بہاولپور: سات شدت پسند گرفتار

ملتان میں مبینہ طور پر حساس ادارے<link type="page"><caption> آئی ایس آئی کے ہیڈ کواٹر پر حملے</caption><url href="http://www.bbc.co.uk/urdu/pakistan/2009/12/091208_multan_blast.shtml" platform="highweb"/></link> اور دہشت گردی کی دیگر وارداتوں میں ملوث سات شدت پسندوں کو بہاولپور پولیس نے بدھ اور جمعرات کی درمیانی شب گرفتار کیا ہے۔
پولیس کے مطابق گرفتار ہونے والے ان افراد کا تعلق لشکر جھنگوی گروپ تحریک طالبان سے ہے اور یہ ملتان میں وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی کی رہائش گاہ پر حملے کی منصوبے بندی بھی کر رہے تھے۔
بی بی سی کی مناء رانا سے بات کرتے ہوئے ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر (ڈی پی او) بہاولپور بابر بخت قریشی نے بتایا کہ گرفتار مبینہ شدت پسندوں کی عمریں پندرہ سے سینتیس برس کے درمیان ہیں اور انہیں پولیس مقابلے کے بعد بہاولپور کے نواحی علاقے احمد پور شرقیہ سے گرفتار کیا گیا۔
گرفتار ہونے والے ان سات افراد کے سربراہ کا نام عبدالرحیم طلحہ جبکہ دیگر افراد میں حافظ سلیمان، محمد افضل، مفتی حسین،سجاد احمد، محمد سلیم اور بلال شامل ہیں۔ان میں سے ایک مفتی حسین کے بارے میں ان کا کہنا ہے کہ وہ پی ایچ ڈی کی ڈگری رکھتے ہیں۔
ڈی پی او بہاولپور بابر بخت قریشی نے بتایا کہ ان افراد سے بھاری اسلحہ بھی برآمد ہوا جس میں کلاشنکوف، پسٹلز اور ہینڈ گرینیڈ شامل ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ گرفتار ہونے والے ان افراد سے جب تفتیش کی گئی تو انہوں نے انتہائی اہم انکشافات کیے جس میں پچھلے سال دسمبر میں ملتان میں آئی ایس آئی کی عمارت پر ہونے والے خود کش حملہ شامل ہے جس میں متعدد افراد ہلاک اور زخمی ہوئے تھے۔
ان مبینہ دہشت گردوں نے دوران تفتیش پولیس کو بتایا کہ ایک ڈکیتی کے دوران انہوں نے ایک ہی خاندان کے پانچ افراد کو ہلاک کیا اور ملتان کے نواحی علاقے جلال پور پیر والا میں میورات کی ایک دکان کو لوٹا اور اس کے گارڈ کو ہلاک کیا تھا۔
ڈی پی او بہاولپور کا کہنا ہے کہ دوران تفتیش ان افراد نے انکشاف کیا کہ ان کا اگلا ہدف ملتان میں وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی کی رہائش گاہ ہونی تھی۔اس کے علاوہ وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی اور وفاقی وزیر مذہبی امور احمد سعید کاظمی بھی ان کا نشانہ تھے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
بابر بخت قریشی کے مطابق دوران تفتیش ان مبینہ شدت پسندوں سے معلوم ہوا کہ ان کا سرغنہ قاری عبید اللہ عرف قاری عمران ہے جو اس وقت پاکستان کے شمالی علاقے میران شاہ میں موجود ہے۔ان کی شدت پسندانہ کارروائیوں کو میران شاہ سے مدد دی جا رہی ہے جبکہ یہ تمام افراد علاقہ غیر سے تربیت حاصل کر کے آئے ہیں اور ان سات افراد میں سے دو کم عمر لڑکوں کو خود کش حملوں کے لیے تیار کیا گیا ہے۔
ڈی پی او کے مطابق پولیس نے کئی ہفتوں کی کوششوں کے بعد انہیں گرفتار کیا اور جب پولیس نے ان پر حملہ کیا تو یہ تیار نہیں تھے اس لیے وہ زیادہ مزاحمت نہ کر سکے۔ اس کارروائی میں نہ تو کوئی پولیس اہلکار اور نہ ہی کوئی شدت پسند زخمی ہوا۔



















