فیصلہ ماورائے قانون مگر وقت کی ضرورت

پاکستان سپریم کورٹ
،تصویر کا کیپشنپاکستان کی تاریخ میں یہ پہلا موقع ہے جب ججوں کو ان کے عہدے پر برقرار رکھنے کے لیے ایسا طریقہ اختیار کیا گیا جو آئین میں درج نہیں
    • مصنف, عباد الحق
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، لاہور
  • وقت اشاعت

پاکستان کے تین سابق وزرائے قانون کا کہنا ہے کہ سپریم کورٹ کی طرف سے صوبائی ہائی کورٹس کے ایڈیشنل ججوں کے عہدے کی معیاد میں عبوری توسیع کا فیصلہ ماورائے آئین تو ہے لیکن یہ وقت کی ضرورت تھا۔

لاہور سے ہمارے نامہ نگار کا کہنا ہے کہ پاکستان کی تاریخ میں یہ پہلا موقع ہے جب ملک کی اعلیٰ عدلیہ کے ججوں کو ان کے عہدے پر برقرار رکھنے کے لیے ایک ایسا طریقہ کار اختیار کیا گیا جو آئین میں درج نہیں ہے۔

اسی وجہ سے سابق وزرائے قانون نے بھی اس عدالتی فیصلے پر اپنے اپنے انداز میں تبصرہ کیا اور کسی نے اس کو نظریہ ضرورت کا شاخسانہ قرار دیا تو کسی نے اسے سپریم کورٹ کی مجبوری کہا ہے۔

سابق وزیر قانون اور سپریم کورٹ بار کے صدر اعتزاز احسن اس بات متفق نہیں ہیں کہ سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے کے ذریعے ججوں کی معیاد میں جو توسیع کی ہے وہ انتظامیہ کے اختیارات کو سلب کرنے کے مترادف ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ اگر حکومت آٹھویں ترمیم کے بعد ججوں کی تقرری کے لیے جوڈیشل کمیشن اور پارلیمانی کمیٹی کی تشکیل کردیتی اور عدالتی فیصلے کے ذریعےججوں کو توسیع دی جاتی تو پھر یہ اقدام انتظامیہ کے اختیارات چھینے کے مترادف ہوتا ہے۔

اعتزاز احسن کا کہنا ہے کہ سپریم کورٹ کا فیصلہ کسی حد تک ماورائے آئین تو ضرور ہے لیکن ایسا کرنا سپریم کورٹ کی مجبوری تھی کیونکہ بلوچستان ہائی کورٹ ختم ہو رہا تھا جو ایک آئینی ادارہ ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ جہاں سپریم کورٹ کا عبوری حکم ماورائے آئین ہے وہاں حکومت نے بھی وہ اقدامات نہیں کیے جو اسے کرنے چاہیے تھے۔

سپریم کورٹ بار کے سابق صدر نے کہا کہ ججوں کی تقرری کے لیے جوڈیشل کمیشن تشکیل نہ دینے اور پارلیمانی کمیٹی نہ بنانے کی صورت میں یہ زیادہ بہتر ہوتا کہ اگر حکومت سپریم کورٹ کے روبرو ایک ریفرنس دائر کرتی جس میں یہ معاملہ اٹھایا جاتا ہے لیکن بقول ان کے حکومت نے ایسا نہیں کیا۔

انہوں نے کہا کہ عدلیہ اور حکومت کی کشمکش کی بنیاد رکھی جا رہی ہے جس پر انہیں تشویش ہے۔

سابق وزیر قانون ایس ایم ظفر کا کہنا ہے کہ ایڈیشنل ججوں کے عہدے کی معیاد میں عدالتی فیصلے کے ذریعے جو توسیع کی گئی ہے وہ نظریہ ضرورت کی ایک کڑی ہے ۔

ان کا کہنا ہے کہ ججوں کی تقرری کا طریقہ وہی ہونا چاہیے تھا جو اٹھارویں ترمیم میں ہے اور اگر پرانے طریقے کی کسوٹی پر بھی پرکھا جائے تو وہ طریقہ انہیں اپنایا گیا جو اٹھارویں ترمیم سے پہلے تھا۔

انہوں نے بتایا کہ اٹھارویں ترمیم کے تحت گنجائش رکھی گئی تھی کہ کسی معاملے پر کوئی دقت آئے جو نظریہ ضرورت کا جواز بنے تو اس دقت کو نظریہ ضرورت کے بجائے پارلیمان کی قرارداد کے ذریعے دور کیا جائے ۔ انہوں نے حیرانگی ظاہر کی کہ اس جانب کسی کا دھیان کیوں نہیں گیا۔

ایس ایم ظفر کہتے ہیں کہ اس بات میں کوئی شک نہیں ہے کہ جو بھی فیصلہ کیا گیا ہے وہ بحراں سے نکالنے کے لیے کیا گیا ہے۔

سابق وزیر قانون اور پاکستان بار کونسل کے رکن ڈاکٹر خالد رانجھا اس فیصلے کو ماورائے آئین کہنے کے ساتھ ساتھ اس فیصلے کو ایک مثبت قدم بھی قرار دیتے ہیں۔

ان کے بقول آئین میں ترمیم ہونے کے بعد چار ماہ کے عرصے میں ججوں کی تقرری کے لیے جوڈیشل کمشین تشکیل نہیں دیا جو بقول ان کے حکومت کی ہٹ دھرمی ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ سپریم کورٹ آٹھویں ترمیم کے حوالےسے کچھ بھی فیصلہ کرتی لیکن حکومت کا یہ فرض تھا کہ وہ جوڈیشل کمیشن تشکیل دیتی۔

خالد رانجھا کا کہنا ہے کہ حکومت نے سپریم کورٹ کے لیے کوئی راستہ نہیں چھوڑا اور اگر سپریم کورٹ ایسا فیصلہ نہ دیتی تو بلوچستان کورٹ میں کوئی جج اپنے عہدے پر برقرار نہ رہتا۔

سابق وزیر قانون سید افتخار گیلانی اس رائے کو تسلیم نہیں کرتے کہ سپریم کورٹ کا فیصلہ نظریہ ضرورت کے تحت دیا گیا ہے۔

ان کے خیال میں سپریم کورٹ نے ایک درست فیصلہ دیا اور حکومت کی مدد کی ہے۔

ان کے بقول آئین کے آرٹیکل ایک سو ستاسی کے تحت سپریم کورٹ کے پاس یہ اختیار ہے کہ کسی معاملے میں کوئی شق مبہم اور غیر واضح ہو تو عدالت کوئی بھی حکم دے سکتی ہے جو انصاف کے حصول کے لیے ضروری ہو۔