آخری وقت اشاعت:  اتوار 10 اکتوبر 2010 ,‭ 14:39 GMT 19:39 PST

پاکستان سے نیٹو رسد افغانستان روانہ

اس مواد کو دیکھنے/سننے کے لیے جاوا سکرپٹ آن اور تازہ ترین فلیش پلیئر نصب ہونا چاہئیے

ونڈوز میڈیا یا ریئل پلیئر میں دیکھیں/سنیں

حکومتِ پاکستان کی جانب سے افغانستان میں تعینات نیٹو اور اتحادی افواج کے لیے رسد لےجانے والے ٹینکرز اور کنٹینرز کی سرحد پار نقل و حمل پر عائد پابندی اٹھائے جانے کے بعد اتوار کو گاڑیاں طورخم اور چمن سے افغانستان کے لیے روانہ ہو گئی ہیں۔

اتوار کی چھٹی کے باوجود کسٹم اہلکاروں کو خصوصی طور پر بلا کر ٹینکروں اور کنٹینروں کو روانہ کیا گیا ہے۔

پاک افغان سرحد کے قریب لنڈی کوتل سے پولیٹکل انتظامیہ کے اہلکاروں نے بتایا ہے کہ دس دن کے تعطل کے بعد تین گھنٹوں میں بیس سے زیادہ ٹینکر اور کنٹینر افغانستان کے جانب طورخم کے راستے روانہ ہوئے ہیں جبکہ دیگر کاغذی کارروائی مکمل ہونے پر روانہ کیے جا رہے ہیں۔

سپلائی معطل ہونے کے بعد طورخم سرحد پر سینکڑوں ٹرک پھنس گئے تھے

پشاور میں بی بی سی اردو کے نامہ نگار عزیز اللہ خان کے مطابق اس وقت طور خم سرحد کے قریب کوئی ڈیڑھ سو ٹینکر اور کنٹینر موجود ہیں جبکہ خیبر ایجنسی اور دیگر علاقوں میں بھی بڑی تعداد میں ٹینکر اور کنٹینر کھڑے ہیں جنھیں آہستہ آہستہ افغانستان جانے کے لیے روانہ کیا جائے گا۔

طورخم سرحد کے پاس موجود ایک مقامی شہری سعداللہ آفریدی نے بتایا ہے کہ سرحد کے قریب ایک سو چھبیس کنٹینر اور چوبیس ٹینکر موجود تھے جنھیں روانہ کیا جا رہا ہے ۔ انھوں نے کہا کہ روانگی کے وقت ڈرائیوروں نے خوشی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ گاڑیوں پر حملوں کی وجہ سے انھیں سخت تشویش لاحق تھی اور اسی لیے وہ اپنی گاڑیوں سے دور ہی رہتے تھے کیونکہ کہیں کسی بھی وقت ان پر حملہ ہو سکتا تھا۔

پاکستان میں خیبر ایجنسی کے علاقےطورخم اور بلوچستان میں چمن کے راستے روزانہ کوئی پانچ سو ٹینکر اور کنٹینر افغانستان میں تعینات اتحادی اور نیٹو اواج کو تیل کے علاوہ دیگر سامان پہنچانے کے لیے سرحد عبور کرتے ہیں۔ پاکستان کے یہ دونوں راستے افغانستان میں موجود غیر ملکی فوج کے لیے اہم لائف لائن سمجھے جاتے ہیں۔

کنٹینروں اور ٹینکروں کی افغانستان روانگی کے موقع پر سکیورٹی اور کسٹم کلیئرنس کے خصوصی انتظامات کیے گئے تھے۔ سعداللہ آفریدی نے بتایا کہ کسٹم اہلکاروں کو خصوصی طور پر آج چھٹی کے روز طلب کرکے ٹینکروں اور کنٹینروں کو روانہ کیا گیا ہے لیکن سڑک پر رش کی وجہ سے ان گاڑیوں کو وقفے وقفے سے روانہ کیا جا رہا ہے۔

ُادھر کوئٹہ سے نامہ نگار ایوب ترین کا کہنا ہے کہ اتوار کو بلوچستان میں کسٹم حکام نے افغانستان میں تعینات نیٹو فواج اور اتحادی افواج کے لیے تیل اور خوراک لے جانے والے سو سے زیادہ آئل ٹینکروں اور کنٹیرز کو چمن کے راستے افغانستان میں داخل ہونے کی اجازت دی ہے۔

یہ آئل ٹینکرز اور کنٹینرزگزشتہ ایک ہفتے سے پاک افغان سرحد پر روکے ہوئے تھے۔

بلوچستان میں نیٹو سپلائی کے آئل ٹینکرز پر حملوں کے بعد صوبائی حکومت نے نیٹو ٹرمینلز پر سکیورٹی سخت کردی ہے۔

گزشتہ دو ہفتوں کے دوران نیٹو کے ٹینکرز پر متعدد حملے ہوئے ہیں

پاکستان میں خیبر ایجنسی کے علاقےطورخم اور بلوچستان میں چمن کے راستے روزانہ کوئی پانچ سو ٹینکر اور کنٹینر افغانستان میں تعینات اتحادی اور نیٹو اواج کو تیل کے علاوہ دیگر سامان پہنچانے کے لیے سرحد عبور کرتے ہیں۔ پاکستان کے یہ دونوں راستے افغانستان میں موجود غیر ملکی فوج کے لیے اہم لائف لائن سمجھے جاتے ہیں۔

پاکستان نے یہ سپلائی اس وقت بند کر دی تھی جب نیٹو افواج کی جانب سے پاکستان کے سرحدی علاقے کرم ایجنسی میں ایک سکیورٹی چوکی اور دیگر مقامات پر فضائی حدود کی خلاف ورزی کرتے ہوئےحملے کیے گئے تھے۔

پاکستان نے اس سرحدی خلاف ورزی پر سخت احتجاج کیا تھا اور نیٹو سے معافی مانگنے کو کہا تھا جس پر نیٹو اور امریکی حکام کی جانب سے ان واقعات پر معافی طلب کرتے ہوئے مستقبل میں ایسے واقعات نہ ہونے کا وعدہ کیا گیا تھا۔

[an error occurred while processing this directive]

BBC © 2014بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔