’نیٹو ٹینکروں کا جلنا عوامی ردِ عمل تھا‘

نیٹو ٹینکر
،تصویر کا کیپشنپاکستان کے قبائلی علاقےخیبر ایجنسی میں لنڈی کوتل کے مقام پر نیٹو فورسز کو تیل سپلائی کرنے والے ٹینکرز کو نامعلوم افراد نےدھماکوں سے اڑا دیا
وقت اشاعت

پاکستان کی وزرات خارجہ کے ترجمان نے کہا ہے کہ نیٹو کے ٹینکروں پر حملہ عوامی ردِ عمل تھا اور پاکستانی حدود میں نیٹو کی مبینہ کارروئیوں کی مشترکہ تحقیقات شروع ہو رہی ہیں۔

بی بی سی لندن سے بات کرتے ہوئے پاکستان کے دفترِ خارجہ کے ترجمان عبداباسط کا اس بارے میں اس سے پہلے تحقیقات نہ ہونے کے بارے میں کہنا تھا کہ ’اس سے پہلے اس طرح کے واقعات ہوئے بھی نہیں۔ پچھلے ہفتے میں تین واقعات ایسے ہوئے ہیں اور پہلی بار اس طرح کی مشترکہ تحقیقات ہو رہی ہیں۔ امید ہے کہ کل یہ تحقیقات شروع ہوں گی اور امید یہی کی جا سکتی ہے کہ اس کا مثبت نتیجہ نکلے گا اور کمیونیکیشن کے حوالے سے گیپ ہیں انھیں دور کیا جا سکے گا تا کہ دوبارہ اس طرح کے واقعات نہ ہو سکیں۔

انھوں نے کہا کہ امید ہے کہ اتوار سے نیٹو کی مبینہ کارروائیوں کی مشتکہ تحقیقات شروع ہو جائیں گی۔

<link type="page"><caption> نیٹو آئل ٹینکرز پر حملہ: تصاویر</caption><url href="http://www.bbc.co.uk/urdu/pakistan/2010/10/101001_pics_nato_shikarpur.shtml" platform="highweb"/></link>

<link type="page"><caption> نیٹو آئل ٹینکرز پر حملہ، ستائیس نذر آتش</caption><url href="http://www.bbc.co.uk/urdu/pakistan/2010/10/100930_sindh_nato_tanker_attach.shtml" platform="highweb"/></link>

اس سوال کے جواب میں کہ کیا دفترِ خارجہ نیٹو کے حملوں کی مشترکہ تحقیقات، طالبان کی طرف سے نیٹو کے ٹینکروں پر حملوں کی ذمہ داری قبول کرنے، تحریکِ طالبان پر پابندی اور ڈرون حملوں میں شدت پیدا ہونے کے درمیان کوئی ربط دیکھتا ہے کہ ’ کہ کچھ تو ہے جس کی وجہ سے یہ ہو رہا ہے‘؟

ترجمان دفترِ خارجہ نے کہا کہ ‘کہ جہاں تک نیٹو کا تعلق ہے، اور انھوں نے حملے کیے پاکستان کے اندر آ کر اور ٹینکرز کے حوالے سے آپ نے جو ذکر کیا تو، یقیناً ایک پبلک ری ایکشن تو ہے او ر اس میں ناراضی بھی ہے تو اسی لیے ہم نے اس بات کو مدنظر رکھتے ہوئے ذرا سلسلہ (سپلائی کا) روک دیا ہے پبلک ری ایکشن دیکھتے ہوئے۔ تو امید یہی کی جا سکتی ہے کہ نیٹو دوبارہ اس طرح کی غلطی نہیں کرے گا حکومت اور عوام دونوں کی طرف سے شدید ردِ عمل آیا ہے اور یہ بات بھی اپنی جگہ درست ہے کہ اس طرح کے حملوں سے دہشت گردی کے خلاف ہماری مجموعی کوششیں بھی متاثر ہوتی ہیں اور اعتماد میں کمی آتی ہے تو ہم یہی چاہیں گے کہ تحقیقات جب ہو جائیں تو اگر کوئی خلا یا معاملات ہیں تو انھیں حل کیا جائے تا کہ اس طرح کے واقعات دوبارہ نہ ہوں۔

اس سوال کے جواب میں کہ ’آپ نے درمیان میں کہا کہ آپ نے ان کی سپلائی ذرا سی رو ک دی تو میں یہ جاننا چاہتا ہوں کہ کیا پاکستان پر نیٹو کے ٹینکروں کی حفاظت کی ذمہ داری بھی آتی ہے، کیا ایسا معاہدہ ہے پاکستا اور نیٹو کے درمیان‘؟

مسٹر باسط نے کہا کہ ’جی ہاں۔ ہماری حدود سے یہ ساری سپلائی ہوتی ہے اور اس حد تک ان کی حفاظت یقیناً ہماری ذمہ داری ہے لیکن کیوں کہ پبلک ری ایکشن ہوا ہے اور اس میں لوگوں نے ان ٹینکروں کو جلایا بھی ہے اور آپ نے دیکھا بھی ہے تو اس حد تک یقیناً ہماری ذمہ داری ہے کہ جو بھی سپلائی لائن ہے اسے محفوظ بنایا جائے‘۔

نیٹو ٹینکر

اس سوال کے جواب میں کہ ’یہ جو ٹینکروں کے آنے جانے پر پابندی لگی اور انھیں روکا گیا تو بالکل بیٹھی ہوئی بیٹھی ہوئی بطخیں تھیں اور جنھیں آگ واگ لگانی تھی وہ لگا کر چلے گئے تو یہ کیا سلسلہ تھا کیا ان کی حفاظت مناسب نہیں تھی یا آگ لگانے والے اتنی فورس سے آئے کہ انھیں روکا ہی نہیں جا سکا؟

ترجمان کا کہنا تھا کہ ’دیکھیے اس میں جہاں تک سپلائی کا سوال ہے تو مہینے میں تقریباً تین سو کے قریب ٹینکر اور ٹرک جاتے ہیں اور یہ ایک مسلسل سلسلہ ہے اور یہ این ایل سی سے بھی ہوتا ہے تو ان کی حفاظت کے اقدام تو ہم نے کیے ہیں لیکن ایک طویل راستہ ہے جس پر یہ جاتے ہیں اور اس میں کہیں کہیں گیپ بھی آ جاتے ہیں اور پہلے بھی اس طرح کے واقعات ہوتے رہے پشاور میں، طالبان کے حملے ہوتے رہے لیکن اس خاص واقعے کے بعد جو عوامی ردِ عمل آیا ہے تو اس حوالے سے میں واضح کر دوں کے ہم نے پابندی نہیں لگائی صرف سکیورٹی اسباب کی بنا پر روکا تا کہ مزید نقصان نہ ہو اور جوں ہی انشااللہ حالات بہتر ہو جائیں گے تو تحقیقات بھی ہماری انشااللہ مکمل ہو جائے گی اور اس طرح کے واقعات بھی نہیں ہوں گے اور دوبارہ اس طرح کی نوبت ہی نہ آئے گی۔