وزیرستان: ڈرون حملے میں چودہ ہلاک

ڈرون
،تصویر کا کیپشنگزشتہ چند ہفتوں سے امریکی ڈورن حملوں میں ایک بار پھر اضافہ دیکھنے میں آیا ہے
وقت اشاعت

پاکستان کے قبائلی علاقے جنوبی وزیرستان میں حکام کے مطابق دو مبینہ امریکی ڈرون حملوں میں کم سے کم چودہ افراد ہلاک ہوگئے ہیں۔ ہلاک ہونے والے افراد میں زیادہ تر مقامی طالبان بتائے جاتے ہیں۔

جنوبی وزیرستان میں ایک سرکاری اہلکار نے بی بی سی کو بتایا کہ پہلا واقعہ منگل کی شام جنوبی وزیرستان کے صدر مقام وانا سے تقریباً پچیس کلومیٹر دور مغرب کی جانب افغان سرحد پر خنڈ کے مقام پر اس وقت پیش آیا جب مبینہ امریکی جاسوس طیاروں نے شدت پسندوں کی ایک گاڑی کو نشانہ بنایا۔

اہلکار کا کہنا تھا کہ حملے میں دو میزائل داغے گئے جس میں کم سے کم سات شدت پسند ہلاک ہوگئے جبکہ گاڑی بھی مکمل طور پر تباہ ہوگئی۔

مقامی لوگوں کے مطابق شدت پسندوں کی گاڑی جنوبی وزیرستان سے افغانستان کے علاقے میں داخل ہونے کی کوشش کررہی تھی۔

سرکاری اہلکار کے مطابق دوسرا حملہ وانا بازار سے دس کلومیٹر دور تحصیل برمل کے علاقے اعظم ورسک میں ہوا جس میں بھی سات مقامی طالبان ہلاک ہوگئے۔

انہوں نے بتایا کہ حملے میں مُلا نذیر گروپ کے نائب کمانڈر شمس اللہ کے مرکز پر چار میزائل داغے گئے ہیں جس کی وجہ سے ٹھکانہ مکمل طورپر تباہ ہوگیا۔ اہلکار نے بتایا کہ ہلاک ہونے والوں میں تمام مقامی طالبان بتائے جاتے ہیں جن میں شمس اللہ کے اھم ساتھی بھی شامل ہیں۔

انہوں نے کہا کہ حملے کے وقت کمانڈر شمس اللہ مرکز میں موجود نہیں تھے۔ وہ پہلے ڈرون حملے میں ہلاک ہونے والوں کی نمازِ جنازہ میں گئے تھے۔ مقامی لوگوں کے مطابق پہلے حملے میں ہلاک ہونے والے تین مقامی طالبان کو مغل خیل کے قبرستان میں شام کے وقت سپرد خاک کردیاگیا۔

خیال رہے کہ گزشتہ چند ہفتوں کے دوران شمالی وزیرستان میں ڈرون حملوں میں تیزی آئی ہے۔اور ایک وقت میں کئی ڈرون طیارے فضاء میں موجود ہوتے ہیں جس سے عام شہریوں میں سخت خوف و ہراس پایا جاتا ہے۔

دوسری طرف جنوبی وزیرستان میں گزشتہ چند مہینوں سے ڈرون حملے اتنی تعداد میں نہیں ہوئے اور منگل کو ہونے والے ڈرون حملےگزشتہ دو ماہ کے دوران جنوبی وزیرستان میں ہونے والا اپنی نوعیت کا پہلے حملے تھے۔