بلوچستان: سوسائٹیزرجسٹریشن ایکٹ منظور

بلوچستان کی صوبائی اسمبلی نےاتفاقِ رائے سے سوسائٹیز رجسٹریشن ایکٹ منظور کر لیا ہے، جس کے تحت صوبے میں تمام مدارس کی رجسٹریشن لازمی ہوگی۔
بلوچستان میں اِس وقت دس ہزار کے قریب دینی مدارس ہیں جن میں سے تقریباً چار ہزار مدارس کی رجسٹریشن ہوچکی ہے۔
کوئٹہ سے بی بی سی کے نامہ نگار ایوب ترین کے مطابق جمعے کو سپیکرسردار محمد اسلم بھوتانی کی صدارت میں ہونے والے بلوچستان اسمبلی کے اجلاس نے سوسائٹیزرجسٹریشن ایکٹ کومنظور کیا جس کے تحت تمام دینی مدارس چاہے وہ کسی بھی نام سے منسوب ہوں اُس وقت تک سرگرم عمل نہیں ہوسکتے جب تک اُن کی باقاعدہ رجسٹریشن نہ ہو۔
اِس کے علاوہ جس دینی مدرسے کی ایک سے زیادہ شاخ ہوگی اُس کی تمام ذیلی شاخوں کی رجسٹریشن بھی لازمی ہو گی۔
اس ایکٹ کے تحت کوئی بھی دینی مدرسہ ایسے لٹریچرکی اشاعت یا تعلیم نہیں دے گا جس سے عسکریت پسندی کوفروغ ملے، فرقہ پرستی پھیلے یا مذہبی دل آزاری ہو۔ تاہم مختلف مکاتبِ فکر یا مذاہب کے تقابلی مطالعے یا پھر کسی ایسے مضمون پر جو قرآن، سنت یا اسلامی فقہ سے متعلق ہو، کسی قسم کی پابندی عائد نہیں ہوگی۔
اِس کےعلاوہ ہر دینی مدرسہ ہرمالی سال کے اختتام پر اپنی تعلیمی سرگرمیوں کی رپورٹ سوسائٹیز ایکٹ کے تحت رجسٹرار کو پیش کرے گا اور ہردینی مدرسہ کسی با اختیار آڈیٹرسے اپنے سالانہ حسابات کا آڈٹ کرائے گا اور اِس کی کاپی سالانہ رپورٹ کے ساتھ رجسٹرار کو پیش کرے گا ۔
خیال رہے کہ سنہ دوہزار سات میں سابق فوجی صدر پرویزمشرف نے پی سی او کے تحت ایک آرڈنینس جاری کیا تھاجس کے مطابق ملک میں دینی مدارس کی رجسٹریشن کو لازمی قرار دیاگیاتھا، تاہم جمعے کو بلوچستان اسمبلی کے ارکان نےاتفاقِ رائے سےاس آرڈنینس کو ایکٹ میں تبدیل کر دیا۔
سابق فوجی صدر پرویزمشرف کے دورِ حکومت میں سابق وفاقی وزیر برائےمذہبی امور اعجاز الحق نے اس آرڈنینس کی کامیابی کے لیے مدرسہ اصلاحات کے نام پر پورے ملک میں ایک مہم بھی شروع کی تھی جس میں نہ صرف وفاقی حکومت کی جانب سے رجسٹرڈ مدارس کو کمپیوٹرز دیے گئے تھے بلکہ انہیں جدید دور کے تقاضوں کے مطابق مدارس کے نصاب میں تبدیلیاں لانے کی بھی کوشش کی گئی تھی۔ تاہم اکثر مذہبی جماعتوں نےاس مہم کی اس لیے مخالفت یہ کہہ کر کی تھی کہ یہ سب کچھ امریکہ کے ایما پر کیا جا رہا تھا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
یادرہے کہ صوبہ پنجاب اور خیبر پختونخواہ پہلے ہی سے سوسائٹیز رجسٹریشن ایکٹ میں ضروری تبدیلی لاکر بل کی صورت میں قانون سازی کر چکے ہیں۔



















