’وزیر اعظم پر نہیں افواہوں پر یقین ہے‘

سپریم کورٹ کے سترہ رکنی بینچ نے ججوں کی برطرفی کی غیرمصدقہ خبروں سےمتعلق اپنے ازخود نوٹس کی سماعت پیر کے روز کر کےاسے اب غیر معینہ مدت کے لیے ملتوی کر دیا ہے۔
عدالت نے گزشتہ سماعت کے موقع پر اٹارنی جنرل کو ہدایت کی تھی کہ وہ وزیر اعظم کے دستخط شدہ جواب عدالت میں پیش کرے۔ اٹرنی جنرل نے پیر کو اس بارے میں ابتدائی رپورٹ پیش کی اور کہا کہ اس معاملے کی تفتش کرنے کے لیے قائم کی گئی چھ رکنی کمیٹی کا اجلاس تئیس تاریخ کو ہے لہذا انہیں کچھ وقت اور دیا جائے۔
وزیر اعظم کی تقریر:
ادھر وزیر اعظم نے گزشتہ رات قوم سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اگر کسی ذریعے سے پھیلائی گئی ’جھوٹی‘ خبر کو وزیر اعظم کے قول پر ترجیح دی جائے گی تو یہ وزیر اعظم کی توہین ہوگی۔
وزیر اعظم نے اپنی تقریر کے دوران یہ پیغام دینے کی کوشش کی کہ اگر سپریم کورٹ ان کے کہنے پر اعتبار کرنے کےلیے تیار نہیں ہے تو وہ بھی مزید جھکنے کے لیے تیار نہیں ہیں۔
<link type="page"><caption> میرے عہدے کا احترام کریں: وزیر اعظم</caption><url href="http://www.bbc.co.uk/urdu/pakistan/2010/10/101017_gilani_address.shtml" platform="highweb"/></link>
حکومت نے عدالت کے حکم پر پاکستانی اخبارات کے مالکان کی تنظیم اے پی این ایس کے صدر حمید ہارون کی سربراہی میں چھ رکنی کمیٹی قائم کر دی ہے جو ججوں کے نوٹفیکیشن کے حوالے سے نشر ہونے والی خبروں کے ذرائع کا پتہ لگائے گی۔اس کمیٹی کے زیادہ تر ارکان صحافیوں کی تنظیموں اور صحافتی اداروں کے نمائندے ہیں۔
کمیٹی کے سربراہ حمید ہارون نے بی بی سی کو بتایا کہ کمیٹی نے اپنی ابتدائی رپورٹ وفاقی وزارت اطلاعات کو بھجوادی ہے۔ حمید ہارون نے بتایا کہ کمیٹی نے غیرمصدقہ خبروں کی مکمل تحقیقات کے لیے مزید وقت مانگا ہے۔
وزیر اعظم سید یوسف رضا گیلانی نے اپنے خطاب میں ایک بار پھر ان خبروں کی تردید کی کہ حکومت ججوں برطرف کرنے کا کوئی طریقہ وضح کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ کسی ایک ذریعے سے پھیلائی گئی خبر کو وزیر اعظم کے قول پر ترجیح دی جائے گی تو یہ وزیر اعظم کے آئینی منصب کی توہین ہوگی۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
ان کے اس خطاب کے دوران خیبر پختونخواہ اور بلوچستان کے وزرائے اعلی کے علاوہ سندھ اور پنجاب کے سینئر وزراء اور پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کے وزیر اعظم بھی موجود تھے۔
وزیر اعظم نے کہا کہ جس طرح وزیر اعظم کے زبانی حکم پر ججوں کے گھروں پر بٹائے گئے پہرے ہٹائے گئے تو پھر ان کی زبانی تردید کو بھی رد نہ کیا جائے۔
سید یوسف رضا گیلانی نے کہا کہ انھوں نے ججوں کی بحالی کا حکم نامہ واپس لینے کی خبر کی انکوائری کا حکم دے دیا ہے اور اس سے قوم کو معلوم ہوجائے گا کہ کس نے عدلیہ اور حکومت کے تعلقات پر شب خون مارنے کی کوشش کی۔
وزیر اعظم نے کہا کہ جب یہ خبر سامنے آئی کہ ایگزیکٹیو آرڈر واپس لیا جارہا ہے تو انہوں نے اسی وقت اس کی تردید کی تھی اور صدر مملکت نے بھی اسے غلط قرار دیا۔
ان کا کہنا ہے کہ اگر اس کے باجود اس سے تسلیم نہ کیا جائے تو پھر مجھے یاد دلانا پڑے گا کہ ہم باہمی احترام کے اس اصول کو نظر انداز کررہے ہیں جو آئین پاکستان کی روح ہے جو پارلیمانی ہے۔
وزیر اعظم نے کہا کہ اگر ملک میں افواہوں کی اتنی حکمرانی ہو اور ان کے مقابلے میں وزیر اعظم کی بات بھی بے وزن ہوجائے تو قوم کو سوچنا چاہیے کہ ہم کس طرف جا رہے ہیں۔
وزیر اعظم نے کہا کہ اس آئین کا ہم سے تقاضا ہے کہ ہم عوام کی فلاح و بہبود کو ہرکام پر ترجیح دیں۔
وزیر اعظم نے کہا کہ ’ہم اگر فوج کے ساتھ مل کر کام کرسکتے ہیں اگر سیاسی قوتوں کے ساتھ اتفاق رائے پیدا کرسکتے ہیں تو یقیناً عدلیہ کے ساتھ بھی مل کر چل سکتے ہیں۔‘
انھوں نے کہا کہ اس مقصد کے لیے صورت کوئی بھی ہو ہمیں سوچنا ہوگا کہ حکومت اور عدلیہ مل کر کیسے اس ملک کے عوام کو انصاف کرسکتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ میں عوام کا نمائندہ ہوں اور میں جانتا ہوں کہ آج معاشرہ میں انصاف کی طلب کتنی شدید ہے۔
مسٹر گیلانی نے کہا ہم انتظامی اور عدالتی نظام میں بہتری لاکر عوام کی توقعات پر پورا اتر سکتے ہیں اور عدلیہ اور حکومت کو مل کر قانونی، سماجی اور معاشی انصاف کے لئے کمر بستہ ہونا ہوگا۔
انھوں نے کہا کہ ’میں اس مقصد کے لئے عدالت کے معزز جج صاحبان کے ساتھ مل بیٹھنے کے لیے تیار ہوں، میں اس کے لیے فورم بنانے کے لیے بھی تیار ہوں۔ اس کے لیے جو تجویز بھی سامنے آئی گی حکومت اس کا خیر مقدم کرے گی۔‘
’بقا کی اس بے معنی جنگ میں ہم مزید اپنی صلاحیتیں اور وقت ضٰائع نہیں کرسکتے۔آئین و دستور، ریاستی اداروں اور ملکی حالات پر ہمارا موقف واضح اور دو ٹوک ہے۔‘
ا



















