’پولیس کی وجہ سے اداروں میں تصادم ہوا‘

پاکستان کی سپریم کورٹ کے چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری نے لاہور میں وکلاء تشدد کیس کی از خود نوٹس کیس کی سماعت کرتے ہوئے کہا ہے کہ پولیس کے تعصبانہ رویے کی وجہ سے اداروں میں تصادم ہوا۔
انہوں نے کہا کہ لاہور انتظامیہ کی جانب سے سیشن جج کی عدالت سمیت ضلع کچہری میں دفعہ ایک سو چوالیس کے نفاذ کی وجہ سے پورا عدالتی نظام معطل کردیا گیا۔
انہوں نے کہا کہ انگریز ایسے شخص کو مجسٹریٹ لگاتے تھے جن کے بال سفید ہوجاتے تھے لیکن یہاں پرایسے افسران کے فیصلوں کی وجہ سے دو ادارے ایک دوسرے کے سامنے کھڑے ہوگئے۔ اُن کا کہنا تھا کہ جہاں سفارشی افسران تعینات ہوں گے وہاں ایسے نتائج کی ہی توقع کی جاسکتی ہے۔
بینچ میں شامل جسٹس خلیل الرحمن رمدے نے لاہور کے ضلعی افسر سے استفسار کیا کہ اگر عدالت میں پانچ جج صاحبان بیٹھے ہوں تو کیا پولیس دفعہ ایک سو چوالیس کی خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے اُنہیں گرفتار کرنے آجائے گی؟
پنجاب پولیس کے سربراہ طارق سلیم ڈوگر نے عدالت کو بتایا کہ ایک ڈی ایس پی سمیت سات اہلکاروں کو معطل کردیا گیا ہے اور اُن کے خلاف محکمانہ تحقیقات شروع کردی گئی ہیں جس پر چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ معطلی کسی مسئلے کا حل نہیں ہے اُن کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کی جائے۔
جسٹس خلیل الرحمن رمدے نے ایس ایس پی لاہور سے استفسار کیا کہ ویڈیو فوٹیج کے دوران جو پولیس اہلکار بھنگڑا ڈال رہا تھا وہ کون ہے؟ جس پر پولیس افسر نےعدالت کو بتایا کہ اُس پولیس افسر کو معطل کردیا گیا ہے۔ جسٹس خلیل الرحمن رمدے کا کہنا ہے کہ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ وہ کسی ریاست کوفتح کرنے کے بعد بھنگڑے ڈال رہا ہو۔
آئی جی پنجاب نے عدالت کو بتایا کہ وکلاء اور پولیس اہلکاروں کے درمیان جھگڑا ایک پولیس افسر کی جانب سے وکیل کو انکوائری رپورٹ نہ دکھانے کی بنا پر پیش آیا۔
پنجاب کے ایڈووکیٹ جنرل خواجہ حارث نے عدالت کو بتایا کہ انہوں نے پولیس اہلکاروں کے خلاف مقدمہ درج کرنے کے لیے پنجاب حکومت کو خط لکھ دیا ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
عدالت نےاس از خودنوٹس کی سماعت پندرہ اکتوبر تک ملتوی کردی اور واقعہ کی انکوائری کرنے والی تین رکنی ٹیم سے کہا ہے کہ وہ آئندہ سماعت پراس کی رپورٹ عدالت میں پیش کریں۔
واضح رہے کہ چیف جسٹس نے لاہور ہائی کورٹ کے سابق چیف جسٹس ملک اللہ نواز کی سربراہی میں تین رکنی کمیٹی تشکیل دی تھی۔



















