کوئلے کی دلالی میں منہ کالا

- مصنف, وسعت اللہ خان
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام
- وقت اشاعت
بی بی سی اردو کے وسعت اللہ خان پاکستان میں آنے والے سیلاب سے متاثرہ علاقہ جات کے دورے کا احوال ایک ڈائری کی صورت میں بیان کر رہے ہیں۔ پیش ہے اس سلسلے کی انتالیسویں کڑی۔
پیر بیس ستمبر، دکی
رات گئے ڈیڑھ بجے کے لگ بھگ کوہلو سے براستہ دکی سات گھنٹے میں لورالائی پہنچنے کے بعد مجھے کچھ یاد نہیں کہ کب کپڑے بدلے، جوتے اتارے اور سوگیا۔ بس یہ یاد ہے کہ آج بہت دنوں بعد سات کے بجائے سوا نو بجے آنکھ کھلی۔ایجنڈا یہ ہے کہ ڈی سی لورالائی سے ملنا ہے۔سیلاب سے سب سے زیادہ متاثرہ دکی تحصیل میں رکنا ہے اور پھر واپس کوئٹہ پہنچنا ہے۔تاکہ بلوچستان میں سب سے زیادہ سیلابی نقصان اٹھانے والے نصیر آباد ڈویژن کا رخ کیا جاسکے۔ویسے تو کوئٹہ جائے بغیر بھی پہاڑی سڑکوں اور ٹریکس کے زریعے کودتے پھاندتے سبی کے میدانوں میں اتر کر نصیر آباد پہنچا جاسکتا ہے لیکن میرا دل اس وقت سفری خودکشی پر آمادہ نہیں ہے۔
<link type="page"><caption> سیلاب ڈائری: خصوصی ضمیمہ</caption><url href="http://www.bbc.co.uk/urdu/indepth/cluster_wusat_flood_diary.shtml" platform="highweb"/></link>
ڈپٹی کمشنر لورالائی سہیل الرحمان سے سکاؤٹس کیمپ کے سٹیڈیم میں ملاقات ہوئی جہاں لیویز کے سپاہیوں کی بھرتی کا ٹیسٹ ہو رہا ہے۔سنا ہے کہ آغازِ حقوقِ بلوچستان ۔۔۔
( ایک تو مجھے آغازِ حقوق کی اصطلاح سمجھ میں نہیں آتی۔حقوق یا تو ہوتے ہیں یا نہیں ہوتے۔حقوق کے ساتھ آغاز چہ معنی دارد۔اگر آغازِ حقوقِ بلوچستان کی اصطلاح ہوسکتی ہے تو ایمانداری کا تقاصہ تو یہ ہوگا کہ اس پیکیج کی ممکنہ ناکامی پر انجامِ حقوقِ بلوچستان پر بھی بات ہو۔یقیناً عجلت میں گھڑی گئی یہ اصطلاح وفاقی دارالحکومت کے کسی کمرے میں بیٹھے کسی جاہل بابو کا شاہکار ہے۔مزید ظلم یہ ہے کہ یہ جاہل بابو اپنی تخلیق پر داد بھی بٹور رہا ہوگا۔جب اصطلاح ہی بے معنی ہے تو پیکیج کتنا پرمعنی ہوگا ؟)

بہرحال کہہ میں یہ رہا تھا کہ حقوقِ بلوچستان پیکیج کے تحت لیویز میں ڈیڑھ ہزار جوانوں کی بھرتی ہو رہی ہے۔ہر ضلع کے ڈی سی کو پچاس بھرتیوں کا کوٹہ دیا گیا ہے۔جب میں ڈی سی سہیل الرحمان سے ملنے لورالائی سکاؤٹس سٹیڈیم پہنچا تو وہاں پچاس لیویز پوسٹوں کے لیے ساڑھے تیرہ سو امیدوار فزیکل ٹیسٹ کے سلسلے میں اپنی باری کا انتظار کر رہے تھے۔اسی فیصد امیدوار گریجویٹ یا ایم اے تھے۔حلانکہ لیویز میں بطور سپاہی بھرتی کے لیے مڈل پاس ہونا کافی ہے۔پچاس پچاس کے گروپ میں ان امیدواروں کو گراؤنڈ کے دو چکر لگوائے جا رہے تھے۔مگر زیادہ تر امیدواروں کا خیال تھا کہ انہیں خامخواہ دوڑا کر سانس پھلوایا جا رہا ہے۔بھرتی تو پھر بھی پرچی پر ہی ہوگی۔
ڈی سی سہیل الرحمان نے بتایا کہ تین تحصیلوں لورالائی، دکی اور میختر میں سب سے زیادہ سیلابی نقصان دکی کے اس علاقے میں ہوا ہے جہاں لونی قبیلہ رہتا ہے۔لگ بھگ دو ہزار لوگ متاثر ہوئے ہیں۔پینے کے پانی کا شدید مسئلہ ہے اس لیے گیسٹرو کے بھی اچھے خاصے کیسز سامنے آئے ہیں۔سیلابی حالات سے نمٹنے کے لیے ساڑھے سات لاکھ آبادی کو دیکھنے والی ضلعی انتظامیہ کو محض پینتیس لاکھ روپے مالیت کی ادویات موصول ہوئی ہیں جو تین تحصیلوں کے حساب سے لگ بھگ بارہ لاکھ روپے کی ادویات فی تحصیل بنتی ہیں۔گنجی کیا نہائے کیا نچوڑے۔۔۔۔
ستر کلومیٹر اور ایک گھنٹے کے سفر کے بعد براستہ سنجاوی دکی شہر پہنچا وہاں اسسٹنٹ کمشنر نذر محمد کھیتران نے بتایا کہ چمالانگ کے علاقے سے گھاٹی پل نامی جو پہاڑی نالہ نکل کر دکی کے میدانی علاقے میں آتا ہے۔اس نے غیر معمولی بارشوں کے سبب پونے دو لاکھ آبادی کی تحصیل میں چار یونین کونسلوں کو سب سے زیادہ متاثر کیا۔جس کے نتیجے میں لگ بھگ سات کروڑ روپے مالیت کی پیاز کی فصل ختم ہوگئی۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
اتنی تباہی نہ ہوتی اگر سیوریج سسٹم بھی ہوتا۔لیکن پوری تحصیل بشمول چالیس ہزار آبادی والے دکی شہر میں بھی کوئی سیوریج سسٹم نہیں ہے۔صرف تیس فیصد تحصیل میں بجلی تک رسائی ہے۔لیکن آٹھ سے بارہ گھنٹے کی لوڈ شیڈنگ بھی اس کے ساتھ نتھی ہے۔
یہ اس تحصیل کا حال ہے جو کوئلے کے زخائر سے مالامال ہے۔چمالانگ کے علاقے سے روزانہ فی ٹرک پچیس ٹن کوئلہ لے کر ڈیڑھ سو ٹرک پنجاب کے بھٹوں تک جاتے ہیں۔اب سے چند برس پہلے جب چمالانگ سے کوئلے کی پیداوار شروع ہوئی تو ان کانوں کی نگراں فوج اور ایف سی نے ضلع لورالائی کو ایک معاہدے کے تحت دو کروڑ روپے سالانہ فیس، رائلٹی، ازالہ جو بھی کہہ لیں دینا منظور فرمایا۔ مجال ہے آج تک اس معاہدے پر عمل درآمد ہوسکا ہو۔
مجھے اس شیرنی کی کہانی یاد آ رہی ہے جس نے ایک ہرن مارا تھا ۔جنگل کے سب جانور ندیدی نگاہوں سے شکار کو دیکھ رہے تھے۔شیرنی نے یہ کہتے ہوئے شکار کے تین حصے کیے کہ بحیثیت شکاری پہلا حصہ تو میرا۔ دوسرا حصہ شیر اور میرے بچوں کا اور تیسرا حصہ آپ جانوروں کے لیے۔جس میں ہمت ہے میرے سامنے سے لے جائے۔کاش لورالائی کی ضلعی انتظامیہ چمالانگ کی کانوں سے دو کروڑ روپے سالانہ وصول کرنے کا معاہدہ کرنے سے پہلے یہ کہانی مجھ ہی سے سن لیتی۔۔۔
خود دکی شہر جہاں سنہ اڑسٹھ سے کوئلہ نکل رہا ہے ۔اس کی پیداوار سے یہاں کے کان مالکان کو اس وقت روزانہ دو کروڑ روپے کی مجموعی آمدنی ہوتی ہے۔اس صنعت سے کانکن پندرہ سے بیس ہزار روپے ماہانہ کما رہا ہے۔ٹرکوں میں کوئلہ لادنے والا لوڈر کما رہا ہے۔کمیشن ایجنٹ اور ٹرک مالکان کما رہے ہیں اور اس کوئلے پر صوبائی حکومت کے خزانے میں ٹیکسوں اور رائلٹی کی مد میں سالانہ ایک ارب تیس کروڑ روپے بھی جمع ہوتے ہیں۔لیکن خود دکی تحصیل کا نہ تو کوئلے کی آمدنی میں کوئی حصہ ہے۔نہ ہی کانکنی پر کوئی کنٹرول اور تو اور اپنا کوئی سالانہ بجٹ بھی نہیں ہے۔صرف انتظامی اخراجات کے بل کلئیر ہوتے ہیں۔

پورا دکی شہر عملاً کوئلے کی ایک بڑی کان بنا ہوا ہے۔ایک بزرگ کان مالک حاجی عطا محمد کا کہنا ہے کہ کوئلے کی اس قدر بہتات ہے کہ چار ساڑھے چار فٹ زمین کھودنے پر بھی نکل آتا ہے۔اور بعض کانوں میں تو چار سے پانچ ہزار فٹ تک زیرِ زمین کھدائی ہوچکی ہے۔پہلے ایک کان سے دس سے گیارہ ہزار ٹن کوئلہ نکل آتا تھا۔لیکن اب اوسط پانچ سے چھ ہزار ٹن ہے۔
کوئلے کی بہتات کے سبب زمین کی قیمت پچیس تا تیس لاکھ روپے فی ایکڑ ہے۔بیسیوں ایسے گھر ہیں جن کے اندر کھدائی ہو رہی ہے۔میں نے ایک بڑی سی حویلی دیکھی جو تین بھائیوں کی ملکیت تھی لیکن جب سے کوئلہ نکلا ہے انہوں نے حویلی ترک کر دی ہے اور کوئٹہ میں ایک بڑا سا گھر خرید لیا ہے۔حد یہ ہے کہ ایک مقامی مسجد کے اندر سے بھی کوئلہ جھانک رہا تھا۔لیکن خوفِ خدا اور فسادِ خلق کے خوف نے اس مسجد کو بچا رکھا ہے۔دکی سے کوہلو جانے والی سڑک کے دونوں اطراف عین سڑک کے کنارے کوئلے کی کانیں ہیں۔کوئلے کے زخیرے پر بیٹھا ہوا کلی ملک سلیمان نامی پورا گاؤں سردار یعقوب ناصر نے خرید لیا اور اب یہاں کی آبادی ککھ پتی سے لکھ پتی ہوکر دو کلومیٹر کے فاصلے پر منتقل ہو چکی ہے۔
اب سے پچاس ساٹھ برس پہلے یہاں زیادہ تر زمین ترین اور لونی پٹھانوں کی ملکیت تھیں۔پھر ناصر قبیلے والوں نے یہ زمینیں خرید لیں اور جب ان زمینوں سے کوئلہ نکلنا شروع ہوا تو ناصر زمین سے آسمان پر پہنچ گئے۔جبکہ ترین اور لونی زیادہ تر زمین پر ہی رہے ۔
میں نے اس علاقے کے سب سے بڑے کان مالک سابق وفاقی وزیر سردار یعقوب ناصر کا قلعہ نما محل باہر سے دیکھا۔جس کی ایک دیوار تقریباً آدھے کلومیٹر کی ہے۔مجھے موجودہ ایم این اے سردار اسرار ترین کا حجرہ بھی باہر سے گذرتے ہوئے دکھایا گیا۔
چند گز کے فاصلے پر ان جیسے کان مالکان کے لیے کام کرنے والے وزیرستانی، سواتی، اور افغانی مزدور پتھر سے چنی چھ فٹ اونچی دیواروں پر پڑی کچی چھتوں کے ایک دوسرے سے جڑے کمروں میں رہتے ہیں۔انہی کمروں میں بستر پڑے ہیں اور انہی کمروں میں کھانا بھی پکتا ہے۔پانی کے بڑے ٹینک باہر رکھے ہوئے ہیں۔جن سے استعمال ہونے والا پانی یہیں کہیں پھیلتا ہوا خشک ہوجاتا ہے۔یہ مزدور نماز پڑھتے ہیں، تاش کھیلتے ہیں اور سو جاتے ہیں۔جب جاگتے ہیں تو پھر سینکڑوں فٹ زیرِ زمین اترجاتے ہیں یا کان کے منہ پر مال کھینچنے والی مشین کو جنریٹر کی مدد سے آپریٹ کرتے ہیں۔
ان کانوں میں اکثر زہریلی گیس سے بے ہوش یا زخمی ہونے یا مرنے کے حادثات ہوتے رہتے ہیں۔قاعدے قانون کے تحت تو ایسے متاثرین کو سرکار اور کان مالک کی جانب سے تین سے پانچ لاکھ تک معاوضہ ملنا چاہیے اور علاج معالجہ بھی ہونا چاہیے۔لیکن ان ان پڑھوں کو کون بتائے کہ قانون کیا کہتا ہے۔وہ تو اس پر ہی شکر بجالاتے ہیں کہ خدا ترس سیٹھ نے انہیں لاکھ ڈیڑھ لاکھ روپیہ دے دیا۔
سنا ہے دکی میں اب سے دس برس پہلے تک محکمہ کانکنی کی جانب سے کوئی لیبر ڈسپنسری ہوا کرتی تھی۔اب صرف تذکرہ ہے۔مجھے انیس سو سڑسٹھ سے قائم دکی تحصیل ہسپتال میں ایک نرسنگ اسسٹنٹ ملا۔دوسرا نماز پڑھنے گیا ہوا تھا اور تیسرا ہسپتال میں داخل واحد مریض کو کسی ڈاکٹر کے کلینک تک چھوڑنے جارہا تھا۔سات ڈاکٹر تنخواہ لے رہے ہیں۔نہ سرجن کی آسامی ہے نہ ہی فزیشن کی ۔ ملاقات صرف ڈاکٹر عبدالعزیز سے ہوئی جو بیس برس کی نوکری کے بعد ریٹائر ہوچکے ہیں لیکن ہسپتال میں مریضوں کو دیکھتے ہیں۔بقول ان کے ہسپتال میں ماہانہ چالیس سے پینتالیس حادثاتی کیسز آتے ہیں۔ان میں زیادہ تر کان حادثات کے متاثر ہوتے ہیں۔لیکن ہم سوائے فرسٹ ایڈ دینے اور انہیں ستر کلومیٹر دور لورالائی یا ڈھائی سو کلومیٹر پرے کوئٹہ ریفر کرنے کے سوا کچھ نہیں کرسکتے۔
اور دکی ہائی سکول کا کھنڈر دیکھ کر تو جی باغ باغ ہوگیا۔اچھے وقتوں میں یہاں کے کلاس رومز میں باقاعدہ دروازے ہوتے ہوں گے۔لیکن اس وقت گھی کے کنستروں کی چادروں سے بنائے گئے دروازوں سے کلاس روم کے اندر پڑی ان کرسیوں اور ڈیسکوں کی حفاظت ہورہی ہے جن پر ٹوٹی ہوئی کھڑکیوں سے آنے والی مٹی کی ایک ایک انچ تہہ جمی ہوئی ہے۔چھتوں کا پلستر ایسے اکھڑا ہے کہ آپ لوہے کے سریے گن سکتے ہیں۔سفید ٹائلوں سے بنے دو ٹائلٹس میں معمار نے دروازہ لگانے کی کوئی گنجائش ہی نہیں چھوڑی۔ایک ٹائلٹ میں ایسی کوئی نشانی نہیں جس سے اس کا ٹائلٹ ہونا ثابت ہوسکے۔جبکہ برابر والے ٹائلٹ کو ایک بوڑھی عورت نے اپنا سامان رکھ کر کمرہ سا بنا لیا ہے۔
سامنے ایک بڑا سا فٹ بال گراؤنڈ ہے۔گھاس کی اگر ایک پتی بھی پورے گراؤنڈ میں کوئی ثابت کردے تو میں اس کی تا عمر غلامی پر آمادہ ہوں۔لیکن کیا کیا جائے زنگ آلود لوہے کی دو گول پوسٹس کے سبب اسے فٹ بال گراؤنڈ ہی کہنا پڑ رہا ہے۔شہر کے اس واحد سرکاری ہائی سکول کا یہ حال اس امر کے باوجود ہے کہ دکی شہر کی بلوچستان اسمبلی میں نمائندگی کرنے والے سردار مسعود علی خان لونی خصوصی تعلیم کے وزیر بھی ہیں۔
میں دکی سے نکلتے ہوئے سوچ رہا تھا کہ یہ جگہ تو پہلے سے ہی ادھ موئی ہے۔بارشں اور سیلاب اس کا مزید کیا بگاڑ سکتے ہیں۔بازار کے آخری سرے پر نیلی آنکھوں ، میلے کچیلےسنہری بالوں اور گڑیا جیسے چہرے والی ایک پانچ چھ سال کی بچی کاندھے پر نائلون کی بوری ڈالے کچرے کی چھان پھٹک کررہی تھی۔
اگر مرتے دم تک کوئلے سے مالامال دکی کی کوئی تصویر میرے سینے میں اٹکی رھ گئی تو بس اسی بچی کی تصویر ہوگی۔۔۔۔۔



















