،تصویر کا کیپشنپاکستان کے صوبہ سندھ میں سندھو دریا پر پہلا بیراج سکھر انیس بتیس میں انگریز راج میں بنا۔ چھیاسٹھ دروازوں والے اس بیراج کے تکنیکی اعتبار سے گیارہ دروازے بند رہتے ہیں۔
،تصویر کا کیپشناس بیراج کے اوپر تفریح کے لیے ایک چھوٹی ٹرین چلتی تھی جو اب عام شہریوں کے لیے تو بند ہے لیکن محکمہ آبپاشی کے دوست احباب کے لیے کبھی کبھی چلائی جاتی ہے۔
،تصویر کا کیپشنسکھر شہر ہو یا بیراج دونوں کو دریا کے اندر قائم تجاوزات سے سخت خطرہ لاحق ہے۔
،تصویر کا کیپشنیہ تجاوزات کہیں کہیں ممبئی کی جھوپڑ پٹیوں کا منظر پیش کرتی ہیں۔
،تصویر کا کیپشنسکھر شہر کی حفاظت کے لیے دریائے سندھ کے کنارے پر بنائی گئی دیوار’بندر وال‘ کے اندر مساجد اور مدرسے بھی قائم ہیں۔ ہری پٹی والی عمارت میں مدرسہ اور مہتمم کی رہائش ہے۔
،تصویر کا کیپشنتجاوزات میں بھینسوں کا باڑے بھی قائم ہیں اور بھینسوں کے دریا میں اترنے کی وجہ سے دیوار کو خطرہ ہے۔
،تصویر کا کیپشنیہ سکھر چیمبر آف کامرس کے دفاتر اور رہائشی کمپلیکس ہے جس کی تعمیر کی سرکاری منظوری دی گئی ہے۔
،تصویر کا کیپشندریا کے اندر تجاوزات میں زیادہ تر غریب لوگ ہیں۔ سندھ حکومت نے یہ تجاوزات گرانے کا فیصلہ کیا ہے۔
،تصویر کا کیپشنوفاقی وزیر سید خورشید شاہ نے بتایا کہ سنہ انیس سو پچانوے میں یہ تجاوزات ہٹائے گئے تھے لیکن پرویز مشرف کے دور میں پھر قائم ہوگئے۔