کرے کوئی، بھرے کوئی کے مصداق؟

- مصنف, ارمان صابر
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد
- وقت اشاعت
صوفی بزرگ عبداللہ شاہ غازی کے مزار پر دو دھماکوں اور ان میں دس افراد کی ہلاکت تو کراچی والوں کے لیے حیران کن تھی ہی لیکن اس سے زیادہ قابل حیرت بات حملے کی ذمہ داری کالعدم تظیم تحریکِ طالبان پاکستان کی جانب سے قبولیت تھی۔
کیا اِن دھماکوں کے پیچھے طالبان ہیں؟ یہ سوال کراچی کے باسیوں کے ذہنوں میں الجھ کر رہ گیا ہے۔
اگر ماضی میں جھانکیں تو آٹھ سال قبل مئی سنہ دہ ہزار دو میں کراچی کے شیریٹن ہوٹل کے سامنے فرانسیسی انجینئروں کو لے جانے والی بس پر مبینہ خودکش دھماکہ ہوا تھا جس میں چودہ افراد ہلاک ہوئے تھے۔ اس وقت تحریک طالبان کی داغ بیل نہیں ڈالی گئی تھی لیکن زیادہ شک القاعدہ پر کیا جاتا تھا۔
اس کے بعد اگلے ماہ یعنی چودہ جون کو امریکی قونصلیٹ کے سامنے ایک گاڑی میں دھماکہ ہوا تھا جس میں بارہ افراد ہلاک ہوئے تھے۔ امریکی قونصلیٹ کے پاس ایک اور دھماکہ مارچ سنہ دو ہزار چھ میں بھی ہوا تھا اور پولیس کے بقول ایک مبینہ خودکش حملہ آور نے امریکی اہلکاروں کو لے جانے والی گاڑی کو بم سے اس وقت تباہ کیا جب وہ امریکی قونصلیٹ کے گیٹ کے قریب پہنچ چکی تھی۔ اس دھماکے میں امریکی اہلکار ڈیوڈ اور ان کے ڈرائیور سمیت تین افراد ہلاک ہوئے تھے۔ پولیس کو شک تھا کہ اس حملے میں لشکر جھنگوی العالمی قاری ظفر گروپ ملوث تھا۔ بعد میں ان کے ایک ڈرون حملے میں مارے جانے کی بھی خبر آئی تھی۔
مئی دو ہزار چار میں کراچی کی فاطمہ جناح روڈ پر واقع امریکی قونصل جنرل کی رہائش گاہ کے قریب بھی کار بم دھماکے ہوئے۔
دہشت گردی کی اِن وارداتوں میں فرقہ واریت یا لسانی رنگ نہیں جھلکتا لیکن پھر بھی ان کی ذمہ داری کسی بھی جہادی تنظیم نے قبول نہیں کی۔ ان حملوں کے علاوہ جو حملے ہوئے ان میں جس نوعیت کا تشدد دیکھا گیا اس میں لسانی یا فرقہ واریت کے عنصر کارفرماں تھے۔
جمعرات کو عبداللہ شاہ غازی کے مزار کے احاطے میں دھماکے جنہیں خودکش قرار دیا جارہا ہے، ان کی ذمہ داری تحریکِ طالبان پاکستان نے قبول کرلی ہے۔ اس تنظیم نے بظاہر جو اپنے اہداف رکھے ہیں ان میں فرقہ واریت سرِفہرست نہیں ہے۔ اگرچہ بعض لوگوں کے خیال میں تحریک کے ساتھ منسلک چند دیگر فرقہ ورانہ تنظیمیں اپنے طور پر اس میں ملوث ہوسکتی ہیں۔ طالبان کا اس حملے کی باضابطہ ذمہ داری تسلیم کرنا اسی لیے اکثر لوگوں کی سمجھ سے بالاتر ہے۔
لیکن وزیرِ داخلہ رحمان ملک نے تازہ بیان میں اس حملے کی تانے بانے وزیرستان سے جوڑ دیے ہیں۔ اس سے پہلے رواں برس مئی کے ماہ میں لاہور میں احمدیوں کی عبادت گاہوں پر حملے کے بعد وزیرِ داخلہ رحمان ملک نے کہا تھا کہ فرقہ واری دہشت گردی میں ملوث کالعدم تنظیمیں لشکرِ جھنگوی اور جیشِ محمد کے اراکین، قبائلی علاقوں سے تربیت حاصل کرنے کے بعد لوٹ رہے ہیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
ان کے بقول شدت پسندی کا مسئلہ پنجاب تک محدود نہیں بلکہ انہوں نے کراچی میں بریلوی اور دیوبندی مکتبۂ فکر کے درمیان بھی لڑائی کرانے کی کوشش کی اور حکومت کی معلومات کے تحت شیعہ مسئلک سے تعلق رکھنے والوں پر بھی حملہ ہوسکتا ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا تھا کہ یہ شدت پسند، کالعدم تحریکِ طالبان پاکستان اور القاعدہ کا حصہ ہیں۔
مبصرین کا کہنا ہے کہ کراچی میں جب فرقہ وارانہ تنظیموں پر پابندی عائد کی گئی تھی تو دیوبندی مکتبۂ فکر سے تعلق رکھنے والی ان تنظیموں نے جہادی تنظیموں کی آغوش میں پناہ حاصل کی تھی اور ان کے ساتھ مل کر کشمیر اور افغانستان میں شدت پسندی کی کارروائیوں میں حصہ لیا تھا۔
تاہم قانون نافذ کرنے والے ادارے ان تنظیموں کی جڑیں کراچی سے اکھاڑ پھینکنے میں پوری طرح کامیاب نہیں ہوسکے تھے اور پولیس ذرائع کے مطابق یہ تنظیمیں اب بھی کراچی میں فعال ہیں۔ پولیس کے چند افسران نے اپنا نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ کراچی میں طالبان نے اپنے آپ کو منظم نہیں کیا ہے کیونکہ وہ کراچی میں قانون نافذ کرنے والے اداروں کی نظروں میں نہیں آنا چاہتے۔
طالبان کے بارے میں یہ بھی کہا جاتا ہے کہ چونکہ کراچی میں پختونوں کے بڑے کاروباری مفادات ہیں لہٰذا وہ یہاں کا امن خراب نہیں کرنا چاہتے۔
پولیس افسران کے مطابق، عبداللہ شاہ غازی کے مزار پر دھماکے میں کالعدم لشکرِ جھنگوی ملوث ہوسکتی ہے لیکن اس کی جانب سے ان دھماکوں کی ذمہ داری قبول کرنے کا مطلب یہ ہوگا کہ اب یہ تنظیم کراچی میں پوری طرح فعال ہے۔
دوسری جانب، اب اس تنظیم کے کالعدم تحریکِ طالبان پاکستان کے ساتھ گٹھ جوڑ ہے لہٰذا طالبان نے ان دھماکوں کی ذمہ داری قبول کی ہے تاکہ لشکرِ جھنگوی العالمی کی جانب انگلیاں نہ اٹھیں۔
بعض مبصرین کے خیال میں کالعدم تحریکِ طالبان پاکستان، کراچی میں اب تک کسی بھی فرقہ وارانہ یا دہشت گردی کا کارروائی میں براہِ راست ملوث نہیں رہے اور اب عبداللہ شاہ غازی کے مزار پر بریلوی مسئلک کے پیروکاروں کو نشانہ بنانے کے بعد اس کی ذمہ داری بھی قبول کرنا، یہ طالبان کی جانب سے ہی کارروائی ہے یا کرے کوئی، بھرے کوئی کے مصداق۔



















