’وکلاء کی توہین برداشت نہیں‘

علی احمد کرد کا کہنا تھا کہ وہ پارلیمان کو سپریم سمجھتے ہیں۔
،تصویر کا کیپشنعلی احمد کرد کا کہنا تھا کہ وہ پارلیمان کو سپریم سمجھتے ہیں۔
وقت اشاعت

عدلیہ بحالی تحریک کے روح رواں سپریم کورٹ بار کے سابق صدر علی احمد کرد کا کہنا ہے کہ وہ وکلاء کی توہین کسی صورت برداشت نہیں کر سکتے۔

’وکلاء اور عدالتیں لازم و ملزوم ہیں اور وکلاء کے بعیر ججز کام نہیں کر سکتے اس لیے انہیں وکلاء کا احترام کرنا چاہیے۔‘

سابق صدر سپریم کورٹ بار علی احمد کرد لاہور بار کے وکلاء کے ساتھ اظہار یک جہتی کے لیے لاہور آئے اور وکلاء تشدد کے خلاف ہونے والے بار اسوسی ایشن کے اجلاسوں سے خطاب کیا۔

بی بی سی کی مناء رانا کے ساتھ ایک خصوصی بات چیت میں علی احمدکرد نے کہا کہ وکلاء اور ججز کے درمیان پیدا ہونے والا یہ تنازعہ آسانی سے ختم ہو سکتا تھا۔

ان کا کہنا تھا کہ کسی وکیل کی اگر عدالت میں توہین کی جائے تو یہ بہت بڑی زیادتی ہوتی ہے اور ان کی اطلاعات کےمطابق سیشن جج زوار شیخ کا رویہ جونیئر تو جونیئر سئنیر وکلاء کے ساتھ بھی انتہائی توہین آمیز تھا لیکن لاہور ہائی کورٹ کے چیف جسٹس خواجہ محمد شریف نے اسے ختم کرنے میں دلچسپی نہیں لی جس سے وکلاء ناراض ہوئے۔

انہوں نے کہا لاہور بار وکلاء کی سب سے بڑی بار ہے اور عدلیہ کی آزادی میں لاہور کے وکلاء کا انتہائی اہم کردار رہا ہے اور اس بار کے وکلاء کے ساتھ یہ سلوک کرنا ان پر دہشت گردی کے مقدمات قائم کرنا انتہائی افسوس ناک ہے۔

سابق صدر سپریم کورٹ بار علی احمد کرد کا کہنا ہے کہ اگر کسی کالج یا یونیورسٹی میں طلبہ کے خلاف پولیس آتی ہے تو وہ اس کے وائس چانسلر یا پرنسپل کے حکم پر آتی ہے اور وہ انتہائی سنجیدگی سے یہ کہتے ہیں کہ ایوان عدل لاہور میں اندر داخل ہو کر وکلاء پر جو تشدد کیا گیا وہ لاہور ہائی کورٹ کے چیف جسٹس خواجہ محمد شریف کے ایما پر ہوا۔

ان کا کہنا ہے کہ اگر دلیل کے طور پر ان کی یہ بات مان بھی لی جائے کہ یہ ان کے ایما پر نہیں ہوا تو اگر وہ وکلاء کو اپنا سمجھتے تو اسی وقت وہ وہاں پہنچ کر اس تشدد کو رکوا سکتے تھے۔

علی احمد کرد کا کہنا تھا کہ ان ججز کو وکلاء کا اور اس عوام کا احسان مند ہونا چاہیے لیکن انہوں نے وکلاء کو ’یہ صلہ دیا کہ ان پر گولیاں چلوائیں اور اس وقت لاہور میں کئی وکلاء زخمی حالت میں ہسپتالوں میں پڑے ہیں اور یہ تو وہ صلہ نہیں جو ہمیں مل رہا ہے۔‘ انہوں نے کہا کہ جن لوگوں نے وکلاء پر تشدد کیا ان کے نام سامنے آنے چاہیں ان کے خلاف کاروائی کی جائے۔

عدلیہ بحالی کی تحریک کے ہراول دستے میں شامل علی احمد کرد عدلیہ کی کارکردگی سے خوش نہیں ان کا کہنا ہے کہ وہ تحریک میں اس لیے تھے کہ عدلیہ بحال ہوئی تو عام آدمی کو انصاف ملے گا لیکن عام انسان اسی طرح عدالتوں میں رسوا ہو رہا ہے اسے انصاف نہیں مل رہا اور عام آدمی تک آزاد عدلیہ کے ثمرات نہیں پہنچے اور انہیں انصاف دینے کی ذمہ داری اعلی عدلیہ کی ہے۔

انہوں نے کہا کہ کئی اہم معاملات کو پس پشت ڈال دیا گیا ہے۔ گمشدہ افراد کا معاملہ سب سے بڑا معاملہ ہے ’بلوچستان میں گمشدہ افراد کے لواحقین چھ چھ ماہ سے پریس کلب کے باہر دھرنا دیے بیٹھے ہیں لیکن کوئی ان کا پرسان حال نہیں۔وہاں امن و امان کا اتنا بڑا مسئلہ ہے لیکن اس پر کسی کی نظر نہیں۔‘

انہوں نے کہا کہ ’آپ عوام کے مسائل حل کرنے کی بجائے انہیں عدالتوں سے انصاف فراہم کرنے کی بجائے اوپر کے معاملات پر زیادہ توجہ دیں گے تو عوام کو تو کچھ حاصل نہ ہوا مثال کے طور پر ایک چھوٹا سا معاملہ ہے کہ اٹھارہویں ترمیم میں جج صاحبان کی ترقی پرانے طریقے سے ہو یا نئے طریقے سے تو اس کے اوپر اتنا وقت ضائع کرنے کی کیا ضرورت تھی۔‘

علی احمد کرد کا کہنا تھا کہ وہ پارلیمان کو سپریم سمجھتے ہیں۔ ’اس ملک میں ایک ظالمانہ آمریت کے بعد جمہوریت آئی اور عوام کے ووٹوں سے پارلیمان بنی۔ اس پارلیمانی نظام کو چلنا چاہیے اور حکومت کو مدت پوری کرنی چاہیے۔‘