سوات میں موسیقی

- مصنف, رفعت اللہ اورکزئی
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، سوات
- وقت اشاعت
محمد نبی صدر مقام مینگورہ کے مرکزی بازار میں انڈیا کی فلمیں اور موسیقی کی سِیڈیاں فروخت کرتے ہیں۔ وہ ہر صبح بازار میں ریڑھی لگاتے ہیں۔’سی ڈی لے لو سی ڈی لےلو‘ کی آواز لگا کر گاہکوں کو اپنی طرف متوجہ کرتے ہیں۔
محمد نبی آجکل بہت خوش ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ سوات میں امن قائم ہونے کے بعد ان کا کاروبار روز بروز ترقی کرتا جا رہا ہے اور کمائی بھی بہتر ہوئی ہے۔ تیس سالہ محمد نبی ملوک آباد مینگورہ کا رہنے والا ہے اور اس کے تین بچے بھی ہیں۔ وہ اپنے گھر کا واحد کفیل ہے۔ انہوں نے دسویں جماعت تک تعلیم بھی حاصل کی ہے۔
محمد نبی کا کہنا ہے کہ سال ڈیڑہ سال پہلے جب طالبان عروج پر تھے اور سارا علاقہ ان کے قبضے میں تھا تو ان دنوں سیڈیوں کی دوکانوں پر آئے روز حملے ہوا کرتے تھے۔ انہوں نے کہا کہ ان کی بھی مینگورہ میں سی ڈیوں کی ایک چھوٹی سی دوکان تھی جسے طالبان نے ایک حملے میں آگ لگا کر تباہ کر دیا تھا۔
’میں نے اپنے دکان میں تقریباً پانچ لاکھ روپے کی سرمایہ کاری کی تھی اور قرض لیکر کاروبار شروع کیا تھا۔ جب دکان تباہ ہوئی تو میں ایک سال تک بے روزگار رہا اور اس دوران بہت برے دن دیکھے، ایسا وقت بھی آیا کہ میں اور بچوں نے فاقے بھی گزارے ، جو نقصان اٹھایا ہے اس سے ابھی تک نہیں نکل سکا ہوں۔‘
انہوں نے کہا کہ ان کے پاس اب اتنے پیسے نہیں رہے کہ دوبارہ دکان کھول سکیں اس لیے اب وہ ریڑھی لگاتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ مینگورہ میں فلمیں فروخت کرنے والی سینکڑوں دوکانیں تباہ ہوچکی ہیں بلکہ مارکیٹوں کی مارکیٹیں دھماکوں میں اڑائی گئیں لیکن ابھی تک حکومت کی طرف سے ان کو کوئی معاوضہ نہیں دیا گیا۔
مینگورہ سی ڈی مارکیٹ کے ایک ہول سیل ڈیلر ثناء اللہ گزشتہ سولہ سترہ سال سے فلمیں اور آڈیو کیسٹیں فروخت کرنے کا کام کر رہے ہیں۔ وہ ایک چھوٹی سی پروڈکشن کمپنی کے مالک بھی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ سوات میں امن قائم ہونے کے بعد سی ڈی اور فلموں کے کاروبار میں اضافہ ہوا ہے۔ ان کے مطابق اگرچہ پہلے کے مقابلے میں شہر میں دکانوں کی تعداد کم ہے لیکن ان کی مانگ میں روز بروز اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
انہوں نے کہا کہ سوات کے عوام پشتو مزاحیہ ڈراموں اور ہندوستانی فلموں میں بہت دلچسپی لے رہے ہیں۔ ثناء اللہ کے بقول ’طالبانائزیشن اور عسکریت پسندی کا اصل توڑ ہی موسیقی اور ثقافتی سرگرمیوں کا ترویج ہے، لوگوں کو اپنی مرضی سے زندگی گزانے کی آزادی ہوگی تو شدت پسند اپنی موت اپ مرجائیگی۔‘
سوات میں دو ہزار سات میں جب کشیدگی کا آغاز ہوا تو سب سے پہلے سی ڈی سنٹروں اور پولیس تھانوں پر حملوں کا ایک سلسلہ شروع ہوا۔ وادی میں طالبان کے آنے سے پہلے ایک اندازے کے مطابق تین سے چار سو کے قریب سی ڈیوں اور کیسٹوں کی دو کانیں موجود تھیں۔
اس کاروبار کا بڑا مرکز مینگورہ بتایا جاتا ہے جہاں لگ بھک دو تین سو کے قریب دوکانیں قائم تھیں جن اب سو ڈیڑہ سو رہ گئی ہیں۔

تاہم جب ان دکانوں پر حملے کا آغاز ہوا تو زیادہ تر لوگوں نے یہ کاروبار ترک کر کے دوسرے دھندے شروع کیے۔
جب طالبان مینگورہ تک پہنچے اور ان کو پورے ضلع پر کنٹرول حاصل ہوگیا تو کل تک جن دکانوں میں گانے بجتے تھے وہاں اب جہادی اور جنگی ترانے بجنے لگے۔ دکانداروں نے طالبان کے خوف کے باعث فلمیں اور کیسٹیں فروخت کرنا بند کر دیں اور اس کی بجائے جنگی ترانوں پر مبنی سی ڈی کیسٹیں لانے لگے۔
سوات میں کشیدگی کے باعث جہاں سب سے زیادہ نقصان عوام کا ہوا وہاں موسیقی کے کاروبار سے وابستہ افراد کو بھی کئی قسم کے مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔
کئی فنکاروں ، گلوکاروں اور طوائفوں کو حملوں کا نشانہ بنایا گیا اور انھیں زبردستی علاقے سے بے دخل کیا گیا۔تاہم سوات میں امن قائم ہونے کے بعد حالات تیزی سے بدل رہے ہیں اور ثقافتی سرگرمیاں بھی عروج پر پہنچ رہی ہے۔



















