی وزیر قانون رانا ثناءاللہ کو وزارت سے برطرف کیے جانے کا مطالبہ کیا ہے۔سنی اتحاد کونسل سے وزیر اعلی پنجاب شہباز شریف نے اتوار کی رات گئے تک طویل مذاکرات کیے تھے جس کے بعد اس معاملے پر مزید گفتگو کے لیے ایک کمیٹی تشکیل دیدی گئی تھی۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
سنی اتحاد کونسل کے چئیر مین صاحبزادہ فضل کریم نے بی بی سی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ان کا مطالبہ ہے کہ حکومت پنجاب کالعدم تنظیموں سے اپنے رابطے فوری ختم کرے اور ان کے خلاف کریک ڈاؤن کیا جائے۔انہوں نے کہا یہ کہنا غلط ہے کہ پنجابی طالبان وجود نہیں رکھتے۔انہوں نے کہا اگر ایسا ہوتا تو پھر داتا دربار،پریڈ لین،مناواں پولیس ٹریننگ سنیٹر جیسے متعدد سنگین واقعات میں پنجابی شہری ملوث نہ ہوتے۔
صاحبزادہ فضل کریم مرکزی جمعیت علمائے پاکستان کے سربراہ ہیں لیکن مسلم لیگ نون کی ٹکٹ پر فیصل آباد سے رکن قومی اسمبلی منتخب ہوئے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ وہ جنوبی پنجاب میں کریک ڈاؤن کے حق میں اور چاہتے ہیں کہ ان مدرسوں کو بھی بند کیا جائے جو غیرملکی فنڈز سے چل رہے ہیں اور ملک میں فرقہ واریت اور تشدد کو جنم دے رہے ہیں۔
انہوں نے صوبائی وزیر قانون کے اس بیان کو بھی ردکیا جس میں انہوں نے کہا ہے کہ صاحبزادہ فضل کریم پر ذاتی عداوت کی وجہ سے ان کے استعفے کا مطالبہ کررہے ہیں۔
مرکزی جمعیت علمائےپاکستان کے سربراہ صاحبزادہ فضل کریم نے کہا کہ ان کی کسی سے کوئی ذاتی عناد نہیں ہے اگر استعفی کا مطالبہ ان کا ذاتی ہوتا تو سنی اتحاد کونسل کی باقی تنظیمیں ان کی حمایت نہ کرتیں۔

وزیر قانون رانا ثناءاللہ خان نے پنجاب اسمبلی کے سامنے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ علماء اپنی پوری طرح تسلی کرلیں اگر ان کے استعفے سے دہشت گردی ختم ہوجائے گی تو وہ مستعفی ہونے کو تیار ہیں۔انہوں نے کہا کہ وفاقی حکومت یہ خط تو بھیج دیتی ہے کہ شہر میں شدت پسند داخل ہورہے ہیں لیکن ان کے ٹھکانوں،رابطوں اور حلیوں کے بارے میں کوئی نشاندہی نہیں کی جاتی۔انہوں نے کہا انٹیلیجنس شئیرنگ کے معاملے پر حکو مت ایک مذاق کررہی ہے۔
سنی اتحاد کونسل سے وزیر اعلی کے مذاکرات کے موقع پر مسلم لیگ نون کے رہنما ڈاکٹر سعید الہی بھی موجود تھے۔
انہوں نے بی بی سی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ رات جوبھی معاملات طے پائے تھے اس کے بعد وزیر اعلی پنجاب شہباز شریف اسلام آباد چلے گئے اس لیے مزید پیش رفت نہیں ہوسکی۔انہوں نے کہا وزیر اعلی نے جو اعلی سطحی کمیٹی تشکیل دی ہے وہ جلد اپنا کام شروع کردے گی۔انہوں نے کہا حکومت پنجاب نہ تو کسی کالعدم جماعت کی حمایت کرتی ہے اور نہ شدت پسندی میں ملوث کسی کو معاف کیا جائے گا۔



















