پنگے سے پہلے اڑنا سیکھو!

- مصنف, وسعت اللہ خان
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد
- وقت اشاعت
اڑنا نہیں آتا تو پنگا کیوں لیا تھا۔ جن لوگوں کو ائر ہوسٹس سے بدتمیزی کرنے والے طوطے اور طوطے کی نقالی کرنے والے مسافر کو اڑتے طیارے سے باہر پھینکے جانے کا لطیفہ یاد ہے انہیں پورا لطیفہ سنانے کی ضرورت نہیں اور جنہیں یہ لطیفہ نہیں معلوم وہ ان لوگوں سے سن لیں جنہیں معلوم ہے۔
اس بحث سے قطع نظر کہ پنجاب اسمبلی کو میڈیا کی مجموعی مذمت پر مبنی قرار متفقہ طور پر منظور کرنی چاہیے تھی یا نہیں۔ منظوری کے بعد اسمبلی میں موجود تمام سیاسی جماعتوں بشمول مسلم لیگ نواز، مسلم لیگ قاف اور پیپلز پارٹی کی قیادت کی جانب سے یوٹرن اور اپنے ہی منتخب ارکانِ اسمبلی کی اجتماعی آواز سے لاتعلقی گذشتہ چالیس برس میں پنپنے والے اس اخلاقی اور سیاسی کلچر کی گراوٹ کی ایک تازہ ترین مثال ہے جو اس محاورے کے گرد گھوم رہا ہے کہ نانی نے خصم کیا برا کیا، کرکے چھوڑ دیا اور برا کیا۔
بدحواسی کا اس سے بڑا ثبوت کیا ہوگا کہ جو قرار داد منظور ہوگئی اسے اسمبلی کے ضوابط کے تحت واپس نہیں لیا جاسکتا۔ پھر بھی یہ قرار داد پیش کرنے والی جماعت مسلسل کہہ رہی ہے کہ قرار داد کو اگر واپس نہ بھی لیا جا سکا تو اس میں تبدیلی کی جائے گی۔ دوسری جماعت کہہ رہی ہے کہ وہ میڈیا کے خلاف منظور قرار داد کے جواب میں میڈیا کی حمایت میں قرار داد لائے گی۔ فرض کریں ایسا ہو بھی جاتا ہے تو پھر ایسے ایوان کی اجتماعی ذہنی صحت کے بارے میں کیا رائے قائم کی جائے جو ایک دن متفقہ طور پر ایک قرار داد منظور کرتا ہے اور پھر اسی قرار داد کے خلاف ایک اور قرار داد کی منظوری دیتا ہے۔
اس ڈرامے کے نتیجے میں ایک نقصان یہ بھی ہوا کہ ایسے ایسے سیاسی گروہوں اور سیاست کاروں کو بھی میڈیا کی آزادی کے حق میں بیان بازی کا موقع مل گیا جن کا ماضی کا ریکارڈ دیکھتے ہوئے کہا جا سکتا ہے کہ ان کا بس چلے تو وہ میڈیا کے پاؤں میں گھنگھرو باندھ کر کسی بالاخانے پر نچوا دیں۔
اگر پنجاب اسمبلی کو میڈیا کے روّیے کے خلاف متفقہ قرار داد منظور کرنا ہی تھی تو اس کا احسن طریقہ یہ ہوتا کہ ہڑ بڑ کے بجائے قرار داد متعلقہ سٹینڈنگ کمیٹی کے حوالے کردی جاتی جو اس میں اس طرح کی تبدیلی کرتی کہ وہ مجموعی طور پر میڈیا مخالف قرار داد محسوس نہ ہو بلکہ حتمی مسودے سے میڈیا میں موجود چند غیر پیشہ ورانہ کالی بھیڑوں کی مذمت کا اظہار ہوتا ہو لیکن جن قانون سازوں کو یہی معلوم نہ ہو کہ جذباتی گفتگو اور دستاویزی اظہار دو الگ الگ دنیائیں ہیں ان سے بدحواسی اور بدحواسی کے بعد کنفیوژن کے کیا توقع کی جائے ۔
اس واقعے سے یہ بھی ثابت ہوا کہ کسی سیاسی ہجوم کو ایک منظم جماعت میں ڈھالنے کا کلچر قائم کرنے میں بہت ذہانت، وقت اور صبر درکار ہوتا ہے اور اس سے بھی زیادہ اس کی ضرورت ہے کہ چالاک طوطے سے صرف طوطا چشمی کی ہی نہیں اڑنے کی تربیت بھی لے لینی چاہیے۔ بوقتِ ضرورت کام ہی آجاتی ہے۔















