بلوچستان، بارشوں سے مالی نقصان

بلوچستان کے ضلع ہرنائی میں مون سون کی بارشوں سے بڑے پیمانے پر مکانات اور دکانوں کو نقصان پہنچا ہے تاہم کوئی جانی نقصان نہیں ہوا ہے جبکہ ریلوئے پل ٹوٹنے سے ہرنائی اور سبی کے درمیان بذریعہ ٹرین رابطہ منقطع ہو گیا ہے۔
ہرنائی اور لورالائی کے درمیان سڑک کی بحالی کے لیے اقدامات کیے جارہے ہیں۔
کوئٹہ کے شمال مشرق میں واقع ضلع ہرنائی میں بارشوں سے ہرنائی شہر اور مضافات میں تیس مکانات مکمل تبا ہ اور بیس کو نقصان پہنچا ہے۔ جبکہ بیس سے زیادہ دکانوں کو بھی شدید متاثر ہوئے ہیں۔
اس کے علاوہ اٹھارہ سوچھیاسی میں انگریزوں کے دور حکومت میں بننے والے سر پل کے گرنے سے ہرنائی اور سبی کے درمیان ریلوے کے ذریعے بھی رابطہ منقطع ہو گیا ہے۔
شاہرگ اور اسپین تنگی میں لوگوں کی فصلیں اور مال میوشی کو بھی بڑے پیمانے پرنقصان پہنچنے کی اطلاعات ہیں لیکن کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ہیں۔ اس سلسلے میں ہرنائی کے ڈپٹی کمشنر دین خان نے بی بی سی کو بتایا کہ اس سلسلے میں صوبائی حکومت سے بھی فوری امداد کی اپیل کردی گئی ہے۔
دوسری جانب بارشو ں کے بعد مقامی لوگوں نے اپنی مدد آپ کے تحت متاثرہ علاقوں میں بحالی کا کام شروع کردیا ہے۔
ضلع ہرنائی کی آبادی ایک لاکھ سے زیادہ ہے جہاں لوگوں کی معیشت کا انحصار زراعت اور کوئلے کی صنعت پر ہے۔ یہاں سے روزانہ ساٹھ ٹرک کوئلہ لورالائی کے راستے پنجاب میں مختلف کار خانوں میں استعمال کے لیے جاتا ہے۔















