دریائے سندھ کے اندر قائم تجاوزات: تصاویر

    • مصنف, اعجاز مہر
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، سکھر
  • وقت اشاعت

دریائے سندھ کے اندر قائم تجاوزات: تصاویر

پاکستان کے صوبہ سندھ میں سندھو دریا پر پہلا بیراج سکھر انیس بتیس میں انگریز راج میں بنا۔ چھیاسٹھ دروازوں والے اس بیراج کے تکنیکی اعتبار سے گیارہ دروازے بند رہتے ہیں۔
،تصویر کا کیپشنپاکستان کے صوبہ سندھ میں سندھو دریا پر پہلا بیراج سکھر انیس بتیس میں انگریز راج میں بنا۔ چھیاسٹھ دروازوں والے اس بیراج کے تکنیکی اعتبار سے گیارہ دروازے بند رہتے ہیں۔
اس بیراج کے اوپر تفریح کے لیے ایک چھوٹی ٹرین چلتی تھی جو اب عام شہریوں کے لیے تو بند ہے لیکن محکمہ آبپاشی کے دوست احباب کے لیے کبھی کبھی چلائی جاتی ہے۔
،تصویر کا کیپشناس بیراج کے اوپر تفریح کے لیے ایک چھوٹی ٹرین چلتی تھی جو اب عام شہریوں کے لیے تو بند ہے لیکن محکمہ آبپاشی کے دوست احباب کے لیے کبھی کبھی چلائی جاتی ہے۔
سکھر شہر ہو یا بیراج دونوں کو دریا کے اندر قائم تجاوزات سے سخت خطرہ لاحق ہے۔
،تصویر کا کیپشنسکھر شہر ہو یا بیراج دونوں کو دریا کے اندر قائم تجاوزات سے سخت خطرہ لاحق ہے۔
یہ تجاوزات کہیں کہیں ممبئی کی جھوپڑ پٹیوں کا منظر پیش کرتی ہیں۔
،تصویر کا کیپشنیہ تجاوزات کہیں کہیں ممبئی کی جھوپڑ پٹیوں کا منظر پیش کرتی ہیں۔
سکھر شہر کی حفاظت کے لیے دریائے سندھ کے کنارے پر بنائی گئی دیوار’بندر وال‘ کے اندر مساجد اور مدرسے بھی قائم ہیں۔ ہری پٹی والی عمارت میں مدرسہ اور مہتمم کی رہائش ہے۔
،تصویر کا کیپشنسکھر شہر کی حفاظت کے لیے دریائے سندھ کے کنارے پر بنائی گئی دیوار’بندر وال‘ کے اندر مساجد اور مدرسے بھی قائم ہیں۔ ہری پٹی والی عمارت میں مدرسہ اور مہتمم کی رہائش ہے۔
تجاوزات میں بھینسوں کا باڑے بھی قائم ہیں اور بھینسوں کے دریا میں اترنے کی وجہ سے دیوار کو خطرہ ہے۔
،تصویر کا کیپشنتجاوزات میں بھینسوں کا باڑے بھی قائم ہیں اور بھینسوں کے دریا میں اترنے کی وجہ سے دیوار کو خطرہ ہے۔
یہ سکھر چیمبر آف کامرس کے دفاتر اور رہائشی کمپلیکس ہے جس کی تعمیر کی سرکاری منظوری دی گئی ہے۔
،تصویر کا کیپشنیہ سکھر چیمبر آف کامرس کے دفاتر اور رہائشی کمپلیکس ہے جس کی تعمیر کی سرکاری منظوری دی گئی ہے۔
دریا کے اندر تجاوزات میں زیادہ تر غریب لوگ ہیں۔ سندھ حکومت نے یہ تجاوزات گرانے کا فیصلہ کیا ہے۔
،تصویر کا کیپشندریا کے اندر تجاوزات میں زیادہ تر غریب لوگ ہیں۔ سندھ حکومت نے یہ تجاوزات گرانے کا فیصلہ کیا ہے۔
وفاقی وزیر سید خورشید شاہ نے بتایا کہ سنہ انیس سو پچانوے میں یہ تجاوزات ہٹائے گئے تھے لیکن پرویز مشرف کے دور میں پھر قائم ہوگئے۔
،تصویر کا کیپشنوفاقی وزیر سید خورشید شاہ نے بتایا کہ سنہ انیس سو پچانوے میں یہ تجاوزات ہٹائے گئے تھے لیکن پرویز مشرف کے دور میں پھر قائم ہوگئے۔