’سیڑھ کے باعث بند ٹوٹا‘

- مصنف, اعجاز مہر
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام
- وقت اشاعت
پاکستان میں آنے والے تاریخی سیلاب میں صوبہ سندھ کے ایک بڑے علاقے کے متاثر ہونے کی کئی وجوہات پیش کی جا تی ہیں۔ کچھ لوگ اسے ایک قدرتی آفت مانتے ہیں تو کچھ اس تباہی کا ذمہ دار پاکستان آرمی ٹھراتے ہیں۔ صوبہ پنجاب کی حکومت اور سندھی وڈیروں پر بھی اکثر اس تباہی کے ذمہ دار ہونے کا الزام عائد کیا جاتا ہے۔ ان الزامات میں کتنی حقیقت ہے یہ جاننے کے لیے نامہ نگار اعجاز مہر نے کشمور سے کیٹی بندر تک دریائے سندھ کے دونوں جانب سفر کیا ہے۔ یہ اس سفر نامے کی نویں قسط ہے۔
منگل اکیس ستمبر
جیسا کہ گزشتہ قسط میں آپ کو بتایا تھا کہ سندھ ڈبونے میں کچھ لوگ پنجاب حکومت کو ذمہ دار سمجھتے ہیں۔ کشمور سے حیدرآباد تک کئی لوگوں سے بات ہوئی جس میں سے بعض سندھی قومپرستوں کا خیال ہے کہ پنجاب نے کالاباغ ڈیم بنانے کے لیے رائے عامہ بنانے کی خاطر جان بوجھ کر سندھ کی طرف بڑا سیلابی ریلا بھیجا ہے۔ انہوں نے مظفر گڑھ سے پیپلز پارٹی کے رکن قومی اسمبلی جمشید دستی کی اس تقریر کا حوالہ بھی دیا جس میں انہوں نے کہا تھا کہ سندھ، بلوچستان اور سرائکستان کو پنجاب نے ڈبویا ہے۔ ان کے بقول تونسہ بیراج کے نیچے جو ’پانڈ ایریا‘ ہے اس میں لغاریوں، کھوسوں اور ہنجراہوں سمیت مختلف با اثر لوگوں کی پچیس ہزار ایکڑ سے زیادہ زمین ہے جس میں آج بھی کھڑی فصلیں موجود ہیں۔ دستی کے مطابق ان کی دریا کے اندر قبضہ کردہ زمینیں بچانے کے لیے پانڈ ایریا میں پانی نہیں چھوڑا گیا۔
انہوں نے کہا تھا کہ اگر تونسہ بیراج کے نیچے نو لاکھ کیوسکس میں سے چار پانچ لاکھ کیوسکس پانڈ ایریا میں جاتا تو مظفر گڑھ ڈوبتا اور نہ ہی سندھ یا بلوچستان۔ کیونکہ پانڈ ایریا بہت وسیع ہے اور پانی پھیل جاتا اور وہ پانی کا ریلا مین دریا کے ریلے سے نہیں ملتا اور گڈو بیراج پر چھ سات لاکھ کیوسکس سے زیادہ پانی کبھی نہیں پہنچتا۔ لیکن سندھ کے بعض قومپرستوں نے دستی سے بھی ایک قدم آگے بڑھ کر یہ سوال اٹھایا کہ پنجاب حکومت نے ایک طرف تونسہ بیراج سے نکلنے والے پانی کو پانڈ ایریا میں جانے نہیں دیا دوسرا یہ کہ پنجند سے ڈیڑھ سے پونے دو لاکھ کیوسکس پانی اس وقت چھوڑا جب انہیں یقین تھا کہ یہ پانی تونسہ سے آنے والے پانی کے ریلے کے ساتھ مل کر دس گیارہ لاکھ کے ریلے کی صورت میں گڈو پہنچا۔ ان کے مطابق اس میں بارش کا پانی بھی جب شامل ہوا تو گڈو پر ساڑھے گیارہ لاکھ کیوسکس پانی ہوگیا اور اگر پنجند کا پانی پہلے گزارا جاتا تو بھی سندھ اور بلوچستان نہیں ڈوبتا۔
کافی دوستوں کی معرفت معلوم ہوا کے سندھی ٹی وی چینلز ہوں یا اخبارات ان میں ادریس راجپوت اور دیگر آبی امور کے ماہرین نے یہ بحث جاری رکھی کہ کوہ سلیمان سے برساتی پانی جو چاچڑاں شریف کے پاس دریائے سندھ میں داخل ہوا اس کی وجہ سے پانی کا بہاؤ تیز ہوا۔ اس طرح کی رائے سابق چیف انجنیئر نور محمد بلوچ کی بھی تھی۔ لیکن جب ان سے پوچھا کہ کوہ سلیمان کا برساتی پانی کہاں سے دریائے سندھ میں داخل ہوتا ہے تو ان کے پاس بھی معلومات نہیں تھی۔
سکھر سے حیدرآباد تک جہاں بھی سندھی صحافیوں سے بات ہوئی کہ چاچڑاں تو دریائے سندھ کے بائیں کنارے واقع ہے اور کوہ سلیمان دائیں جانب ہے اور یہ ممکن ہی نہیں کہ وہاں سے کوہ سلیمان کا برساتی پانی دریائے سندھ میں داخل ہوسکے کیونکہ اگر ایسا ہو تو ڈیرہ غازی خان شہر یا اس سے نیچے، جام پور، راجن پور، فاضل پور روجھان مزاری بھی برساتی پانی سے متاثر ہوتے اور انڈس ہائی وے کو پار کرتے ہوئے یہ برساتی پانی دریائے سندھ میں جاتا۔ لیکن یہ البتہ ضرور ہے کہ تونسہ بیراج سے اپ سٹریم میں کوہ سلیمان کے برساتی نالے دریائے سندھ میں ضرور گرتے ہیں۔ ڈاؤن سٹریم تونسہ بیراج میں برساتی پانی دریائے سندھ میں نہیں آیا جیسا کہ سندھی میڈیا تاثر پھیلاتا رہا ہے۔ کیونکہ جام پور ہو یا کوٹ مٹھن تک دیگر علاقے یا انڈس ہائی وے وہ دریائی پانی کی وجہ سے ڈوبے ہیں۔
بہرحال آج صبح ہم حیدرآباد سے ٹھٹہ کے لیے روانہ ہوئے اور دریائے سندھ کے اوپر کوٹڑی پل سے گزرے تو دریا میں پانی کافی اترا ہوا نظر آیا۔ یہاں دریا کا پیٹ تنگ ہے اور کناروں پر آبادی بھی بہت ہے۔ پونے گھنٹے کی مسافت کے بعد جِھرک شہر پہنچے۔ سندھی زبان میں جھرک چڑے کو کہتے ہیں۔ ساٹھ کی دہائی تک نصاب کی کتابوں میں پڑھایا جاتا رہا کہ محمد علی جناح جھرک میں پیدا ہوئے جہاں ان کے والد پونجا جناح کے گودام بھی تھے۔
لیکن بعد میں ہمارے اکابرین نے سوچا کہ جناح بہت بڑا آدمی ہے وہ اتنے چھوٹے اور دور افتادہ گاؤں میں کیسے پیدا ہوسکتا ہے اس لیے نصاب میں یہ شامل کیا گیا کہ جناح صاحب کراچی کے وزیر مینشن کے علاقے میں پیدا ہوئے۔ حالانکہ کھارادر میں میمن مسجد کے قریب جہاں ایک پرانی عمارت پر ’ولادت گاہ قائد اعظم محمد علی جناح‘ کا بورڈ لگا ہے وہ بھی وزیر مینشن کے علاقے سے کافی دور ہے۔ محمد علی جناح کی جگہ پیدائش کا ریکارڈ بھی ایسے تبدیل کیا گیا جیسے پاکستانی ریاست کے قیام کے بعد کراچی میں ان کی پہلی تقریر سے اقلیتوں کو برابر کے حقوق والی باتیں نکال دی گئیں۔
جھرک سے ہوتے ہوئے ٹھٹہ شہر تک راستے میں بعض چھوٹے دیہات جو دریائے سندھ کے قریب ہیں وہ ڈوبے نظر آئے اور لوگ سڑک کنارے خیمہ زن تھے۔ کچھ جگہوں پر سیم نالوں میں سیلابی پانی آنے کی وجہ سے بھی کچھ دیہات ڈوبے ہیں۔ ٹھٹہ جاتے ہوئے سڑک کے دائیں کنارے کِینجھر جھیل ہے۔ جس میں بہت زیادہ پانی ہے اور سمندر کا منظر پیش کر رہی ہے۔ کچھ دیر میں ٹھٹہ پہنچے اور وہاں سے سجاول کی طرف نکلے۔ سجاول شہر سے پہلے دریائے سندھ پر سجاول پل پار کرتے ہی حفاظتی بند پر چلتے ہوئے کوٹ عالمو کی طرف چل پڑے۔ کوٹ عالمو کے قریب دریائے سندھ کا پشتہ ٹوٹا تھا جس سے ضلع ٹھٹہ میں تباہی پھیلی تھی۔ بند کے اوپر جگہ جگہ لوگ خیموں میں رہائش پذیر ہیں۔ وہاں کراچی سے مخیر حضرات امدادی سامان بانٹنے آتے ہیں۔ یہاں چین سے امداد میں ملنے والے خیمے کچھ زیادہ نظر آئے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
اس بند پر پناہ لینے والے بیشتر خاندانوں کے ساتھ مرغی، بیل، گائے، بکری اور کتا بھی نظر آیا۔ جتنے کتے متاثرین کے ہمراہ یہاں ٹھٹہ میں نظر آئے اتنے کشمور سے تاحال کہیں بھی نظر نہیں آئے۔ وہاں گل بانو نامی ادھیڑ عمر خاتون جو لکڑیوں کی آگ پر چائے پکا رہی تھیں، انہوں نے کہا کہ انہیں امداد نہیں ملی۔ ان کے ساتھ بیٹھی ہوئیں رضیہ نے بات کرنے سے انکار کردیا۔
گل بانو نے بتایا کہ جب وہ پانی میں پھنسے تھے تو ہیلی کاپٹر اوپر سے آتا اور ان کے پروں کی ہوا کی وجہ سے ان کے گھاس پھوس کی جھگی ٹوٹ گئی۔ مجھے اس طرح کی بات غوثپور بند کے قریب معشوق علی سبزوئی نے بھی بتائی تھی کہ بندوں کے شگاف کا دورہ کرنے کے لیے آنے والے ہیلی کاپٹر چاہے وہ وزیراعلیٰ سندھ قائم علی شاہ کا ہو یا آرمی چیف جنرل اشفاق پرویز کیانی کا یا پھر امداد بانٹنے یا نقصان کا معائنہ کرنے والوں کا، جب بھی ہیلی کاپٹر گاؤں کے اوپر گزرتا تو مال مویشی بھاگتے اور دھول اتنی اٹھتی کے متاثرین کی مشکلات میں اضافہ ہوتا۔ انہوں نے اپنی ایک جھگی بھی دکھائی تھی جس کی چھت ان کے بقول ہیلی کاپٹر کی وجہ سے اڑ گئی تھی۔
ہم ٹھٹہ میں بند سے شگاف والی جگہ کی طرف چلتے رہے راستے میں معلوم ہوا کہ ولڑو، رانٹا، جاکھرا، حمائتی، ماندہ اور برفت قبیلے کے لوگ ٹھٹہ کے متاثرین میں شامل ہیں۔ کئی قبیلوں کے نام میرے لیے نئے تھے۔ ٹھٹہ کے لوگ پان بہت کھاتے ہیں اور یہی وجہ ہے کہ متاثرین کی سہولت اور اپنی روزی کی خاطر کچھ لوگوں نے یہاں پان کے کیبن قائم کر رکھے ہیں۔ فاروق ولڑو نامی نوجوان نے بتایا کہ متاثرین میں پان بیچنے سے ان کی یومیہ آمدن چار ہزار روپے ہوجاتی ہے۔

کچھ دیر بعد گاڑی مولچند شاہ بندر بند جسے ایم ایس بند کہا جاتا ہے اس میں کوٹ عالمو نامی گاؤں کے قریب پڑنے والے سولہ سو فٹ کے شگاف کے قریب رک گئی۔ ڈمپر اور ٹریکٹر شگاف پرنے کے لیے کام میں مصروف نظر آئے۔ ایک گھاس پھوس کی جھگی میں کچھ محکمہ آبپاشی کے افسران چار پائیوں پر لیٹے توکچھ کرسیوں پر بیٹھے نظر آئے۔
میں نے تصویر بنانا چاہی تو ایک بھاری بھرکم مولوی صاحب نے چہرہ چھپایا اور زور سے بولا ٹھہرو۔۔۔ وہ اٹھے ٹوپی سر پر رکھی اور کرسی پر بیٹھ کر بولے اب بناؤ۔ میں نے بند کے بارے میں معلومات حاصل کرنا چاہی تو سب نے بتایا کہ وہ سپیشل ڈیوٹی والے ہیں انہیں کچھ نہیں معلوم کہ یہ بند کب بنا، کتنا لمبا ہے، کیوں ٹوٹا وغیرہ وغیرہ۔ انہوں نے تجویز کیا کہ قاضی محمد رفیق نامی انجنیئر سے ملوں جو ٹوٹے ہوئے بند کے دوسرے چھیڑے پر ہیں۔ انہوں نے کشتی کا بندوبست کیا اور میں دوسری طرف پہنچا۔
وہاں سپرنٹنڈنٹ انجنیئر احمد جنید میمن اور قاضی محمد رفیق سے ملاقات ہوئی۔ انہوں نے بتایا کہ انیس سو چھپن کے سیلاب میں یہ بند بہہ گیا تھا اور انیس سو اٹھاون میں دوبارہ تعمیر شروع ہوئی اور ذوالفقار علی بھٹو کے دور میں مکمل ہوا۔ ان کے مطابق اٹھاون میل طویل اس حفاظتی بند کی دیکھ بھال کے لیے ساڑھے چار سو بیلدار تعینات ہیں۔ ان کے بقول سندھ بھر میں جہاں بھی حفاظتی بند ہیں یا نہروں کے پشتے وہاں ایک فرلانگ پر ایک بیلدار تعینات ہیں۔
سجاول پل سے ساڑھے چھبیس کلومیٹر کے فاصلے پر جہاں سے یہ بند ٹوٹا ہے وہاں عملہ موجود تھا لیکن انجنئرز حضرات کے بقول یہاں ایک جانور سیڑھ (سیاہ اور کانٹے دار دم والا جانور) نے بند میں سوراخ کرکے اپنی رہائش رکھی تھی اور سیڑھ ہمیشہ زگ زیگ طریقے سے راستہ بناتی ہے اس وجہ سے یہ بند ٹوٹا اور عملہ اُسے بچا نہیں سکا لیکن اپنی جانیں بچا کر بھاگ نکلا۔
انہوں نے بتایا کہ تیس فٹ گہرا اور سولہ سو فٹ چوڑا شگاف جہاں سے دریا اترنے کی وجہ سے پانی پیچھے ہٹ گیا ہے، اُسے پر کرنے پر چھ کروڑ کی لاگت آئے گی۔ میں نے سوچا اتنے ہی کام کا فرنٹیئر ورکس آرگنائئزیشن والے دس کروڑ سے بھی زیادہ لے رہے ہیں۔
اب شام کے سائے پڑ رہے تھے اور ہم نے واپسی کی تیاری کی۔ ابھی سورج ڈھلا نہیں تھا کہ ہم بھی بند کے کنارے دھول اڑاتے متاثرین کی مشکلات میں شاید اضافہ کرتے واپس سجاول پل سے ٹھٹہ کی طرف چل پڑے۔ وہاں بتایا گیا کہ سجاول پل سے تقریباً اسّی کلومیٹر کے بعد دریائے سندھ شاہ بندر، کیٹی بندر اور کھارو چھان کے پاس سے سمندر میں گرتا ہے۔ ہم ٹھٹہ بائی پاس سے ہوتے ہوئے کراچی چل پڑے اور یوں میرا کشمور میں ٹوڑی کے شگاف سے کوٹ عالمو تک کے شگاف تک کا دریائے سندھ کے دونوں کناروں کا نو روز کا سفر مکمل ہوگیا۔
اس سفر میں بہت سے ایسے عوامل، کوتاہیوں اور شواہد کی نشاندہی ہوئی کہ اگر کچھ اقدامات بر وقت کیے جاتے تو شاید سندھ اور بلوچستان نہ ڈوبتا۔۔ وہ کیا اقدامات ہیں۔ جانیے گا آخری قسط میں۔



















