سوات: پھر لاشیں ملنے لگیں

پاکستان کے صوبہ خیبر پختون خوا کی وادیِ سوات میں ایک بار پھر شدت پسندوں کی لاشیں ملنے کا ایک نیا سلسلہ شروع ہوا ہے اور پچھلے چند ہفتوں کے دوران ایسے متعدد واقعات پیش آئے ہیں جن میں عسکریت پسندوں کی لاشیں سڑک کے کنارے یا بازاروں میں پڑی ہوئی ملی ہیں۔
ضلع بھر میں ایک ماہ کے دوران پندرہ سے بیس ایسی لاشیں ملی ہیں جن کے بارے میں سکیورٹی فورسز کا کہنا ہے کہ یہ تمام افراد کاروائیوں کے دوران مارے گئے ہیں تاہم مقامی لوگوں کا خیال ہے اس سے مختلف ہے۔
تاہم سوات میڈیا سنٹر کے ترجمان لفٹینٹ کرنل عارف محمود کا کہنا ہے کہ حالیہ آپریشنوں میں وہ عسکریت پسند مارے گئے ہیں جو علاقہ چھوڑ کر کہیں اور منتقل ہوئے تھے۔
انہوں نے کہا کہ جب یہ شدت پسند واپس اپنے علاقوں میں آتے ہیں تو ان کے خلاف کارروائی کی جاتی ہے جس کے دوران وہ مارے جاتے ہیں۔
ہمارے نامہ نگار رفعت اللہ اورکزئی نے بتایا کہ ترجمان نے اس بات کی سختی سے تردید کی کہ جن شدت پسندوں کی لاشیں پڑی ملتی ہیں وہ پہلے سے سکیورٹی فورسز کے تحویل میں ہوتے ہیں اور انھیں تحویل میں مارا جاتا ہے۔
ان کے مطابق ’ کارروائی کے دوران جب کوئی شدت پسند مارا جاتا ہے تو اسکی لاش اٹھانے کا کام پولیس کا ہوتا ہے اور جب تک پولیس نہیں آتی لاش وہاں پڑی رہتی ہے تاہم ایسا کبھی نہیں ہوا کہ لاش پورا دن پڑی رہی ہو۔‘

سوات میں مئی دو ہزار نو میں جب فیصلہ کن فوجی آپریشن کا آغاز ہوا تو اس کے چند ہفتوں بعد ہی پہلی مرتبہ وہاں لاشیں ملنے کا سلسلہ شروع ہوا اور ان میں زیادہ تر عسکریت پسندوں کی لاشیں ہوتی تھیں۔ اکثر اوقات ایسا ہوتا تھا کہ لوگ صبح اٹھتے تو بازاروں، چوراہوں، دریا کے کنارے اور دیگر پبلک مقامات پر لاشیں پڑی ہوتی تھیں اور ان کے ساتھ اردو زبان میں لکھی ہوئی پرچیاں بھی رکھی جاتی تھیں جن پر مرنے والا کا نام اور پتہ درج ہوتا تھا۔ اکثر اوقات یہ بھی لکھا ہوتا تھا کہ ’یہ سوات کا دشمن تھا اور اپنے انجام کو پہنچ گیا۔‘
جب ایسے واقعات میں اضافہ ہونے لگا اور پاکستان میں انسانی حقوق کی تنظیموں نے اس پر واویلہ مچانا شروع کیا اور ان ہلاکتوں کو ماورائے عدالت اور جنگی جرائم جیسی ناموں سے پکارا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
بالکل ایسی ہی صورتحال آج سے دو تین سال قبل طالبان کے وقت بھی تھی جب ہر طرف سوات میں عسکریت پسندوں کا راج تھا۔ ان دنوں سوات کے صدر مقام مینگورہ کے بازاروں سے روزانہ سربریدہ لاشیں ملتی تھی۔ طالبان اپنے مخالفین کو قتل کرکے ان کی لاشیں دن دہاڑے چوراہوں اور عوامی مقامات پر لٹکاتے تھے۔ بعض واقعات میں تو دفن شدہ لاشوں کو نکال کر ان کولٹکایا جاتا تھا۔
تاہم اب سوات میں حالات کافی حد تک بہتر ہوگئے ہیں اور زندگی پرانے معمولات کی جانب تیزی سے بڑھ رہی ہے۔ پہلے اگر اس طرح عسکریت پسندوں کی لاشیں ملتی تھیں تو لوگ بھی اس پر کسی نہ کسی حد تک خوش رہتے تھے کیونکہ عوام عسکریت پسندوں کے مظالم سے تنگ آچکے تھے۔
لیکن اب صورتحال یکسر تبدیل ہورہی ہے ۔ایسی لاشوں کو گزشتہ دو سالوں سے دیکھ دیکھ کرسواتی عوام کے اعصاب جواب دے چکے ہیں اور ان کا کہنا ہے کہ وہ مزید ایسے واقعات نہیں دیکھ سکتے اور ان کے ذہنوں میں طرح طرح کے سوالات بھی جنم لے رہے ہیں۔
اس قسم کے واقعات سے ایک ایسا تاثر یہ بھی مل رہا ہے کہ جیسےسوات میں بدستور حالات کشیدہ ہیں اور یہ بالکل ٹھیک نہیں ہوسکتے۔ عوام کا یہ بھی شکوہ ہے کہ آخر کب تک وادی میں یہ کشت و خون جاری رہے گا۔ مستقل طورپر امن کے قیام کےلیے کوششیں بھی ہوگی یا نہیں؟
اکثر تجزیہ نگاروں کا خیال ہے کہ حکومت کو وقتی طورپر تو شاہد یہ حکمت عملی درست نظرآرہی ہو لیکن مستقبل میں اس کے انتہائی بھیانک نتائج سامنے آسکتے ہیں۔

ان کے مطابق اگر عدالتوں سے عسکریت پسندوں کو موت کی سزا بھی سنائی جاتی ہے تو شاید اس پر ان کے گھر والے مطمئن ہوں لیکن اگر کسی ایسے شدت پسند کے بارے میں جس خود اس کے گھر والے کہتے ہوں کہ اسے گرفتار کیا گیا تھا اور بعد میں اسکی لاش ملتی ہے تو کیا ایسی ہلاکت اس کے گھر والے بھول جائیں گے۔
سوات میں کام کرنے والے سول سوسائٹی کے نمائندوں کا کہنا ہے کہ جو افراد حکومت کے ساتھ منسلک ہیں وہ حکومتی اہلکاروں کو ایسا تاثر دے رہے ہیں کہ جیسا سب کچھ ٹھیک جارہا ہے حالانکہ ایسا ہرگز نہیں بلکہ اب کوئی لاش ملتی ہے تو اس پر لوگوں کی رائے تبدیل ہورہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ اسکی ایک وجہ تقریباً ایک ماہ قبل انٹرنیٹ پر جاری ہونے والی وہ وڈیو بھی ہے جس میں فوجی وردی میں ملبوس افراد کو نوجوانوں کے ایک گروپ کو قتل کرتے دکھایا گیا ہے۔
یہ وڈیو دیکھ کر ایسا لگتا ہے کہ جیسے یہ سوات کے کسی علاقے میں بنائی گئی ہو۔ تاہم ابھی تک یہ بات واضح نہیں ہوسکی ہے کہ آیا یہ وڈیو اصلی ہے نقلی۔
پاکستان فوج کے سربراہ جنرل اشفاق پرویز کیانی نے چند دوز قبل اس وڈیو کی تحقیقات کےلیے ایک انکوائری بورڈ تشکیل دیا تھا لیکن ابھی تک اس سلسلے میں کوئی رپورٹ سامنے نہیں آئی ہے۔



















