’خبر‘ کی تحقیق کے لیے کمیٹی مقرر

پاکستان کے وزیر اطلاعات قمرالزماں کائرہ نے کہا ہے کہ ججوں کی بحالی کا انتظامی حکام نامہ واپس لینے کے بارے میں نشر ہونے والی غیر مصدقہ خبر کی تحقیقات کے لیے کمیٹی تشکیل دے دی گئی ہے۔
وفاقی وزیر اطلاعات قمرالزماں کائرہ نے اسلام آباد میں بی بی سی کے نامہ نگار ذوالفقار علی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ یہ کمیٹی چھ اراکین پر مشتمل ہے اور اس کے سربراہ اخباری مالکان کی تنظیم اے پی این ایس کے صدر حمید ہارون ہیں۔
<link type="page"><caption> آئینی ماہرین اس پر کیا کہتے ہیں</caption><url href="http://www.bbc.co.uk/urdu/pakistan/2010/10/101015_sc_govt_row_reax.shtml" platform="highweb"/></link>
<link type="page"><caption> رد عمل ذرا زیادہ تھا: عاصمہ جہانگیر</caption><url href="http://www.bbc.co.uk/urdu/multimedia/2010/10/101015_judges_asma.shtml" platform="highweb"/></link>
<link type="page"><caption> ’چند افراد عدلیہ پارلیمان تناؤ کے پیچھے‘</caption><url href="http://www.bbc.co.uk/urdu/pakistan/2010/10/101015_sc_govt_row_political_reax.shtml" platform="highweb"/></link>
<link type="page"><caption> ججوں کی طویل مشاورت اور پھر پریس ریلیز</caption><url href="http://www.bbc.co.uk/urdu/pakistan/2010/10/101014_sc_crisis_meeting.shtml" platform="highweb"/></link>
<link type="page"><caption> ’اداروں کو حدود میں رکھنا ہماری ذمہ داری‘</caption><url href="http://www.bbc.co.uk/urdu/pakistan/2009/09/090907_cj_judges_oath_rr.shtml" platform="highweb"/></link>
<link type="page"><caption> وزیر اعظم پہلے ہی تردید کر چکے ہیں: کائرہ</caption><url href="http://www.bbc.co.uk/urdu/pakistan/2010/10/101015_kaira_jahanuma_denial.shtml" platform="highweb"/></link>
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
اس کیمٹی کے دیگر اراکین میں پاکستان براڈ کاسٹنگ ایسوسی ایشن یعنی پی بی اے کے سیکریڑی جنرل قاضی اسلم، پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹس ( پی ایف یو جے) کے صدر پرویز شوکت کے علاوہ وزرات داخلہ اور وزارت اطلاعات کے جوائنٹ سیکریڑی اور وزرات اطلاعات کے شعبہ انٹرنل پبلسٹی(آئی پی) کے ڈائریکڑ جنرل ہیں۔
وزیر اطلاعات قمر الزماں کائرہ نے کہا ان کی خواہش ہے کہ یہ کمیٹی آزادنہ طور پر کام کرے اور حقائق کی تہہ تک پہنچے کہ یہ خبر کیسے چلی اور اس(خبر) کی بنیاد کیا ہے جس نے سنسنی اور غیر یعقینی صورت حال پیدا کی ہے۔
کائرہ نے کہا کہ اعلیٰ عدلیہ کے ججوں کی بحالی کا نوٹیفکشن واپس لینے کی خبر بے بنیاد اور افواہ تھی، اس کا حقائق سے کوئی تعلق نہیں اور وزیر اعظم اور اٹارنی جنرل نے بھی اس کی تردید کی ہے۔
انہوں نے کہا کہ سپریم کورٹ نے حکومت کو حکم دیا کہ وہ اس خبر کی تحقیقات مکمل کرکے رپورٹ پیر یعنی اٹھارہ اکتوبر کو عدالت میں پیش کرے۔
لیکن وزیر اطلاعات کا کہنا ہے کہ انھیں سپریم کورٹ کا حکم جمعہ کے روز بعد دو پہر موصول ہوا اور تعطیل کے باجود سنیچر کے روز کمیٹی تشکیل دے دی گئی اور یہی کوشش ہے کہ تعطیل کے باجود یہ کیمٹی اتوار کو کارروائی کا آغاز کرے۔
وفاقی وزیر اطلاعات قمر الزماں کائرہ نے کہا کہ انھوں نے کہا یہ کمیٹی پر منحصر ہے کہ وہ کتنے عرصے میں اپنی تحقیقات مکمل کرکے رپورٹ پیش کرے گی۔
‘ہم نے کمیٹی سے گزراش کی ہے کہ سپریم کورٹ کے حکم کے مطابق ہمیں فوری طور پر اس کی تحقیقات شروع کرنی ہے اور جس قدر جلدی ہو رپورٹ عدالت کے سامنے پیش کی جانی ہے۔‘
انہوں نے کہا کہ یہ کمیٹی فوری طور پر کارروائی کا آغاز کرکے جلد از جلد اپنی تحقیقات مکمل کرلے گی۔
واضح رہے کہ جمرات کی رات کو پاکستان کے نجی ٹی وی چینل ’آج‘ کے علاوہ کئی دیگر ٹی وی چینلز نے نامعلوم ذرائع کے حوالے سے یہ غیر مصدقہ خبر نشر کی کہ حکومت ججز کی بحالی کا ایگزیکٹو آرڈر واپس لینے پر غور کر رہی ہے۔اس غیر مصدقہ خبر نشر ہونے کے فوری بعد پاکستان کے وزیر اعظم نے اس خبر کوغلط اور بے بنیاد قرار دیا تھا۔
وزیر اعظم کی تردید کے باجود سپریم کورٹ نے ججوں کی بحالی کا آرڈر واپس لینے کی غیر مصدقہ خبروں کا از خود نوٹس لیا اور اس کی سماعت کے لئے سترہ رکنی بینچ تشکیل دیا ہے جو پیر کو اس کی سماعت دوبارہ شروع کررہا ہے۔



















