اساتذہ کے عالمی دن پر کلاسوں کا بائیکاٹ

پاکستان کے تعلیمی ادارے فنڈز کی عدم فراہمی کے باعث بے چینی اور مایوسی کا شکار ہیں
،تصویر کا کیپشنپاکستان کے تعلیمی ادارے فنڈز کی عدم فراہمی کے باعث بے چینی اور مایوسی کا شکار ہیں
وقت اشاعت

دنیا بھر منگل کو استاذہ کا عالمی دن پر پاکستان میں جامعات کے اساتذہ نے یہ دن کلاسوں کے بائیکاٹ اور فنڈز کی عدم دستیابی کے خلاف احتجاج کرکے منایا۔

اساتذہ کا کہنا ہے کہ ہائر ایجوکیشن کمیشن کی جانب سے فنڈز نہ ملنے کے باعث جامعات مسائل کا شکار ہیں۔ کراچی، اسلام آباد اور لاہور میں اساتذہ نے احتجاجی اجتماعات منعقد کیے اور تدریسی عمل کا بائیکاٹ کیا۔

ہائر ایجوکیشن کمیشن کا کہنا ہے کہ اساتذہ کے مطالبات منظور کرلیے گئے ہیں، محکمہ کی ترجمان عائشہ اکرام نے بی بی سی کو بتایا کہ جامعات کو ایک ارب رپوں جاری ہوئے ہیں جو رقم تین سے چار روز میں جامعات کو مل جائے گی،اس لیے بائیکاٹ کا اب کوئی جواز نظر نہیں آتا-

دوسری جانب فیڈریشن آف آل پاکستان یونیورسٹیز اکیڈمک سٹاف ایسوسی ایشن کا کہنا ہے کہ یہ رقم ناکافی ہے، کراچی یونیورسٹی کے اساتذہ کی تنظیم کے سربراہ عابد حسنین کے مطابق اس رقم سے ان کے مسائل حل نہیں ہوں گے کیونکہ یہ رقم تمام جامعات میں تقسیم ہوگی۔

انہوں نے کہا ’ جو اساتذہ بیرون ملک اپنی پی ایچ ڈی مکمل کر رہے ہیں ، ان کو بھی فنڈز درکار ہیں اور جو نوجوان ٹیچرز پی ایچ ڈی کرنے کی تیاریاں کررہے ہیں، اگر انہیں فنڈز فراہم نہ کیے گئے تو آگے جا کر تدریس کا کام کیسے ہو گا؟‘

جامعہ کراچی کے وائس چانسلر پیرزادہ قاسم نے کہا کہ گو کہ وہاصولی طور پر اساتذہ کے بائیکاٹ کے خلاف ہیں مگر ان کا موقف تھا کہ ہائر ایجوکیشن کمیشن کی جانب سے فنڈز میں کٹوتی جامعات اور طلبہ کے لیے پریشانی کا باعث ہے’ اچانک ایسے اقدامات کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ اداروں کی تعمیراتی منصوبہ بندی اور ان کی پائیداری متاثر ہوتی ہے۔“

یاد رہے کہ ہائر ایجوکیشن کمیشن نے کچھ روز قبل جامعات کے فنڈز میں کٹوتی کا اعلان کیا تھا مگر اساتذہ کے سخت ردعمل کے بعد اپنا فیصلہ واپس لے لیا اور گزشتہ روز ایک ارب رپے جامعات کو جاری کردیے ہیں، اساتذہ اب ناکافی قرار دے رہے ہیں۔