نواز لیگ کے رہنما کی ضمانت پر رہائی

وقت اشاعت

لاہور ہائی کورٹ نے مسلم لیگ نون کے رہنما اور سابق رکن پنجاب اسمبلی سہیل ضیاء بٹ کو احتساب عدالت کی طرف سے سنائی جانے والی تین سال قید کی سزا پر عمل درآمد روکتے ہوئے انہیں ضمانت پر رہا کرنے کا حکم دیا ہے۔

سہیل ضیاء بٹ کو قومی احتساب بیورو یعنی نیب نے یکم ستمبر کو حراست میں لیا تھا تاکہ احتساب عدالت کی طرف سے سہیل ضیاء بٹ کو سنائی جانے والی قید کی سزا پر عمل درآمد کرایا جاسکے۔

ہائی کورٹ کے دو رکنی بنچ نے سہیل ضیاء بٹ کی درخواست ضمانت منظور کرتے ہوئے انہیں دو، دو لاکھ کے مچلکے جمع کرانے کی ہدایت کی اور یہ بھی حکم دیا کہ وہ احتساب عدالت میں بیس لاکھ روپے بطور ضمانت جمع کرائیں۔

درخواست ضمانت کی پیروی کرتے ہوئے سید احتشام قادر شاہ ایڈووکیٹ نے عدالت کو بتایا کہ نیب نے ان کے موکل سہیل ضیاء بٹ کے خلاف جو ریفرنس دائر کیے ہیں ان کا مقصد ان کو سیاسی طور پر انتقامی کارروائی کا نشانہ بنانا ہے۔

وکیل نے مزید کہا کہ سہیل ضیاء بٹ بیرون ملک تھے اس لیے انہیں یہ معلوم ہی نہ تھا کہ ان کے خلاف عدالت میں کوئی کارروائی ہورہی ہے۔ سید احتشام قادر شاہ نے عدالت کو یہ بھی بتایا کہ سہیل ضیاء بٹ اس وقت بیماری کے باعث ہسپتال میں زیر علاج ہیں۔

نیب کے وکیل نے درخواست ضمانت کی مخالفت کی اور اس مسترد کرنے کی استدعا کی۔

لاہور سے نامہ نگار عبادالحق کا کہنا ہے کہ سہیل ضیاء بٹ مسلم لیگ نون کے قائد نواز شریف کی چچا زاد بہن کے شوہر ہیں اور ان کا بیٹا عمر ضیاء بٹ اس وقت لاہور سے رکن پنجاب اسمبلی بھی ہے۔ دو ہزار آٹھ کے عام انتخابات کے بعد سہیل ضیاء بٹ پہلی سیاسی شخصیت ہیں جن کو نیب نے گرفتار کیا تھا۔

سہیل ضیاء بٹ کے خلاف سابق صدر جنرل پرویز مشرف کے دورِ اقتدار میں نیب نے جنوری دوہزار ایک میں ریفرنس دائر کیا تھا جس میں یہ الزام لگایا تھا کہ سہیل ضیاء بٹ نے نیشنل انڈسٹیریل کارپوریشن کی انتظامیہ کے ساتھ ایک معاہدہ کیا جس کے تحت انہیں بیس لاکھ روپے کی ادائیگی کی گئی تھی جو نیب کے تحت قابل دست اندازی جرم ہے۔

لاہور کی احتساب عدالت نے اسی ریفرنس کے سلسلہ میں سہیل ضیاء بٹ کے عدالت میں پیش نہ ہونے پر انہیں ستائیس جنوری دو ہزار ایک کو دانستہ روپوشی کے الزام میں تین سال کی قید سنائی تھی ۔

سہیل ضیاء بٹ مئی دو ہزار میں بیرون ملک چلے گئے تھے اور پھر وہ نواز شریف کے ساتھ ہی وطن واپس آئے۔