پشاور: طلبہ کا احتجاجی مظاہرہ

پشاور
،تصویر کا کیپشنپشاور میں آئے روز پر تشدد واقعات ہوتے رہتے ہیں
وقت اشاعت

صوبہ خیبر پحتونخوا کے دارالحکومت پشاور میں اسلامیہ کالج یونیورسٹی کے وائس چانسلر اجمل خان کی بازیابی کے لیے طلباء نے احتجاجی مظاہرہ کیا ہے جس میں سینکڑوں طلباء نے شرکت کی۔

یونیورسٹی پولیس تھانے کے انچارج نثار خان نے بی بی سی کو بتایا کہ پیر کو وائس چانسلر اجمل خان کی بازیابی کے لیے متحدہ طُلباء محاذ نے یونیورسٹی کے حدود میں ایک احتجاجی مظاہرہ کیا جس میں پندرہ سو سے زیادہ طُلباء نے شرکت کی۔انہوں نے کہا کہ طُلباء نے مختلف پلے کارڈ اُٹھا رکھے تھے جس پر وائس چانسلر اجمل خان کے رہائی کے نعرے درج تھے۔

پولیس اہلکار کے مطابق طُلباء نے یونیورسٹی سے باہر جانے کی بھی کوشش کی ہے لیکن پولیس نے انہیں باہر جانے نہیں دیا اور یونیورسٹی کے اندر ہی منتشر کر دیا۔

مظاہرے کی قیادت کرنے والے طلب علم امتیاز خان نے بی بی سی کو بتایا کہ اب احتجاج ختم نہیں ہوا ہے بلکہ آج سے آغاز ہوا ہے۔انہوں نے بتایا کہ تین تنظیموں پر مشتمل متحدہ طُلباء محاذ بنایا گیا ہے جس میں پختون سٹوڈنٹس فیڈریشن، اسلامی جماعت طُلباء اور پیپلز سٹوڈنٹس فیڈریشن شامل ہیں۔ان کے مطابق اس کے علاوہ اس میں وزیرستان سٹوڈنٹس سوسائٹی اور خیبر سٹوڈنٹس سوسائٹی بھی شامل ہیں۔

پشاور میں نامہ نگار دلاور خان وزیر نے بتایا ہے کہ سات ستمبر کو تاریخی درسگاہ اسلامیہ کالج یونیورسٹی کے وائس چانسلر اجمل خان کو نامعلوم مسلح افراد نے اس وقت اغواء کر لیا تھا۔جب وہ اپنے گاڑی میں گھر سے دفتر کی طرف جا رہے تھے۔

اجمل خان کا تعلق صوبہ خیبر پختونخوا کے ایک مشہور سیاسی خاندان سے ہے اور وہ عوامی نیشنل پارٹی کے سربراہ اسفندیار ولی خان کے کزن بتائے جاتے ہیں۔

وہ پشاور یونیورسٹی کے پرووسٹ، اسلامیہ کالج کے پرنسپل اور گومل یونیورسٹی ڈیرہ اسمعیل خان کے وائس چانسلر بھی رہ چکے ہیں۔

چودہ اکتوبر کو ان کی ایک ویڈیو منظر عام پر آگئی تھی جس اجمل خان نے بتایا تھا کہ ’میں اپنی وائس چانسلر برادری، اساتذہ برادری اور شاگردوں سے یہ اپیل کرتا ہوں کہ وہ حکومت پر دباؤ ڈال کر میری رہائی کے لیے کوششیں کریں۔‘

ویڈیو ٹیپ میں اجمل خان نے عوامی نیشنل پارٹی کے سربراہ اسفندیار ولی اور وزیر اعلی خیبر پختونخوا امیر حیدر ہوتی سے بھی اپیل کی تھی کہ ان کی رہائی کے لیے کوششیں تیز کریں۔ اس کے ساتھ ساتھ انہوں نے گورنر سے بھی اپیل کی تھی کہ انھیں رہا کروایا جائے۔