بلوچستان کے بے قابو ہوتے حالات

بدھ چودہ جولائی کو حبیب جالب کوئٹہ میں نامعلوم افراد کی فائرنگ سے ہلاک ہو گئے
،تصویر کا کیپشنبدھ چودہ جولائی کو حبیب جالب کوئٹہ میں نامعلوم افراد کی فائرنگ سے ہلاک ہو گئے
    • مصنف, عزیز اللہ خان
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، پشاور
  • وقت اشاعت

بلوچستان میں دسمبر دو ہزار پانچ کے فوجی آپریشن کے بعد نیشنل پارٹی کے جنرل سیکریٹری حبیب جالب ایڈووکیٹ ہلاک ہونے والے چوتھے اہم بلوچ رہنما ہیں۔

گوادر کے سابق ناظم کی کچھ روز پہلے نامعلوم افراد کے ہاتھوں ہلاکت اور اس طرح کے دیگر مقامی قائدین کے قتل کی واقعات تو بڑی تعداد میں ہوئے ہیں لیکن اہم رہنماوں کی ہلاکت سے بلوچستان کے مختلف شہروں میں فسادات اور حکومت کے خلاف نفرت کی نئی لہروں نے جنم لیا ہے۔

ان تقریباً ساڑھے چار سالوں میں بلوچستان کے مختلف علاقوں میں تشدد کے متعدد واقعات پیش آئے ان میں بلوچ کارکنوں اور مقامی رہنماوں کی گمشیدگی اور قتل ، غیر بلوچوں پر حملے اور ہلاکتوں کے علاوہ احتجاجی مظاہرے آئے روز پیش آتے رہے۔

<link type="page"><caption> بلوچستان میں سیاسی ہلاکتیں: ٹائم لائن </caption><url href="http://www.bbc.co.uk/urdu/pakistan/2010/07/100714_baloch_leaders_killing_timeline.shtml" platform="highweb"/></link>

ڈیرہ بگٹی ، کوہلو اور اور مکران ڈویژن کے کچھ مقامات پر مسلح تنظیموں اور سکیورٹی فورسز کے مابین جھڑپیں اور قومی تنصیبات پر حملے بھی ڈھکے چھپے واقعات نہیں تھے بلکہ بلوچ مسلح تنظیمیں ان واقعات کی ذمہ داریاں قبول کرتی آئی ہیں۔

بلوچستان کے حالات سنہ دو ہزار پانچ سے پہلے ایسے نہیں تھے۔ یہاں امن تھا اور کوئٹہ کو امن کا گہوارہ اور لٹل پیرس جیسے نام دیے جاتے تھے۔

یہاں بلوچوں اور پشتونوں کے ہمراہ آباد دیگر صوبوں اور قوموں کو کبھی ایسا محسوس نہیں ہوا تھا کہ وہ کسی اجنبی صوبے میں ہیں بلکہ انھوں نے اپنے آپ کو اس صوبے کی روایات کے ساتھ ڈھال لیا تھا۔

اہم بلوچ رہنماوں میں نمایاں بگٹی قبیلے کے سربراہ نواب اکبر بگٹی تھے جنھیں اگست دو ہزار چھ میں ’فوجی کارروائی‘ کے دوران ڈیرہ بگٹی اور کوہلو کے سرحدی علاقوں میں ہلاک کر دیا گیا تھا۔

اس کے بعد نومبر دو ہزار سات میں مری قبیلے کے سربراہ نواب خیر بخش مری کے بیٹے بالاچ مری کو ہلاک کر دیا گیا تھا لیکن ان کی ہلاکت کیسے ہوئی اس بارے میں کوئی واضح اطلاعات اب تک سامنے نہیں آئی ہیں۔

ہلاک ہونے والے بلوچ نیشنل موومنٹ کے سربراہ غلام محمد بلوچ اور ان کے دو ساتھی
،تصویر کا کیپشنہلاک ہونے والے بلوچ نیشنل موومنٹ کے سربراہ غلام محمد بلوچ اور ان کے دو ساتھی

اپریل دو ہزار نو میں بلوچ نیشنل موومنٹ کے سربراہ غلام محمد بلوچ اور ان کے دو ساتھیوں کی لاشیں تربت کے علاقے دشت سے ملی تھیں۔ انھیں مبینہ طور پر باوردی اہلکار تربت میں سابق قائد حزب اختلاف بلوچستان اسمبلی کچکول علی ایڈووکیٹ کے دفتر سے اٹھا کر لے گئے تھے۔

سابقِ صدر پرویز مشرف کے دور میں جب فوجی آپریشن شروع کیا گیا تھا تو اس وقت سرکاری سطح پر یہی کہا گیا تھا کہ یہ فوجی کارروائی ان علاقوں میں فراری کیمپ ختم کرنے کے لیے شروع کی گئی ہے جن کی تعداد تیس اور چالیس کے درمیان بتائی گئی تھی۔حکومت کے مطابق ان کیمپ میں ایسے عسکریت پسند موجود ہیں جو سرکاری تنصیبات پر حملے کرتے ہیں۔

اگر اس فوجی کارروائی سے پہلے کا کچھ ذکر کریں تو ہمیں سوئی میں گیس فیلڈ میں تعینات لیڈی ڈاکٹر شازیہ خالد سے جنسی زیادتی کا واقعہ یاد آتا ہے جس کا الزام مبینہ طور پر ایک فوجی کیپٹن پر عائد کیا گیا تھا۔ اسی طرح مارچ سال دو ہزار پانچ کی صبح ڈیرہ بگٹی میں ایف سی اور مسلح بگٹی قبائل میں جھڑپوں کا آغاز تھا جس میں نواب اکبر بگٹی کے مطابق اکیاسی افراد ہلاک ہو گئے تھے جن میں زیادہ تعداد خواتین اور بچوں کی بتائی گئی تھی۔

ان سارے واقعات کا ذکر کرنا اس لیے ضروری تھا کہ یہ جانا جائے کہ آخر کیا وجہ ہے کہ جنرل مشرف کے فوجی دور کے بعد پیپلز پارٹی کی حکومت بھی بلوچستان میں امن قائم کرنے میں ناکام رہی ہے۔ بلوچ رہنماوں کی جانب سے بار بار لاپتہ بلوچوں کی بازیابی کے مطالبات کیے جاتے ہیں لیکن حکومت اور سرکاری ادارے یہ واضح نہیں کر پائے کہ یہ لاپتہ افراد آخر ہیں کہاں اور کسی ادارے کی تحویل میں ہیں۔

صدر آصف علی زرداری اور وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی کی جانب سے بلوچ رہنماوں سے مذاکرات اور بلوچستان کو حقوق دلوانے کی بے شمار دعوے کیے گئے ہیں لیکن اب صورتحال اس نہج تک پہنچ گئی ہے کہ بلوچستان میں سرگرم مسلح قوتیں آزادی سے کم کسی موضوع پر بات کرنے کو تیار نہیں ہیں۔

مبصرین کا کہنا ہے کہ حکومت نے اب تک نہ تو بلوچ رہنماوں کے ان خدشات کو دور کیا ہے جن کی وجہ سے اس صوبے میں حالات کشیدہ ہیں اور نہ ہی ایسے عملی اقدامات کیے ہیں جن سے حالات کو سدھارنے میں مدد مل سکے بلکہ صرف ذرائع ابلاغ کے زریعے ہی بیان بازی کو ترجیح دی گئی ہے۔

تجزیہ نگار بار بار یہی کہتے آئے ہیں کہ اگر صورتحال کو وقت پر ہی قابو میں نہ کیا گیا تو حالات خطرناک کروٹ لے سکتے ہیں۔

اب موجودہ صورتحال کو دیکھ کر کہا جا سکتا کہ آیا اب بھی حکومت اگر توجہ دے تو حالات بہتر کیے جا سکتے ہیں اور یا وہ وقت آگیا ہے کہ حالات پر قابو پانا موجودہ حکمرانوں کے لیے بھی مشکل ہوگیا ہے۔